ووکل کارڈز حلق میں موجود ٹشوز کی دو لچک دار پٹیاں ہیں۔ ہوا گزرنے پر یہ ارتعاش پیدا کرتی ہیں، جس سے آواز بنتی ہے۔ ووکل کارڈز کا فالج(Vocal Cord Paralysis) ایسی کیفیت ہے، جس میں ایک یا دونوں ووکل کارڈز کو حرکت دینے والے پٹھوں کا کنٹرول متاثر ہو جاتا ہے۔ اس کے باعث آواز میں تبدیلی کے ساتھ بولنے، نگلنے اور بعض صورتوں میں سانس لینے میں بھی دشواری ہو سکتی ہے۔
علامات
ایک ووکل کارڈ کا فالج زیادہ عام ہے، جبکہ دونوں ووکل کارڈز کا فالج نایاب لیکن زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ دونوں ووکل کارڈز متاثر ہونے پر سانس لینے اور نگلنے میں شدید دشواری ہو سکتی ہے۔ علامات میں شامل ہیں:
٭ آواز میں بھاری پن یا سانس کی آمیزش محسوس ہونا
٭ آواز بیٹھنا
٭ سانس لینے میں دشواری یا سانس کے ساتھ غیر معمولی آواز آنا
٭ آواز کی پچ میں کمی
٭ کھانا، مشروب یا تھوک نگلتے وقت کھانسی آنا یا دم گھٹنا
٭ بولتے وقت بار بار سانس لینے کی ضرورت پڑنا
٭ زور سے کھانسنے میں دشواری
٭ بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت محسوس ہونا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
٭ آواز بیٹھنے کی کوئی واضح وجہ نہ ہو
٭ آواز بیٹھنے یا دیگر علامات دو سے چار ہفتے تک برقرار رہیں
٭ آواز میں مسلسل تبدیلی آئے یا بولنے میں تکلیف ہو
وجوہات
ووکل کارڈز کا فالج عموماً نرخرے اور ووکل کارڈز کی حرکت کو کنٹرول کرنے والے اعصاب کے متاثر ہونے سے ہوتا ہے۔ بعض مریضوں میں اس کی وجہ معلوم نہیں ہو پاتی۔ اہم وجوہات میں شامل ہیں:
٭ گردن، تھائیرائڈ، غذائی نالی یا سینے کی سرجری کے دوران ووکل کارڈز کو کنٹرول کرنے والے اعصاب متاثر ہونا
٭ چوٹ سے ووکل کارڈز یا انہیں کنٹرول کرنے والے اعصاب کو نقصان پہنچنا
٭ دماغ کے متعلقہ حصے کو نقصان پہنچنے سے ووکل کارڈز تک پہنچنے والے عصبی پیغامات متاثر ہونا
٭ گردن، سینے یا دماغ میں موجود سرطانی یا غیر سرطانی رسولیوں کا اعصاب پر دباؤ ڈالنا
٭ لائم بیماری، ایپسٹین بار وائرس اور ہرپس جیسے بعض انفیکشن سے اعصاب متاثر ہونا۔ کووڈ-19 سے ممکنہ تعلق کے شواہد بھی موجود ہیں
٭ پارکنسن بیماری اور بعض دیگر اعصابی بیماریوں سے ووکل کارڈز کی حرکت متاثر ہونا
خطرے کے عوامل
کچھ حالات میں ووکل کارڈز کا فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جن میں شامل ہیں:
٭ گردن یا سینے کی بڑی سرجری، خاص طور پر تھائیرائڈ، گلے یا سینے کے اوپری حصے کی سرجری
٭ ایسی بیماریاں جو اعصاب اور پٹھوں کی حرکت کو متاثر کرتی ہیں
پیچیدگیاں
٭ سانس لینے میں معمولی دشواری سے لے کر سانس کی شدید رکاوٹ تک مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں
٭ ووکل کارڈز پوری طرح نہ کھلنے کی صورت میں ہوا کا راستہ تنگ ہو سکتا ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے
٭ خوراک یا مائع نگلتے وقت سانس کی نالی میں جا سکتا ہے، جسے ایسپریشن کہتے ہیں
٭ ایسپریشن کے نتیجے میں نمونیا ہو سکتا ہے، جو بعض صورتوں میں سنگین پیچیدگی بن سکتا ہے
تشخیص
ڈاکٹر علامات، آواز میں تبدیلی اور یہ مسئلہ کب سے ہے، اس بارے میں معلومات لیتا ہے۔ ووکل کارڈز کی پوزیشن اور حرکت کا جائزہ لینے کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔
لارنگوسکوپی: آئینے یا لچک دار لارنگوسکوپ کے ذریعے ووکل کارڈز کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ ویڈیو اسٹروبولارنگوسکوپی سے ان کی حرکت اور ارتعاش کا زیادہ تفصیل سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
نرخرے کی الیکٹرو مایوگرافی: اس ٹیسٹ سے نرخرے کے پٹھوں کی برقی سرگرمی کی پیمائش کی جاتی ہے اور صحت یابی کے امکانات کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔
خون کے ٹیسٹ اور سکین: وجہ معلوم کرنے کے لیے خون کے ٹیسٹ، ایکسرے، ایم آر آئی یا سی ٹی سکین کیے جا سکتے ہیں۔
علاج
علاج کا انتخاب وجہ، علامات کی شدت اور ان کے آغاز کے وقت کے مطابق کیا جاتا ہے۔
آواز کی تھراپی
آواز کی تھراپی میں ایسی ورزشیں شامل ہوتی ہیں، جو ووکل کارڈز کے کام کو بہتر بنانے اور بولنے کے دوران سانس پر کنٹرول میں مدد دیتی ہیں۔ یہ تھراپی نگلتے وقت سانس کی نالی کی حفاظت اور مفلوج ووکل کارڈز کے گرد پٹھوں کا تناؤ کم کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
سرجری
اگر ووکل کارڈز کی حرکت خود بخود بہتر نہ ہو تو آواز اور نگلنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
پٹھوں کا حجم بڑھانے والا انجیکشن
مفلوج ووکل کارڈ میں جسم کی چربی، کولیجن یا منظور شدہ فلر مادہ داخل کیا جاتا ہے، تاکہ اسے دوسرے فعال ووکل کارڈ کے قریب لایا جا سکے۔
ساختی امپلانٹ
نرخرے میں امپلانٹ لگا کر مفلوج ووکل کارڈ کو دوسرے ووکل کارڈ کے قریب لایا جاتا ہے۔ اسے تھائروپلاسٹی یا میڈیالائزیشن لارنگوپلاسٹی بھی کہا جاتا ہے۔
ووکل کارڈ کی پوزیشن تبدیل کرنا
نرخرے کے بیرونی حصے سے ٹشو کو اندر کی طرف منتقل کرکے مفلوج ووکل کارڈ کو دوسرے ووکل کارڈ کے قریب لایا جاتا ہے۔
متاثرہ عصب کی بحالی
گردن کے کسی دوسرے حصے سے صحت مند عصب کو متاثرہ عصب سے جوڑا جاتا ہے۔ اس پروسیجر کے بعد آواز بہتر ہونے میں چھ سے نو ماہ لگ سکتے ہیں۔
ٹریکیوسٹومی
دونوں ووکل کارڈز مفلوج ہونے سے سانس کا راستہ شدید تنگ ہو جائے تو گردن میں سوراخ کرکے سانس کی نالی تک ہوا کے گزرنے کا راستہ بنایا جاتا ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ووکل کارڈز کا فالج مستقل ہوتا ہے؟
ضروری نہیں۔ بعض مریضوں میں عصب کی کارکردگی بحال ہونے کے ساتھ ووکل کارڈ کی حرکت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔
دونوں ووکل کارڈز کا فالج زیادہ سنگین کیوں ہوتا ہے؟
دونوں ووکل کارڈز متاثر ہونے سے سانس کا راستہ تنگ ہو سکتا ہے، جس کے باعث سانس لینے میں شدید دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔
کیا ہر مریض کو سرجری کی ضرورت ہوتی ہے؟
نہیں، بعض مریض آواز کی تھراپی یا وقت کے ساتھ بہتر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہر مریض کو سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔
https://www.shifa.com.pk/specialities/ent/islamabad