چین میں ریسرچرز نے الٹرا وائلٹ شعاعوں کی نشاندہی کے لیے کم لاگت سینسر ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔ پاکستانی ریسرچر ڈاکٹر علی عمران بھی اس ٹیم میں شامل ہیں۔ آپ گوانگ ژو کے نیشنل نینو ٹیک انوویشن سینٹر میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔
اے پی پی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی روایتی ڈیٹیکٹرز کے مقابلے میں کم لاگت حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق الٹرا وائلٹ شعاؤں کی نشاندہی سے متعلق اس ٹیکنالوجی میں لیتھیم نائیوبیٹ کرسٹل اور خصوصی الیکٹروڈ ڈیزائن اپنایا گیا ہے۔ یہ ڈیزائن روشنی سے پیدا ہونے والے برقی چارج کو مؤثر انداز میں جمع کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سینسر ٹیکنالوجی آگ کی نشاندہی، ماحولیاتی نگرانی اور صنعتی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یو وی سی سینسنگ جراثیم کش نظاموں میں شعاعوں کی سطح کی نگرانی میں بھی مدد دیتی ہے۔ تاہم اسے تجارتی پیمانے پر اپنانے کے امکانات کا تعین مزید تحقیق اور مینوفیکچرنگ کے بعد ہوگا۔