حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ قیمتیں مقرر کرنے کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
روزنامہ ڈان کے مطابق، وزیرِ اقتصادی امور احد چیمہ نے ڈریپ کو زیرِ التوا قیمتوں کے کیسز جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے منصفانہ قیمتوں کے تعین کے لیے عالمی ڈیٹا بیس سے مدد لینے کا بھی کہا۔ حکام کے مطابق، زیرِ التوا کیسز کا الگ الگ جائزہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے قیمتوں کے فارمولے پر نظرثانی میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو شامل کرنے پر زور دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، خام مال اور توانائی کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود قیمتیں طویل عرصے تک برقرار رہنے سے ادویات کی تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتِ حال میں ادویات کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
Tags: ادویات کی قیمتیں