Vinkmag ad

برتھ کنٹرول پیچ

A woman holding a birth control patch in her palm, showing a small adhesive contraceptive patch used for hormonal pregnancy prevention

برتھ کنٹرول پیچ (Birth control patch) ہارمون پر مبنی مانع حمل طریقہ ہے جس میں ایسٹروجن اور پروجسٹن شامل ہوتے ہیں۔ یہ جلد پر لگایا جاتا ہے اور حمل سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس کا استعمال ہفتہ وار شیڈول کے مطابق کیا جاتا ہے۔ تین ہفتے (مجموعی طور پر 21 دن) تک ہر ہفتے ایک نیا پیچ لگایا جاتا ہے۔ چوتھے ہفتے پیچ استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس دوران ماہواری کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

یہ طریقہ امتزاجی مانع حمل گولیوں (combined oral contraceptive pills) کی طرح کام کرتا ہے۔ ان میں ایسٹروجن اور پروجسٹن نامی دو ہارمون شامل ہوتے ہیں۔ ہارمون خون میں شامل ہو کر انڈہ بننے کے عمل کو روکتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ سرویکل بلغم کو گاڑھا کر دیتےہیں، جس سے سپرم کا انڈے تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے استعمال کے لیے ڈاکٹری نسخہ ضروری ہے۔ یہ پیچ جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں سے حفاظت فراہم نہیں کرتا۔

مقصد اور فوائد

برتھ کنٹرول پیچ حمل سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے چند نمایاں فوائد درج ذیل ہیں:

٭ جنسی عمل کے دوران رکاوٹ یا وقفے کی ضرورت نہیں رہتی

٭ عورت اسے خود آسانی سے استعمال کر سکتی ہے۔ اس کے لیے کسی اور پر انحصار نہیں کرنا پڑتا

٭ روزانہ دوا یاد رکھنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے

٭ ہارمونز کی مستقل اور متوازن مقدار فراہم ہوتی ہے

٭ گولیاں نگلنے میں مشکل ہو تو یہ آسان متبادل ہے

٭ اسے کسی بھی وقت ہٹا کر فوری طور پر فرٹیلٹی بحال کی جا سکتی ہے

خامیاں اور احتیاطیں

یہ طریقہ ہر فرد کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔ بعض حالات میں ڈاکٹر اس کے استعمال سے منع کر سکتا ہے، جیسے:

٭ اگر عمر 35 سال یا اس سے زیادہ ہو، اور خاتون سگریٹ نوش ہو

٭ دل کی بیماری، فالج یا شدید ہائی بلڈ پریشر کی ہسٹری موجود ہو

٭ خون جمنے کے مسائل یا اس کی سابقہ ہسٹری ہو

٭ چھاتی، رحم یا جگر کے کینسر کی ہسٹری ہو

٭ وزن 90 کلوگرام سے زیادہ ہو

٭ جگر کی بیماری ہو یا مائیگرین جس میں پیشگی علامات (جیسے آنکھوں کے سامنے چمک، دھبے یا نظر کی خرابی) شامل ہوں

٭ ذیابیطس کی پیچیدہ صورتیں موجود ہوں

٭ وجائنا سے بلا سبب خون آ رہا ہو

٭ حمل کے دوران یا پہلے ہارمون کے استعمال پر یرقان ہوا ہو

٭ بڑی سرجری متوقع ہو اور جسمانی حرکت محدود ہو

٭ کچھ ایسی ادویات یا ہربز پر مبنی دوائیں استعمال کی جا رہی ہوں جو ہارمونل مانع حمل طریقے کے اثر کو کم کر سکتی ہیں

٭ پیچ کے کسی جز سے حساسیت ہو

خطرات اور ضمنی اثرات

مکمل طور پر درست استعمال کیا جائے تو حمل کا امکان بہت کم ہوتا ہے، تاہم استعمال میں غلطیوں کے باعث حمل ہو سکتا ہے۔ عام غلطیوں میں پیچ کا دیر سے تبدیل ہونا یا اس کا جلد سے الگ ہو جانا شامل ہے۔

اس کے ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس درج ذیل ہیں:

٭ خون جمنے کے خطرات، ہارٹ اٹیک، سٹروک اور ہائی بلڈ پریشر

٭ ماہواری کے درمیان میں ہلکا یا غیر معمولی خون آنا (سپاٹنگ)

٭ جلد پر جلن یا الرجی کی علامات

٭ چھاتی میں درد یا حساسیت

٭ سر درد، متلی اور پیٹ کی تکلیف

٭ موڈ میں تبدیلی اور چکر آنا

٭ وزن میں اضافہ اور تھکن

٭ ایکنی، اسہال اور پٹھوں کا کھچاؤ

٭ وجائنا میں انفیکشن یا غیر معمولی رطوبت کا اخراج

٭ جسم میں پانی کا جمع ہونا

کچھ تحقیقات کے مطابق اس سے جسم میں ایسٹروجن کی سطح نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے خون جمنے کے خطرات معمولی طور پر بڑھ سکتے ہیں۔

استعمال سے پہلے تیاری

اس کے لیے ڈاکٹری نسخہ لینا ضروری ہے۔ ڈاکٹر آپ کی میڈیکل ہسٹری اور بلڈ پریشر کا معائنہ کرتا ہے۔ آپ کے لیے اپنی تمام ادویات کے بارے میں مکمل معلومات دینا ضروری ہے۔

استعمال کا طریقہ

٭ ڈاکٹر کے مشورے سے آغاز کی تاریخ طے کریں۔ بہتر ہے کہ ماہواری شروع ہونے کے پہلے دن سے آغاز کیا جائے

٭ پیچ جسم کے صاف اور خشک حصے پر لگایا جاتا ہے، جیسے کولہا، بازو، پیٹ یا اوپری جسم

٭ چھاتی یا رگڑ والی جگہوں پر پیچ نہ لگائیں

٭ ہر پیچ 7 دن تک استعمال کیا جاتا ہے اور پھر نیا پیچ لگایا جاتا ہے

٭ اسے تین ہفتے تک ہفتہ وار تبدیل کیا جاتا ہے، اور ہر بار جگہ تبدیل کی جاتی ہے

٭ چوتھے ہفتے پیچ نہیں لگایا جاتا اور ماہواری آتی ہے

٭ اگر پیچ 24 گھنٹے سے زیادہ الگ رہے تو نیا پیچ لگائیں اور ایک ہفتہ اضافی تحفظ استعمال کریں

٭ تاخیر کی صورت میں فوری نیا پیچ لگانا اور بیک اپ طریقہ ضروری ہوتا ہے

ڈاکٹر سے رابطہ

اگر درج ذیل حالات موجود ہوں تو ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کرنا چاہیے:

٭ دودھ پلانا، حالیہ زچگی، یا حمل ضائع ہونا

٭ چھاتی میں کوئی نئی گلٹی یا تبدیلی

٭ مرگی کی ادویات کا استعمال

٭ ذیابیطس، دل، جگر یا گردوں کی بیماری

٭ کولیسٹرول یا ٹرائی گلیسرائیڈز کی زیادتی

٭ ماہواری کی بے قاعدگی

٭ ڈپریشن

٭ جلدی بیماریاں جیسے ایگزیما یا سورائسز

ڈاکٹر سے فوری رابطہ 

٭ سینے میں شدید درد یا سانس لینے میں مشکل

٭ ٹانگ میں مسلسل درد یا سوجن

٭ نظر یا بولنے میں اچانک مسئلہ

٭ سٹروک یا ہارٹ اٹیک کی علامات

٭ جلد یا آنکھوں کا پیلا ہونا

٭ شدید کمزوری، اداسی یا نیند کی خرابی

٭ شدید پیٹ درد یا چھاتی میں مستقل گلٹی

٭ حمل کی علامات یا دو ماہواری کا نہ آنا

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

Vinkmag ad

Read Previous

سکن بائیوپسی

Read Next

برونکوسکوپی

Leave a Reply

Most Popular