Vinkmag ad

دل کی دھڑکن اچانک رک جانا

A person performing CPR on a heart patient during a medical emergency.

دل کی دھڑکن اچانک رک جانا (Sudden cardiac arrest) ایک جان لیوا ہنگامی حالت ہے۔ اس میں دل اچانک خون پمپ کرنا بند کر دیتا ہے، جس سے سانس رک جاتی ہے اور مریض بے ہوش ہو جاتا ہے۔ فوری علاج نہ ملنے پر چند منٹ میں موت واقع ہو سکتی ہے یا دماغ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دل کا دورہ (ہارٹ اٹیک) اور دل کی دھڑکن اچانک رک جانا ایک بات نہں۔ دل کا دورہ اس وقت ہوتا ہے، جب دل کو خون پہنچانے والی شریان بند ہو جائے۔ اس کے برعکس، دل کی دھڑکن اچانک رک جانا دل کے برقی نظام کی خرابی کی وجہ سے سے ہوتا ہے۔ اس خرابی کے باعث دل خون پمپ کرنا بند کر دیتا ہے، جسم کو آکسیجن نہیں ملتی اور مریض فوراً بے ہوش ہو جاتا ہے۔ دل کا دورہ بعض اوقات دل کی برقی سرگرمی کو متاثر کر کے دل کی دھڑکن اچانک  رکنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

علامات

دل کی دھڑکن اچانک  رکنے کی علامات فوری اور شدید ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ اچانک گر کر بے ہوش ہو جانا

٭ نبض ختم ہو جانا

٭ سانس بند ہو جانا

٭ ہوش ختم ہو جانا

بعض افراد میں اس سے پہلے بھی چند علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جیسے:

٭ سینے میں درد یا بے آرامی

٭ سانس لینے میں دشواری

٭ شدید کمزوری

٭ دل کی تیز، بے ترتیب یا زور دار دھڑکن محسوس ہونا

تاہم بہت سے مریضوں میں یہ کیفیت کسی پیشگی انتباہ کے بغیر بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں

اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد حاصل کریں:

٭ سینے میں درد یا دباؤ

٭ دل کی تیز یا زور دار دھڑکن محسوس ہونا

٭ دل کی بے ترتیب دھڑکن

٭ بغیر وجہ کے سانس میں سیٹی جیسی آواز آنا

٭ سانس لینے میں دشواری

٭ بے ہوش ہونا یا بے ہوش ہونے جیسا احساس ہونا

٭ چکر آنا یا سر ہلکا محسوس ہونا

اگر کوئی شخص بے ہوش ہو اور سانس نہ لے رہا ہو تو فوری طور پر ایمرجنسی سروس کو اطلاع دیں اور فوراً سی پی آر (کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن) شروع کریں۔

سی پی آر کیسے کریں

٭ اگر مریض سانس نہیں لے رہا تو اس کے سینے کے درمیان تقریباً 100 سے 120 بار فی منٹ کی رفتار سے مضبوط اور تیز دباؤ ڈالیں

٭ اگر آپ سی پی آر کے تربیت یافتہ ہیں تو ہر 30 دباؤ کے بعد مریض کو مصنوعی سانس دیں۔ اگر تربیت حاصل نہیں کی تو صرف سینے پر دباؤ جاری رکھیں۔ ہر دباؤ کے بعد سینہ مکمل طور پر اوپر آنے دیں۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں، جب تک اے ای ڈی (آٹومیٹڈ ایکسٹرنل ڈیفبریلیٹر) یا طبی عملہ نہ پہنچ جائے۔ اے ای ڈی ایک پورٹیبل آلہ ہے، جو ہوائی اڈوں، شاپنگ مالز اور دیگر عوامی مقامات پر دستیاب ہوتا ہے۔

وجوہات

درج ذیل بیماریاں اس خطرے کو بڑھاتی ہیں:

٭ دل کی شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کی بیماری

٭ دل کا دورہ

٭ دل کا غیر معمولی بڑا یا موٹا ہو جانا

٭ دل کے والوز کی بیماریاں

٭ پیدائشی دل کے نقائص

٭ دل کی برقی سرگرمی کی بیماریاں

خطرے کے عوامل

دل کی بیماری کے خطرے والے زیادہ تر عوامل دل کی دھڑکن اچانک  رکنے کے امکانات بھی بڑھاتے ہیں:

٭ فیملی میں دل کی شریانوں کی بیماری کی ہسٹری

٭ تمباکو نوشی

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ کولیسٹرول کی زیادتی

٭ موٹاپا

٭ ذیابیطس

٭ جسمانی سرگرمی کی کمی

٭ پہلے دل کی دھڑکن اچانک  رکنے کا واقعہ پیش آنا

٭ دل کے دورے کی سابقہ ہسٹری

٭ دل کی دیگر بیماریوں کی ذاتی یا فیملی ہسٹری

٭ بڑھتی عمر

٭ مرد ہونا

٭ کوکین جیسے نشہ آور مادوں کا استعمال

٭ جسم میں پوٹاشیم یا میگنیشیم کی کمی

٭ نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری

٭ گردوں کی طویل مدتی بیماری

ممکنہ پیچیدگیاں

دل بند ہونے کے بعد دماغ کو خون اور آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن جلد بحال نہ ہو تو دماغ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے یا مریض جان سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔

تشخیص

مریض کی حالت مستحکم ہونے کے بعد ڈاکٹر دل کی دھڑکن اچانک  رکنے کی وجہ جاننے کے لیے مختلف ٹیسٹ کرتے ہیں۔

ان میں شامل ہو سکتے ہیں:

٭ خون کے ٹیسٹ

٭ الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی)

٭ ایکو کارڈیوگرام

٭ ایجیکشن فریکشن  کی پیمائش، جو دل کی پمپنگ کی صلاحیت جانچنے کا ایک پیمانہ ہے

٭ سینے کا ایکسرے

٭ نیوکلیئر سکین

٭ کارڈیئک کیتھیٹرائزیشن

اگر شریان میں رکاوٹ ملے تو اسی دوران اینجیو پلاسٹی اور سٹنٹ بھی لگایا جا سکتا ہے۔

علاج

علاج کا انحصار بنیادی وجہ پر ہوتا ہے، تاہم کچھ اقدامات ضروری ہیں:

٭ فوری سی پی آر

٭ اے ای ڈی کے ذریعے برقی جھٹکا دے کر دل کی دھڑکن بحال کرنا

٭ دل کی بے ترتیب دھڑکن کے لیے ادویات

٭ رکاوٹ دور کرنے یا دل کے آلات لگانے کے لیے سرجری یا دیگر پروسیجرز

ادویات

ڈاکٹر دل کی بے ترتیب دھڑکن کو قابو کرنے والی ادویات تجویز کر سکتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق درج ذیل ادویات بھی استعمال کی جا سکتی ہیں:

٭ بیٹا بلاکرز

٭ اے سی ای انہیبیٹرز

٭ کیلشیم چینل بلاکرز

سرجری اور دیگر پروسیجرز

٭ امپلانٹیبل کارڈیوورٹر ڈیفبریلیٹر (آئی سی ڈی) لگانا

٭ کورونری اینجیو پلاسٹی

٭ کورونری آرٹری بائی پاس سرجری

٭ ریڈیو فریکوئنسی کیتھیٹر ایبلیشن

٭ پیدائشی نقائص یا دل کے والوز کی درستگی کے لیے سرجری

احتیاطی تدابیر

دل کو صحت مند رکھ کر اس خطرناک کیفیت کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے:

٭ متوازن غذا کھائیں

٭ باقاعدگی سے ورزش کریں

٭ تمباکو نوشی سے پرہیز کریں

٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں

٭ الکوحل کا استعمال محدود رکھیں

٭ ذہنی دباؤ پر قابو پائیں

٭ باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں

٭ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھیں

٭ دل کی بیماری کی بروقت سکریننگ کروائیں

اگر خاندان میں ”لانگ کیو ٹی سنڈروم” موجود ہو تو جینیاتی ٹیسٹ بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

سی پی آر کی ٹریننگ

اگر آپ کے گھر میں کوئی شخص اس بیماری کے خطرے سے دوچار ہے تو سی پی آر کی تربیت ضرور حاصل کریں۔ سی پی آر اور اے ای ڈی کے استعمال کی معلومات نہ صرف اپنے عزیز کی جان بچا سکتی ہیں بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں دوسروں کی مدد بھی کر سکتی ہیں۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا دل کی دھڑکن اچانک  رکنے کے بعد مریض مکمل صحت یاب ہو سکتا ہے؟

اگر فوری طور پر سی پی آر اور اے ای ڈی کے ذریعے علاج مل جائے تو مکمل صحت یابی کا امکان کافی بڑھ جاتا ہے۔

کیا نوجوان بھی اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

جی ہاں، پیدائشی دل کی بیماریاں یا لانگ کیو ٹی سنڈروم جیسے مسائل نوجوانوں میں بھی دل کی دھڑکن اچانک  رکنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

کیا صحت مند طرزِ زندگی اس خطرے کو کم کر سکتا ہے؟

جی ہاں، متوازن غذا، ورزش، تمباکو نوشی سے پرہیز، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول پر قابو رکھنا اس خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist

Vinkmag ad

Read Previous

سن برن

Read Next

ٹائپ 1 ذیابیطس

Leave a Reply

Most Popular