فالج (Stroke) ایک ہنگامی صورتحال ہے جو دماغ کے کسی حصے تک خون کی فراہمی رکنے یا کم ہونے یا دماغ میں خون کی شریان پھٹنے کے باعث ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دماغی خلیوں کو آکسیجن اور غذائی اجزا نہیں ملتے اور وہ چند منٹوں میں متاثر ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔ فالج کا بروقت علاج دماغی نقصان اور دیگر پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
علامات
یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
٭ بولنے یا دوسروں کی بات سمجھنے میں دشواری
٭ چہرے، بازو، ٹانگ یا جسم کی ایک سائیڈ کمزور ہوجانا
٭ آنکھوں کے سامنے اچانک سے اندھیرہ جما جانا یا دھندلا دکھائی دینا
٭ اچانک سر میں شدید درد ہونا اور ساتھ قے یا چکر آنا
٭ توازن برقرار رکھنے میں مشکل ہونا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
چہرے کی ایک سائیڈ لٹک جائے، بازو اوپر نہ اٹھانے میں مشکل ہو، بولنے میں دشواری ہو، یا فالج کی کوئی اور علامت ظاہر ہو تو فوراً ایمرجنسی میں جائیں۔ اس دوران علامات ختم ہونے کا انتظار ہرگز نہ کریں۔
وجوہات
فالج کی یہ وجوہات ہو سکتی ہیں:
٭ دماغ کی شریان کا بند یا تنگ ہو جانا (اسکیمک سٹروک)
٭ دماغ میں خون کی نالی کا پھٹ جانا یا خون بہنا (ہیموریجک سٹروک)
٭ دماغ تک خون کی فراہمی کا عارضی طور پر کم یا بند ہو جانا (ٹرانزینٹ سکیمک اٹیک)
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ خون پتلا کرنے والی بعض ادویات کا استعمال
٭ خون کی نالی میں ابھار (اینیورزم)
٭ خون کی نالیوں کی بعض بیماریاں یا غیر معمولی ساخت
٭ سر پر چوٹ لگنا
خطرے کے عوامل
فالج عموماً 55 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں ہوتا ہے۔ اس کا خطرہ بڑھانے والے دیگرعوامل یہ ہیں:
٭ زیادہ وزن یا موٹاپا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی
٭ الکحل یا منشیات کا استعمال
٭ سلیپ اپنیا، ذیابیطس اور دل کی بعض بیماریاں
٭ سگریٹ نوشی یا سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونا
٭ فیملی ہسٹری
٭ COVID-19 انفیکشن
٭ مانع حمل گولیوں یا ایسٹروجن پر مشتمل ادویات کا استعمال
پیچیدگیاں
فالج کے بعد بعض افراد کو عارضی اور کچھ کو مستقل مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جن میں جسم کے کسی حصے کا مفلوج ہونا، بولنے یا نگلنے میں دشواری، یادداشت یا سوچنے کی صلاحیت میں کمی، جذباتی مسائل اور روزمرہ کاموں میں مشکلات وغیرہ شامل ہیں۔ یہ اس پر منحصر ہوتا ہے کہ کتنی دیر دماغ تک خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور دماغ کا کون سا حصہ متاثر ہوا ہے۔
تشخیص
فالج کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر جسمانی معائنہ، بلڈ ٹیسٹ، سی ٹی سکین یا ایم آر آئی وغیرہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دل اور خون کی شریانوں کی جانچ بھی کی جا سکتی ہے۔
علاج
فالج کے علاج میں یہ اپشنز استعمال کیے جاتے ہیں:
٭ خون کے لوتھڑا توڑنے یا خم کرنے والی ادویات اور پروسیجرز
٭ بہتے ہوئے خون اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے والی ادویات
٭ ذیادہ خون بہنے یا خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سرجری
٭ نارمل روٹین کی طرف کتنے کے لیے فزیوتھیراپی اور سپیچ تھیراپی
احتیاطی تدابیر
فالج کے خطرے کو کم کرنے کے لیے یہ اقدامات مفید ہو سکتے ہیں:
٭ ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھیں
٭ سگریٹ نوشی، الکحل اور منشیات سے پرہیز کریں
٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں
٭ پھلوں، سبزیوں اور متوازن غذا کا استعمال کریں
٭ باقاعدگی سے ورزش کریں
٭ سلیپ اپنیا کا علاج کروائیں
٭ سٹروک کے دوسرے اٹیک سے بچنے کے لیے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ادویات استعمال کریں
٭ فالج یا ٹرانزینٹ سکیمک اٹیک کے بعد باقاعدہ طبی معائنہ کروائیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
فالج کیا ہے؟
یہ ایک ہنگامی صرتحال ہے جس میں دماغ تک خون کی فراہمی متاثر ہو جاتی ہے۔
فالج کی عام علامات کیا ہیں؟
چہرے یا جسم کے ایک حصے میں کمزوری، بولنے میں دشواری، بینائی کے مسائل اور شدید سر درد عام علامات ہیں۔
کیا عارضی فالج بھی خطرناک ہوتا ہے؟
جی ہاں، یہ ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے اور فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
کیا فالج سے بچاؤ ممکن ہے؟
جی ہاں، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر اس سے جڑے عوامل کو کنٹرول کر کے اس کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ فالج کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔