Vinkmag ad

آرٹیریووینس فِسچولا: شریان اور رگ کے درمیان غیر معمولی راستہ

آرٹیریووینس فِسچولا (Arteriovenous fistula)  میں شریان اور رگ کے درمیان غیر معمولی راستہ بن جاتا ہے۔ فِسچولا بننے پر خون کیپلریز سے گزرنے کے بجائے براہِ راست شریان سے رگ میں چلا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فِسچولا کے آگے موجود ٹشوز کو کم خون مل سکتا ہے۔

آرٹیریووینس فِسچولا عموماً ٹانگوں میں بنتا ہے، لیکن یہ جسم کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے۔

علامات

علامات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ فِسٹولا جسم کے کس حصے میں بنا ہے۔ چھوٹے آرٹیریووینس فِسچولا میں عموماً کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں یہ ٹانگوں، بازوؤں، پھیپھڑوں، گردوں یا دماغ میں ہوسکتے ہیں۔

بڑے فِسچولا میں یہ علامات ظاہر ہوسکتی ہیں:

٭ جلد کے نیچے ابھری ہوئی جامنی رنگ کی رگیں، جو ویریکوز وینز جیسی دکھائی دیتی ہیں

٭ بازوؤں یا ٹانگوں پہ ورم

٭ بلڈ پریشر میں کمی

٭ تھکن

٭ دل کی کمزوری

پھیپھڑوں کا بڑا آرٹیریووینس فِسچولا ایک سنگین حالت ہے، جس میں یہ علامات ہوسکتی ہیں:

٭ خون میں آکسیجن کی کمی کے باعث ہونٹ یا ناخن نیلے یا براؤن ہوجانا

٭ انگلیوں کے سروں کا معمول سے زیادہ پھیل کر گول ہوجانا

٭ کھانسی کے ساتھ خون آنا

نظامِ ہاضمہ میں بننے والا آرٹیریووینس فِسچولا معدے یا آنتوں سے خون بہنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آرٹیریووینس فِسچولا کی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ بروقت تشخیص سے علاج آسان ہوسکتا ہے اور خون کے لوتھڑے یا دل کی کمزوری جیسی پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

وجوہات

آرٹیریووینس فِسچولا پیدائشی ہوسکتا ہے یا زندگی میں کسی عمر میں بن سکتا ہے۔ اس کی اہم وجوہات میں شامل ہیں:

٭ گولی، چھری یا کسی بھی چھدنے والی چوٹ کے زخم سے شریان اور رگ کے درمیان فِسچولا بن سکتا ہے، خاص طور پر جب دونوں خون کی نالیاں ایک دوسرے کے قریب ہوں

٭ بعض بچوں میں پیدائش سے پہلے  شریانیں اور رگیں درست طور پر نشوونما نہیں پاتیں

٭ پھیپھڑوں کے فِسچولا بعض جینیاتی بیماریوں کی وجہ سے ہوسکتے ہیں، جن میں جسم کی خون کی نالیاں غیر معمولی طور پر بنتی ہیں۔ ایسی ہی ایک بیماری اوسلر ویبر رینڈو(موروثی بیماری ہے جس میں خون کی نالیاں غیر معمولی طور پر بن جاتی ہیں اور آسانی سے خون بہہ سکتا ہے)، جسے موروثی ہیمرجک ٹیلنجیکٹیشیا بھی کہا جاتا ہے

٭ گردوں کی بیماری میں ڈائیلاسس آسان بنانے کے لیے بازو میں فِسچولا بنایا جاسکتا ہے

خطرے کے عوامل

کچھ جینیاتی اور پیدائشی بیماریاں آرٹیریووینس فِسچولا کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔ دیگر عوامل میں شامل ہیں:

٭ زیادہ عمر

٭ خاتون ہونا

٭ کارڈیک کیتھیٹرائزیشن، خاص طور پر جب ران کی خون کی نالیوں کے ذریعے کی جائے

٭ بعض ادویات، جن میں خون پتلا کرنے والی اور خون بہنے سے روکنے والی کچھ ادویات شامل ہیں

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ جسمانی وزن کا زیادہ ہونا

پیچیدگیاں

علاج نہ ہونے کی صورت میں آرٹیریووینس فِسچولا مختلف پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے، جن میں بعض سنگین ہوسکتی ہیں:

٭ بڑے فِسچولا میں خون معمول سے زیادہ تیزی سے بہتا ہے، جس سے دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ دباؤ دل کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے

٭ ٹانگوں کا فِسچولا خون کے لوتھڑے بننے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ لوتھڑا پھیپھڑوں تک پہنچ کر جان لیوا پلمونری ایمبولزم (پھیپھڑوں کی خون کی نالی میں خون کا لوتھڑا پھنس جانے کی حالت ہے، جس سے پھیپھڑوں تک خون کی روانی متاثر ہوتی ہے) کا باعث بن سکتا ہے۔ فِسچولا کی جگہ کے لحاظ سے فالج بھی ہوسکتا ہے

٭ فِسچولا پٹھوں تک خون کی روانی متاثر کرسکتا ہے، جس سے چلنے کے دوران ٹانگوں میں درد ہوسکتا ہے

٭ فِسٹولا معدے اور آنتوں میں خون بہنے کا سبب بن سکتا ہے

تشخیص

آرٹیریووینس فِسچولا کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر اسٹیتھواسکوپ سے بازوؤں اور ٹانگوں میں خون کے بہاؤ کی آواز سنتا ہے۔ فِسچولا میں خون کا بہاؤ بھنبھناہٹ جیسی آواز پیدا کرسکتا ہے۔

تشخیص کی تصدیق کے لیے یہ ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں:

ڈوپلیکس الٹراساؤنڈ: یہ ٹانگوں یا بازوؤں کے فِسچولا کی جانچ کا عام اور مؤثر طریقہ ہے۔ اس سے خون کے بہاؤ کی رفتار معلوم کی جاتی ہے

کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی انجیوگرام: اس ٹیسٹ سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ خون کیپلریز کو نظرانداز کرکے تو نہیں بہہ رہا۔ خون کی نالیوں کو واضح دیکھنے کے لیے رگ کے ذریعے کنٹراسٹ مادہ دیا جاتا ہے

میگنیٹک ریزوننس انجیوگرافی: جلد کے اندر گہرائی میں موجود فِسچولا کی علامات کی صورت میں یہ ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس میں مقناطیسی میدان اور ریڈیو لہروں سے جسم کے نرم ٹشوز کی تصاویر بنائی جاتی ہیں

علاج

اگرآرٹیریووینس فِسچولا چھوٹا ہو اور صحت کے دیگر مسائل پیدا نہ کررہا ہو تو صرف باقاعدہ میڈیکل نگرانی کافی ہوسکتی ہے۔ بعض چھوٹے فِسچولا بغیر علاج کے خود بھی بند ہوجاتے ہیں۔

اگر علاج ضروری ہو تو یہ طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں:

٭ الٹراساؤنڈ  ٹانگ کے ایسے فِسچولا میں استعمال کیا جاسکتا ہے جو واضح نظر آئے۔ الٹراساؤنڈ پروب سے تقریباً 10 منٹ تک فِسٹولا پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، جس سے متاثرہ خون کی نالیوں میں خون کا بہاؤ رک سکتا ہے

٭ کیتھیٹر ایمبولائزیشن میں فِسچولا کے قریب شریان میں ایک باریک اور لچک دار نلکی داخل کی جاتی ہے۔ پھر فِسچولا کی جگہ پر ایک چھوٹی کوائل یا اسٹنٹ رکھا جاتا ہے، جو خون کے بہاؤ کا راستہ تبدیل کرتا ہے

٭ بڑے فِسچولا جن کا کیتھیٹر ایمبولائزیشن سے علاج ممکن نہ ہو، ان کے لیے سرجری کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ سرجری کا طریقہ فِسچولا کے حجم اور مقام کے مطابق منتخب کیا جاتا ہے

Frequently Asked Questions (FAQs)

آرٹیریووینس فِسٹولا کیوں بنتا ہے؟

یہ پیدائشی طور پر ہوسکتا ہے یا چوٹ، بعض جینیاتی بیماریوں اور ڈائیلاسس کے لیے کی جانے والی سرجری کے بعد بن سکتا ہے۔

کیا ہر آرٹیریووینس فِسٹولا خطرناک ہوتا ہے؟

نہیں، چھوٹے فِسٹولا اکثر علامات پیدا نہیں کرتے اور صرف طبی نگرانی کافی ہوسکتی ہے۔ بڑے فِسٹولا سنگین پیچیدگیاں پیدا کرسکتے ہیں۔

ڈائیلاسس کے لیے فِسٹولا کیوں بنایا جاتا ہے؟

شدید گردوں کی بیماری میں سرجری کے ذریعے شریان اور رگ کو جوڑ کر ایسا راستہ بنایا جاتا ہے، جس سے ڈائیلاسس کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔

https://www.shifa.com.pk/specialities/general-surgery/islamabad

Vinkmag ad

Read Previous

ویسکولائٹس: خون کی نالیوں میں سوزش

Leave a Reply

Most Popular