ویسکولائٹس (vasculitis) خون کی نالیوں میں سوزش کی بیماری ہے۔ سوزش سے خون کی نالیوں کی دیواریں موٹی اور نالیاں تنگ ہو سکتی ہیں۔ اس سے خون کی روانی متاثر ہو کر اعضا اور بافتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ویسکولائٹس کی کئی اقسام ہیں اور زیادہ تر نایاب ہیں۔ یہ ایک یا کئی اعضا کو متاثر کر سکتی ہے اور مختصر یا طویل مدت تک رہ سکتی ہے۔
اقسام
٭ بہجت کی بیماری (Behcet disease) خون کی نالیوں میں سوزش کے باعث منہ اور جنسی اعضا کے زخم، آنکھوں کی سوزش ہو سکتی ہے
٭ بورگر کی بیماری (Buerger disease) عموماً ہاتھوں اور پیروں کی چھوٹی خون کی نالیوں میں سوزش اور رکاوٹ پیدا کرتی ہے
٭ ای جی پی اے (EGPA) خون کی نالیوں کی سوزش کے ساتھ دمہ اور مخصوص سفید خون کے خلیوں میں اضافے سے وابستہ ہے۔
٭ جائنٹ سیل آرٹیرائٹس (Giant cell arteritis) عموماً سر اور گردن کی بڑی شریانوں میں سوزش پیدا کرتی ہے اور بینائی متاثر کر سکتی ہے
٭ گرینولوومیٹوسس ود پولی اینجائٹس (Granulomatosis with polyangiitis) خون کی نالیوں میں سوزش کے ساتھ ناک، پھیپھڑوں اور گردوں کو متاثر کر سکتی ہے
٭ ہینوخ شون لائن پرپورا (Henoch-Schoenlein purpura) عموماً بچوں میں خون کی نالیوں کی سوزش سے جلد پر سرخ یا جامنی دھبے بناتی ہے
٭ کاواساکی بیماری (Kawasaki disease) زیادہ تر کم عمر بچوں میں شریانوں کی سوزش، بخار، دانوں اور غدود کی سوجن کا سبب بنتی ہے
٭ تاکایاسو آرٹیرائٹس ) (Takayasu’s arteritis بڑی شریانوں، خاص طور پر شہ رگ، میں سوزش پیدا کرکے خون کے بہاؤ کو متاثر کر تی ہے
علامات
عام علامات میں شامل ہیں:
٭ بخار
٭ سر درد
٭ تھکن
٭ وزن میں کمی
٭ جسم میں درد
دیگر علامات متاثرہ عضو کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں:
نظامِ ہاضمہ: کھانے کے بعد پیٹ میں درد اور پاخانے میں خون آ سکتا ہے
کان: چکر، کانوں میں آوازیں اور اچانک سماعت متاثر ہو سکتی ہے
آنکھیں: سرخی، خارش، جلن، دوہرا دکھائی دینا یا بینائی متاثر ہو سکتی ہے
ہاتھ یا پاؤں: سن پن، کمزوری، سوجن یا سختی ہو سکتی ہے
پھیپھڑے: سانس پھولنا یا کھانسی کے ساتھ خون آ سکتا ہے
جلد: سرخ دھبے، گانٹھیں یا کھلے زخم بن سکتے ہیں
وجوہات
ویسکولائٹس کی حتمی وجہ معلوم نہیں۔ بعض صورتوں میں مدافعتی نظام غلطی سے خون کی نالیوں پر حملہ کرتا ہے۔ بعض انفیکشنز، ادویات اور دیگر بیماریوں کا بھی اس سے تعلق ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر ایسی علامات ظاہر ہوں جو تشویش کا باعث بنیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بعض اقسام تیزی سے بگڑ سکتی ہیں، اس لیے بروقت تشخیص اہم ہے۔
خطرے کے عوامل
٭ عمر
٭ فیملی ہسٹری
٭ تمباکو نوشی یا کوکین کا استعمال
٭ ہیپاٹائٹس بی یا سی جیسی انفیکشنز
٭ لیوپس، ریمیٹائڈ آرتھرائٹس اور اسکلروڈرما جیسی مدافعتی بیماریاں
پیچیدگیاں
اعضا کو نقصان: بعض اقسام اہم اعضا کو نقصان پہنچا سکتی ہیں
خون کے لوتھڑے: خون کی نالی میں لوتھڑا بننے سے خون کا بہاؤ رک سکتا ہے
اینیورزم: خون کی نالی کمزور ہو کر پھول سکتی ہے
بینائی کا نقصان: علاج نہ ہونے پر جائنٹ سیل آرٹیرائٹس بینائی متاثر کر سکتی ہے
انفیکشنز: بعض ادویات مدافعتی نظام کو کمزور کرکے انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں
تشخیص
تشخیص کے لیے میڈیکل ہسٹری اور جسمانی معائنے کے ساتھ مختلف ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:
خون کے ٹیسٹ: جسم میں سوزش اور بعض مخصوص اینٹی باڈیز کی موجودگی معلوم کی جاتی ہے
امیجنگ ٹیسٹ: ایکس رے، الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور پی ای ٹی اسکین سے متاثرہ حصوں کا جائزہ لیا جاتا ہے
اینجیوگرافی: خاص رنگ دار مادے کی مدد سے خون کی نالیوں کی ساخت دیکھی جاتی ہے
بایوپسی: متاثرہ حصے سے بافتوں کا نمونہ لے کر ویسکولائٹس کی علامات دیکھی جاتی ہیں
علاج
علاج کا مقصد سوزش کو قابو کرنا اور اس کی بنیادی وجہ کا علاج کرنا ہے۔ زیادہ تر اقسام دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہیں، اس لیے طویل مدتی میڈیکل نگرانی ضروری ہو سکتی ہے۔
ادویات
کورٹیکوسٹیرائڈز، جیسے پریڈنیسولون، سوزش کم کرنے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ طویل استعمال سے وزن بڑھنے، ذیابیطس اور ہڈیوں کی کمزوری جیسے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔
ضرورت کے مطابق دیگر ادویات بھی دی جا سکتی ہیں، جن میں میتھو ٹریکسیٹ، ایزاتھایوپرین، سائکلوفاسفامائڈ، ٹوسیلی زوماب اور رٹوکسی ماب شامل ہیں۔
سرجری
اگر ویسکولائٹس سے اینیورزم بن جائے تو اسے پھٹنے سے بچانے کے لیے سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بند شریانوں میں خون کا بہاؤ بحال کرنے کے لیے بھی سرجری کی جا سکتی ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ویسکولائٹس مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے؟
بعض اقسام خود بہتر ہو سکتی ہیں، جبکہ دیگر میں سوزش قابو کرنے کے لیے طویل علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کیا ویسکولائٹس دوبارہ ہو سکتی ہے؟
جی ہاں، زیادہ تر اقسام دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہیں، جسے فلیئر کہا جاتا ہے۔
ویسکولائٹس کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ، امیجنگ، اینجیوگرافی اور بعض صورتوں میں بایوپسی کی جاتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔
https://www.shifa.com.pk/specialities/rheumatology/islamabad