پاکستان میں 100 سے زائد جان بچانے والی ادویات کی قلت کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں کینسر، بلڈ پریشر اور ذیابیطس سمیت مختلف بیماریوں کی ادویات شامل ہیں۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق فارماسوٹیکل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال میں کئی ادویات کی پیداوار بتدریج بند ہوئی ہے۔ کمپنیوں نے اس کی بڑی وجہ بڑھتی پیداواری لاگت کو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ قیمتوں پر ان ادویات کی تیاری قابلِ عمل نہیں رہی۔
فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق تقریباً 105 ادویات دستیاب نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قیمتوں پر نظرثانی کی درخواستیں دو سال سے زیر التوا ہیں۔ فیصلوں میں تاخیر بھی بعض جان بچانے والی ادویات کی پیداوار بند ہونے کی وجہ بنی ہے۔
ڈرگ پرائسنگ پالیسی کے تحت ایسی درخواستوں پر 60 سے 90 دن میں فیصلہ ہونا چاہیے۔ کمپنیوں نے خبردار کیا کہ قلت کے باعث مریض جعلی یا سمگل شدہ ادویات خرید سکتے ہیں۔