وزن گھٹتا ہے تو اضافی چربی کہاں جاتی ہے

ہم میں سے اکثر لوگ جانتے ہیں کہ وزن بڑھنے کا سبب جسم کے مختلف حصوں میں جمع شدہ چربی ہوتی ہے۔ مگر جب وزن گھٹتا ہے تو یہ چربی کہاں جاتی ہے؟

اس سلسلے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ جیسے جسم کھانے پینے کی اشیاء سے کام لے کر فاضل مادوں کو پاخانے اور پیشاب کی صورت میں خارج کردیتا ہے۔ اسی طرح وزن کم ہونے پر چربی بھی پاخانے اور پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ہوجاتی ہے۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ پٹھوں میں تبدیل ہوجاتی ہے یا عارضی طور پر غائب ہوجاتی ہے۔ پھر جب ہم متحرک نہیں رہتے تو دوبارہ ظاہر ہوجاتی ہے۔

اس سب میں حقیقت کیا ہے ،یہ جاننے سے پہلے ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ چربی بنتی کیسے ہے۔

چربی کیسے بنتی ہے

جیسے ایک مشین کو کام کرنے کے لئے بجلی یا بیٹری اور گاڑی کو چلنے کے لئے پٹرول یا گیس کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی ہمارے جسم کو ہر کام کرنے کے لئے توانائی درکار ہوتی ہے۔ پھر چاہے وہ چلنا، اٹھنا، بولنا، دل کا دھڑکنا اور پھیپھڑوں کا سانس لینا ہو۔ یہ توانائی اسے کیلوریز کی صورت میں ملتی ہے جو کھانے پینے کی اشیاء میں ہوتی ہیں۔

وزن گھٹتا ہے تو چربی کہاں جاتی ہے-شفانیوز

کسی شخص کی دن بھر کی کیلوریز کی ضرورت کا انحصار اس کی عمر،جنس، وزن اور قد پر ہوتا ہے۔جب ہم اپنی ضرورت سے زیادہ کیلوریز لیتے ہیں اور یہ استعمال نہیں ہوتیں تو جسم انہیں چربی کی صورت میں محفوظ کر لیتا ہے تاکہ بعد میں بوقت ضرورت ان سے توانائی حاصل کی جاسکے۔ اگر کوئی مسلسل کھانے پینے کی غیر صحت بخش عادات اپنائے اور غیر متحرک طرز زندگی گزارے تو یہ چربی وزن بڑھانے اور صحت کے دیگر مسائل کا سبب بننے لگتی ہے۔

چربی کیسے کم ہوتی ہے

وزن گھٹانے یا اس جمع شدہ چربی کو جلانے کے لئے عموماً ورزش اور خوراک میں احتیاط تجویز کی جاتی ہے۔خوراک میں احتیاط سے مراد یہ ہے کہ اپنی دن بھر کی ضرورت کے مطابق یا اس سے کچھ کم کیلوریز لی جائیں تاکہ اضافی کیلوریز جمع نہ ہوں۔ پھر ورزش یا دیگر جسمانی سرگرمیاں کی جائیں تاکہ جسم کو توانائی کی زیادہ ضرورت پیش آئے اور وہ توانائی کے ذخائر یعنی چربی کو استعمال کرے۔

اس عمل کے دوران چربی مختلف طریقہ کار سے گزرتی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں تین چیزیں بنتی ہیں جن میں پانی، کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اور توانائی شامل ہیں۔ ان میں سے توانائی جسمانی کاموں میں استعمال ہوجاتی ہے، پانی پسینے، پیشاب، آنسوؤں یا دیگر جسمانی رطوبتوں کے ذریعے جسم سے خارج ہوجاتا ہے جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سانس کے ذریعے جسم سے خارج ہو جاتی ہے۔ یوں چربی گھٹنے کے ساتھ ساتھ وزن بھی کم ہونے لگتا ہے۔

Where Does Fat Go When You Lose Weight, What Happens to Fat When You Lose Weight, Physiological process of fat loss, weight loss process, fat burning process, science of weight loss, health, shifanews 

Vinkmag ad

Read Previous

Wool allergy

Read Next

How to treat open pores

Leave a Reply

Most Popular