Vinkmag ad

ٹائپ 1 ذیابیطس

Young girl undergoing a finger-prick blood sugar test for Type 1 diabetes screening

ٹائپ 1 ذیابیطس (Type 1 diabetes) کو ماضی میں جووینائل ذیابیطس یا انسولین پر منحصر ذیابیطس کہا جاتا تھا۔ یہ ایک دائمی بیماری ہے جس میں لبلبہ بہت کم انسولین بناتا ہے، یا بالکل نہیں ہوتا۔ انسولین وہ ہارمون ہے، جو شوگر (گلوکوز) کو جسم کے خلیوں میں پہنچا کر توانائی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اگرچہ یہ بیماری عموماً بچپن یا نوعمری میں ظاہر ہوتی ہے، لیکن بالغ افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ طویل تحقیق کے باوجود ٹائپ 1 ذیابیطس کا کوئی مستقل علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ تاہم انسولین، متوازن غذا، صحت مند طرزِ زندگی اور شوگر کی باقاعدہ نگرانی کے ذریعے اس پر مؤثر انداز میں قابو پا کر پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

علامات

ٹائپ 1 ذیابیطس کی علامات اچانک ظاہر ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ معمول سے زیادہ پیاس لگنا

٭ بار بار پیشاب آنا

٭ ایسے بچوں کا رات کے وقت بستر گیلا کرنا، جنہیں پہلے یہ مسئلہ نہ رہا ہو

٭ غیر معمولی طور پر زیادہ بھوک لگنا

٭ بغیر کسی کوشش کے وزن کم ہونا

٭ چڑچڑاپن یا مزاج میں تبدیلی

٭ مسلسل تھکن اور کمزوری محسوس ہونا

٭ نظر دھندلا جانا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ یا آپ کے بچے میں مذکورہ علامات میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً اپنے معالج سے مشورہ کریں۔

وجوہات

ٹائپ 1 ذیابیطس کی درست وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ عام طور پر جسم کا مدافعتی نظام، جو بیکٹیریا اور وائرس سے حفاظت کرتا ہے، غلطی سے لبلبے کے انسولین بنانے والے (آئلیٹ) خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ دیگر ممکنہ اسباب میں شامل ہیں:

٭ جینیاتی عوامل

٭ وائرس اور دیگر ماحولیاتی عوامل سے سامنا

خطرے کے عوامل

کچھ عوامل ٹائپ 1 ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ اگر والدین یا بہن بھائی میں سے کسی کو ٹائپ 1 ذیابیطس ہو

٭ بعض مخصوص جینز

٭ خطِ استوا سے دور علاقوں میں رہائش

٭ اس بیماری کے دو نمایاں ادوار ہیں۔ پہلا 4 سے 7 سال اور دوسرا 10 سے 14 سال کی عمر کے درمیان

پیچیدگیاں

ٹائپ 1 ذیابیطس کی پیچیدگیاں معذوری یا جان لیوا مسائل کا باعث بن سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ دل اور خون کی شریانوں کی بیماریاں

٭ اعصابی نقصان (نیوروپیتھی)

٭ گردوں کا نقصان (نیفروپیتھی)

٭ آنکھوں کو نقصان

٭ پاؤں کے مسائل

٭ جلد اور منہ کی بیماریاں

٭ حمل سے متعلق پیچیدگیاں

بچاؤ

فی الحال ٹائپ 1 ذیابیطس سے بچاؤ کا کوئی ثابت شدہ طریقہ موجود نہیں۔ تاہم محققین اس بیماری کی روک تھام اور نئے مریضوں میں آئلیٹ خلیوں کو مزید نقصان سے بچانے پر تحقیق کر رہے ہیں۔

تشخیص

تشخیص کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

ایچ بی اے ون سی ٹیسٹ: یہ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران خون میں شوگر کی اوسط مقدار ظاہر کرتا ہے۔ دو الگ ٹیسٹوں میں اے ون سی 6.5 فیصد یا اس سے زیادہ ہونے کو ذیابیطس تصور کیا جاتا ہے

رینڈم بلڈ شوگر ٹیسٹ: کسی بھی وقت لیے گئے خون کے نمونے میں اگر شوگر 200 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر (11.1 ملی مول فی لیٹر) یا اس سے زیادہ ہو تو یہ ذیابیطس کی علامت ہو سکتی ہے

فاسٹنگ بلڈ شوگر ٹیسٹ: رات بھر خالی پیٹ رہنے کے بعد اگر شوگر 100 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہو تو یہ معمول کی سطح ہے۔ 100 سے 125 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر پری ذیابیطس جبکہ دو الگ ٹیسٹوں میں 126 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زیادہ ہونے پر ذیابیطس کی تشخیص ہوتی ہے

اگر ذیابیطس کی تشخیص ہو جائے تو معالج آٹو اینٹی باڈیز کے خون کے ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتا ہے، تاکہ ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس میں فرق کیا جا سکے۔ پیشاب میں کیٹونز کی موجودگی بھی عموماً ٹائپ 1 ذیابیطس کی نشاندہی کرتی ہے۔

علاج

ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج میں شامل ہیں:

٭ انسولین کا استعمال

٭ کاربوہائیڈریٹس، چکنائی اور پروٹین کی مقدار کا حساب رکھنا

٭ خون میں شوگر کی باقاعدہ نگرانی

٭ صحت بخش غذا

٭ باقاعدہ ورزش اور مناسب وزن برقرار رکھنا

انسولین 

ٹائپ 1 ذیابیطس کے ہر مریض کو پوری زندگی انسولین لینا ضروری ہوتا ہے۔

انسولین کی اہم اقسام یہ ہیں:

شارٹ ایکٹنگ انسولین: تقریباً 30 منٹ بعد اثر شروع کرتی ہے۔ 90 سے 120 منٹ میں زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور 4 سے 6 گھنٹے تک اثر برقرار رہتا ہے

ریپڈ ایکٹنگ انسولین: 15 منٹ کے اندر اثر دکھاتی ہے، ایک گھنٹے میں زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور تقریباً 4 گھنٹے تک کام کرتی ہے

انٹرمیڈیٹ ایکٹنگ (این پی ایچ) انسولین: ایک سے تین گھنٹے میں اثر شروع کرتی ہے، 6 سے 8 گھنٹے میں زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور 12 سے 24 گھنٹے تک کام کرتی ہے

لانگ اور الٹرا لانگ ایکٹنگ انسولین: 14 سے 40 گھنٹے تک خون میں شوگر کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے

انسولین منہ کے ذریعے نہیں لی جا سکتی، کیونکہ معدے کے خامرے اسے بے اثر کر دیتے ہیں۔ اس لیے اسے درج ذیل طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے:

٭ انسولین انجیکشن

٭ انسولین پمپ

شوگر کی نگرانی

٭ خون میں شوگر کی باقاعدہ نگرانی ٹائپ 1 ذیابیطس کے مؤثر علاج کا بنیادی حصہ ہے

٭ ذیابیطس کے لیے کوئی مخصوص غذا نہیں، تاہم متوازن، کم چکنائی اور زیادہ فائبر والی غذاؤں کو معمول کا حصہ بنانا چاہیے۔

٭ ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں سمیت ہر فرد کے لیے باقاعدہ ایروبک ورزش ضروری ہے۔

خون میں شوگر کی کمی (ہائپوگلیسیمیا)

اس کی ابتدائی علامات میں شامل ہیں:

٭ چہرہ زرد پڑ جانا

٭ کپکپی

٭ چکر آنا

٭ زیادہ پسینہ آنا

٭ شدید بھوک لگتا، یا متلی محسوس ہونا

٭ دل کی دھڑکن تیز یا بے ترتیب ہونا

٭ توجہ مرکوز کرنے میں دشواری

٭ کمزوری اور تھکن

٭ چڑچڑاپن یا بے چینی

٭ سر درد

٭ ہونٹوں، زبان یا گال میں جھنجھناہٹ یا سن ہونا

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو ذہنی الجھن، توازن کھو دینے، بولنے میں دشواری، نظر دھندلا جانے، پٹھوں کی کمزوری، غنودگی، دورے، بے ہوشی اور شاذ و نادر صورتوں میں موت واقع ہو سکتی ہے۔

شوگر فوری بڑھانے کے لیے گلوکوز کی گولیاں، ٹافی یا پھلوں کا رس استعمال کریں۔ اگر مریض بے ہوش ہو تو انسولین یا کھانے پینے کی کوئی چیز نہ دیں۔ گلوکاگون استعمال کریں یا فوری ہنگامی طبی امداد حاصل کریں۔ گلوکاگون، جو خون میں شوگر تیزی سے بڑھانے والی ہنگامی دوا ہے، انجیکشن یا ناک کے اسپرے کی صورت میں دی جاتی ہے۔

خون میں شوگر کی زیادتی (ہائپرگلیسیمیا)

اس کی علامات میں شامل ہیں:

٭ بار بار پیشاب آنا

٭ زیادہ پیاس لگنا

٭ نظر دھندلا جانا

٭ تھکن

٭ سر درد

٭ چڑچڑاپن

اگر خون میں شوگر 240 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہو تو پیشاب میں کیٹونز کی جانچ کریں۔ اگر شوگر مسلسل 300 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ رہے یا کیٹونز زیادہ ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔

ڈایابیٹک کیٹو ایسڈوسس

جب جسم کو توانائی کے لیے گلوکوز نہیں ملتا تو وہ چکنائی توڑنا شروع کر دیتا ہے، جس سے کیٹونز بنتے ہیں۔ ڈایابیٹک کیٹو ایسڈوسس (diabetic ketoacidosis) جان لیوا طبی ہنگامی حالت ہے۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:

٭ متلی

٭ قے

٭ پیٹ میں درد

٭ سانس سے پھل جیسی میٹھی بو آنا

٭ سانس لینے میں دشواری

٭ منہ خشک ہونا

٭ شدید کمزوری

٭ ذہنی الجھن

٭ بے ہوشی

اگر کیٹو ایسڈوسس کا شبہ ہو تو پیشاب میں کیٹونز کی جانچ کریں اور فوری طبی امداد حاصل کریں۔

طرزِ زندگی اور گھریلو احتیاطی تدابیر

٭ ذیابیطس کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھنے کے لیے علاج کے منصوبے پر باقاعدگی سے عمل کریں

٭ ہمیشہ ذیابیطس کی شناختی بریسلیٹ یا کارڈ ساتھ رکھیں اور گلوکاگون کٹ دستیاب رکھیں

٭ ہر سال مکمل طبی اور آنکھوں کا معائنہ کرائیں

٭ تمام حفاظتی ٹیکے بروقت لگوائیں

٭ روزانہ پاؤں کی صفائی اور معائنہ کریں

٭ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھیں

٭ تمباکو نوشی ترک کریں

٭ اگر الکوحل استعمال کرتے ہیں تو اعتدال کے ساتھ استعمال کریں

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا ٹائپ 1 ذیابیطس مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے؟

نہیں، فی الحال ٹائپ 1 ذیابیطس کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں۔ تاہم انسولین، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور خون میں شوگر کی مسلسل نگرانی کے ذریعے اس بیماری کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

کیا ٹائپ 1 ذیابیطس صرف بچوں کو ہوتی ہے؟

نہیں، اگرچہ یہ بیماری زیادہ تر بچپن یا نوعمری میں ظاہر ہوتی ہے، لیکن بالغ افراد بھی کسی بھی عمر میں ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس میں بنیادی فرق کیا ہے؟

ٹائپ 1 ذیابیطس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے، جس کے باعث انسولین بننا بند یا بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، ٹائپ 2 ذیابیطس میں جسم انسولین تو بناتا ہے، لیکن وہ اسے مؤثر انداز میں استعمال نہیں کر پاتا یا وقت کے ساتھ انسولین کی مقدار کم ہونے لگتی ہے۔

ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریض کو فوری طور پر ہسپتال کب جانا چاہیے؟

اگر خون میں شوگر بہت زیادہ ہو، پیشاب میں کیٹونز موجود ہوں، بار بار قے ہو، سانس لینے میں دشواری، شدید کمزوری، ذہنی الجھن یا بے ہوشی کی کیفیت پیدا ہو جائے تو فوری طور پر قریبی ہسپتال یا ایمرجنسی سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ذیابیطس کیٹو ایسڈوسس جیسی جان لیوا پیچیدگی کی علامت ہو سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=endocrinologist

Vinkmag ad

Read Previous

دل کی دھڑکن اچانک رک جانا

Read Next

فالج/ سٹروک

Leave a Reply

Most Popular