Vinkmag ad

صحت کارڈ پلس میں ٹرانس جینڈرز کی شمولیت انتہائی محدود

Transgenders holding Sehat Cards

خیبرپختونخوا میں گزشتہ برس 4.86 ملین افراد نے کیش لیس طبی سہولیات سے فائدہ اٹھایا، تاہم اس میں ٹرانس جینڈرز کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کمیونٹی کے صرف 15 افراد نے اس پروگرام سے مفت علاج کی سہولت حاصل کی۔

ٹرانس جینڈرز کی صحت کارڈ پلس پروگرام میں انتہائی محدود شمولیت کی مختلف وجوہات ہیں۔ روزانہ ڈان کے مطابق اس کی ایک نمایاں وجہ ان کا خود کو بطور خواتین شناخت کرانا ہے۔ اس لیے وہ رجسٹریشن کرانے سے گریز کرتے ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم ”بلیو وِین” کے مطابق شناختی دستاویزات میں تبدیلی کی پیچیدگیاں بھی اس میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

حکام کے مطابق ٹرانس جینڈرز کے لیے مخصوص وارڈز، واش رومز اور رازداری کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ سوشل ویلفیئر اور ویمن امپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ ان کا بیمہ پریمیم بھی ادا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود صحت کارڈ پلس کی سہولت سے ان کا استفادہ انتہائی محدود رہا۔

Vinkmag ad

Read Previous

خصیوں کے کینسر میں کیموتھیراپی کے بعد طویل مدتی اثرات، تحقیق

Read Next

کم آکسیجن والے ماحول میں بلڈ شوگر بھی کم، تحقیق  

Leave a Reply

Most Popular