Vinkmag ad

برونکوسکوپی

Medical illustration showing a doctor performing flexible bronchoscopy on a patient, with a bronchoscope inserted into the airways and a monitor displaying an internal view of the bronchial tubes

برونکوسکوپی (Bronchoscopy) ایک میڈیکل پروسیجر ہے جس کے ذریعے پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ پروسیجر کے دوران ایک باریک نالی (برونکوسکوپ) ناک یا منہ کے راستے پھیپھڑوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ یہ عمل عموماً پھیپھڑوں کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر، یعنی پلمونولوجسٹ، انجام دیتے ہیں۔

برونکوسکوپی عموماً لچکدار برونکوسکوپ کے ذریعے کی جاتی ہے، تاہم بعض صورتوں میں سخت برونکوسکوپ استعمال کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ ان صورتوں میں پھیپھڑوں میں شدید خون بہنا یا سانس کی نالی میں کسی بڑی چیز کا پھنس جانا نمایاں ہیں۔

کیوں کی جاتی ہے

برونکوسکوپی کے ذریعے بلغم یا ٹشوز کے نمونے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ سانس کی نالی یا پھیپھڑوں سے بیرونی اشیاء اور رکاوٹیں ہٹائی جا سکتی ہیں۔ پھیپھڑوں کی بعض بیماریوں کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔

برونکوسکوپی کا مقصد عموماً پھیپھڑوں کے مسئلے کی اصل وجہ معلوم کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی شخص کو مسلسل کھانسی ہو یا سینے کے ایکسرے میں غیر معمولی تبدیلی نظر آئے تو ڈاکٹر برونکوسکوپی تجویز کر سکتا ہے۔

برونکوسکوپی درج ذیل مقاصد کے لیے کی جاتی ہے:

٭ پھیپھڑوں کے مسئلے کی تشخیص

٭ پھیپھڑوں کے انفیکشن کی شناخت

٭ پھیپھڑوں سے ٹشوز کا نمونہ لینا (بائیوپسی)

٭ سانس کی نالی یا پھیپھڑوں سے بلغم، بیرونی چیز یا دیگر رکاوٹ، جیسے رسولی وغیرہ کو ہٹانا

٭ سانس کی نالی کو کھلا رکھنے کے لیے ایک چھوٹی نالی (سٹنٹ) لگانا

٭ پھیپھڑوں کے مسائل کا علاج، جیسے خون بہنا، سانس کی نالی کا غیر معمولی تنگ ہونا یا پھیپھڑے کا بیٹھ جانا

بعض پروسیجرز کے دوران برونکوسکوپ کے ذریعے خصوصی آلات داخل کیے جاتے ہیں۔ ان میں بائیوپسی لینے کا آلہ، خون روکنے کے لیے الیکٹروکاٹری پروب اور سانس کی نالی میں موجود رسولی کا حجم کم کرنے کے لیے لیزر شامل ہیں۔ بائیوپسی کے نمونے درست مقام سے حاصل کرنے کے لیے خصوصی تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔

پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں میں الٹراساؤنڈ پروب سے لیس برونکوسکوپ کے ذریعے سینے کے لمف نوڈز کا معائنہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے کو اینڈوبرونکئیل الٹراساؤنڈ (ای بی یو ایس) کہا جاتا ہے، جو مناسب علاج کے انتخاب میں مدد دیتا ہے۔ ای بی یو ایس دیگر اقسام کے کینسر میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کینسر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل چکا ہے یا نہیں۔

خطرات

برونکوسکوپی کے دوران پیچیدگیاں کم ہی پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ہوں تو عموماً معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں، تاہم شاذ و نادر کیسز میں یہ سنگین بھی ہو سکتی ہیں۔ اگر سانس کی نالیاں سوزش یا بیماری سے متاثر ہوں تو پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ پیچیدگیاں پروسیجر یا استعمال ہونے والی سکون آور اور سن کرنے والی ادویات سے متعلق ہو سکتی ہیں۔

خون بہنا: اگر بائیوپسی لی گئی ہو تو خون بہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ عموماً یہ ہلکا ہوتا ہے، اور بغیر علاج کے رک جاتا ہے

پھیپھڑے کا بیٹھ جانا: نایاب صورتوں میں برونکوسکوپی کے دوران سانس کی نالی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر پھیپھڑے میں سوراخ ہو جائے تو اس کے اردگرد ہوا جمع ہو سکتی ہے۔ اس سے پھیپھڑا بیٹھ (collapsed) سکتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پھیپھڑے کا کچھ حصہ یا پورا پھیپھڑا اپنی معمول کی ہوا سے بھرنے والی حالت کھو دے اور سکڑ جائے۔ سادہ الفاظ میں، جب پھیپھڑے کے اندر یا اس کے اردگرد غیر معمولی طور پر ہوا جمع ہو جائے تو پھیپھڑا پوری طرح پھیل نہیں پاتا اور ”بیٹھ” جاتا ہے۔ عام طور پر اس مسئلے کا علاج آسانی سے ہو جاتا ہے، لیکن بعض اوقات ہسپتال میں داخلہ ضروری ہو سکتا ہے۔

بخار: برونکوسکوپی کے بعد بخار ہو جاتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ انفیکشن کی علامت نہیں ہوتا۔ اکثر صورتوں میں علاج کی ضرورت نہیں پڑتی۔

تیاری کیسے کریں

برونکوسکوپی کی تیاری میں عموماً خوراک اور ادویات سے متعلق پابندیاں شامل ہوتی ہیں۔ بعض اضافی احتیاطی تدابیر پر بھی عمل کرنا ہوتا ہے۔

خوراک اور ادویات

آپ سے کہا جا سکتا ہے کہ برونکوسکوپی سے چند دن پہلے خون پتلا کرنے والی ادویات لینا بند کر دیں۔ اس کے علاوہ پروسیجر سے چار سے آٹھ گھنٹے پہلے کچھ کھانے یا پینے سے بھی گریز کرنا ہوتا ہے۔

لباس اور ذاتی اشیا

پروسیجر کے دن آپ کو ہسپتال کا گاؤن پہننے کوکہا جاتا ہے۔ مصنوعی دانت، جزوی مصنوعی دانت یا ہٹائے جا سکنے والے ڈینٹل برج بھی نکالنا ہوتے ہیں۔ سماعتی آلہ، کانٹیکٹ لینز اور چشمہ اتارنے کی ہدایت بھی دی جا سکتی ہے۔

دیگر احتیاطی تدابیر

اگر آپ کو پروسیجر کے بعد گھر واپس جانا ہو تو کسی کو اپنے ساتھ لانا ضروری ہے۔ استعمال ہونے والی ادویات کے اثرات کی وجہ سے آپ گاڑی نہیں چلا سکیں گے۔ اس لیے بہتر ہے کہ دن کے باقی حصے میں بھی کوئی شخص آپ کے ساتھ موجود رہے۔

طریقہ کار

برونکوسکوپی عموماً کلینک یا ہسپتال کے آپریشن روم میں کی جاتی ہے۔ تیاری اور بحالی سمیت پورا عمل تقریباً چار گھنٹے لیتا ہے، جبکہ خود برونکوسکوپی عموماً 30 سے 60 منٹ تک جاری رہتی ہے۔

پہلے

آپ سے میز یا بستر پر بیٹھنے یا لیٹنے کو کہا جائے گا، جبکہ بازو جسم کے ساتھ ہوں گے۔ آپ کو مختلف مانیٹرز سے جوڑا جائے گا تاکہ طبی ٹیم دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح پر مسلسل نظر رکھ سکے۔

آپ کو آرام پہنچانے کے لیے رگ کے ذریعے سکون آور دوا دی جائے گی۔ اس سے غنودگی محسوس ہوگی، لیکن آپ بیدار رہیں گے۔ ان ادویات کے باعث اکثر افراد کو بعد میں برونکوسکوپی کی بہت کم یاد رہتی ہے۔

اینستھیٹک نامی سن کرنے والی دوا حلق میں سپرے کی جائے گی۔ بعض اوقات ناک میں اینستھیٹک جیل بھی لگائی جاتی ہے۔ یہ ادویات متعلقہ حصوں کو سن کر دیتی ہیں۔ اس سے برونکوسکوپ داخل کرتے وقت کھانسی اور الٹی جیسا احساس کم ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں دوا کا ذائقہ ناگوار محسوس ہو سکتا ہے، لیکن یہ جلد ختم ہو جاتا ہے۔

دوران

برونکوسکوپی کے دوران برونکوسکوپ ناک یا منہ کے ذریعے داخل کی جاتی ہے۔ اس کے سرے پر روشنی اور ایک نہایت چھوٹا کیمرہ لگا ہوتا ہے۔ یہ مانیٹر پر تصاویر دکھاتا ہے اور ڈاکٹر کو پروسیجر انجام دینے میں مدد دیتا ہے۔

برونکوسکوپ کو آہستہ آہستہ حلق کے پچھلے حصے، ووکل کارڈز اور پھر سانس کی نالیوں میں آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اس دوران کچھ بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے، لیکن درد نہیں ہوتا۔ طبی ٹیم آپ کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

اس دوران ٹشوز اور رطوبتوں کے نمونے لیے جا سکتے ہیں اور مختلف طبی اقدامات بھی انجام دیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر آپ سے سینے، کمر یا کندھوں میں درد کے بارے میں پوچھ سکتا ہے۔ تاہم عام طور پر درد محسوس نہیں ہوتا۔

بعد میں

برونکوسکوپی کے بعد کئی گھنٹوں تک آپ کی نگرانی کی جائے گی۔ منہ اور حلق چند گھنٹوں تک سن رہ سکتے ہیں۔ اس کا اثر ختم ہونے تک آپ کو کچھ کھانے یا پینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کا سبب خوراک یا مشروبات کو سانس کی نالی اور پھیپھڑوں میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔

جب منہ اور حلق کا سن ہونا ختم ہو جائے اور آپ دوبارہ معمول کے مطابق نگلنے اور کھانسنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کچھ پی سکتے ہیں۔ ابتدا میں پانی کے چند گھونٹ لیں، پھر نرم غذائیں، جیسے سوپ اور سیب کی چٹنی، استعمال کریں۔ اس کے بعد اپنی سہولت کے مطابق دوسری غذائیں بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔

آپ کو گلے میں ہلکی خراش، آواز میں بھاری پن، کھانسی یا پٹھوں میں درد محسوس ہو سکتا ہے۔ یہ نارمل ہے۔ نیم گرم پانی سے غرارے اور گولیاں تکلیف کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ تاہم غرارے کرنے یا گولیاں استعمال کرنے سے پہلے یہ یقینی بنائیں کہ سن ہونا مکمل طور پر ختم ہو چکا ہو۔

ڈاکٹر سے رابطہ

فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں اگر آپ:

٭ ایسا بخار محسوس کریں جو 24 گھنٹوں سے زیادہ برقرار رہے

٭ سینے میں بڑھتا ہوا درد محسوس کریں

٭ سانس لینے میں دشواری ہو

٭ کھانسی کے ساتھ اتنی مقدار میں خون آئے جو معمولی نہ ہو، یعنی صرف ہلکے دھبے نہیں بلکہ واضح اور قابلِ ذکر مقدار میں خون نکلے۔

نتائج

ڈاکٹر عموماً پروسیجر کے ایک سے تین دن بعد برونکوسکوپی کے نتائج پر آپ سے بات کرے گا۔ ان نتائج کی بنیاد پر پھیپھڑوں کے دریافت شدہ مسائل کے علاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بعض صورتوں میں مزید ٹیسٹ یا طبی اقدامات کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اگر برونکوسکوپی کے دوران بائیوپسی لی گئی ہو تو اس کا جائزہ پیتھالوجسٹ لے گا۔ چونکہ ٹشوز کے نمونوں کی خصوصی تیاری ضروری ہوتی ہے، اس لیے بعض نتائج آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ کچھ بائیوپسی نمونوں کو جینیاتی جانچ کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ اس کے نتائج آنے میں دو ہفتے یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

Vinkmag ad

Read Previous

برتھ کنٹرول پیچ

Read Next

عطیہ خون

Leave a Reply

Most Popular