پاکستانی خواتین میں دل کی شریانوں کے مرض سے اموات کی شرح پانچ جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین صحت نے یہ بات ورلڈ ہارٹ ڈے کے موقع پر کراچی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔ اس موقع پر ”اس کا دل بھی اہم ہے” کے عنوان سے ملک گیر مہم بھی شروع کی گئی۔
روزنامہ ڈان کے مطابق پاکستانی فارماسیوٹیکل کمپنی فارم ایوو کے زیر اہتمام پریس کانفرنس میں ماہرین نے جے اے سی سی ایشیا میں شائع تحقیق کا حوالہ دیا۔ تحقیق میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کا موازنہ کیا گیا۔ اس کے مطابق 2021 میں پاکستانی خواتین میں دل کی شریانوں کے مرض سے اموات کی شرح پانچوں ممالک میں بلند ترین رہی۔ مرض کے پھیلاؤ کے مقابلے میں اموات کا تناسب خواتین میں 4.4 فیصد اور مردوں میں 3.1 فیصد تھا۔ ماہرین نے بتایا کہ ایک طبی مرکز میں تقریباً چار فیصد حاملہ خواتین میں دل کی بیماری سامنے آئی۔ جناح ہسپتال کے ذیابیطس کلینک آنے والی 90 فیصد سے زائد خواتین میں امراضِ قلب کے خطرات موجود تھے۔
ماہرین نے بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپے اور جسمانی سرگرمی کی کمی کو اہم خطرات قرار دیا۔ انہوں نے باقاعدہ سکریننگ، ورزش اور متوازن غذا پر زور دیا۔