امیوٹروفک لیٹرل سکلروسیس (Amyotrophic lateral sclerosis) یا اے ایل ایس اعصابی نظام کی بیماری ہے، جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے عصبی خلیوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس سے پٹھوں میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ یہ عموماً ہاتھوں، پاؤں، بازوؤں یا ٹانگوں سے شروع ہو کر بتدریج جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلتی ہے۔
علامات
اے ایل ایس کی علامات ہر فرد میں مختلف ہوتی۔ ابتدائی علامات یہ ہو سکتی ہیں:
٭ چلنے یا روزمرہ کام کرنے میں دشواری
٭ بار بار ٹھوکر لگنا یا گرنا
٭ ٹانگوں، پاؤں یا ٹخنوں میں کمزوری
٭ ہاتھوں میں کمزوری یا کام کرنے میں دقت
٭ بولنے میں لڑکھڑاہٹ یا نگلنے میں دشواری
٭ پٹھوں میں کھنچاؤ
٭ نامناسب وقت پر رونا، ہنسنا یا جمائی لینا
٭ سوچنے یا رویے میں تبدیلی
وجوہات
زیادہ تر افراد میں اے ایل ایس کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ تحقیق کے مطابق جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل مل کر اس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ تقریباً 10 فیصد افراد میں اے ایل ایس جینیاتی عوامل سے منسلک ہوتی ہے۔
اے ایل ایس دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے موٹر نیورونز کو متاثر کرتی ہے۔ یہ عصبی خلیے پٹھوں کو حرکت دینے کے پیغامات پہنچاتے ہیں۔ ان کے بتدریج ختم ہونے سے پٹھے کمزور ہوتے جاتے ہیں اور حرکت متاثر ہونے لگتی ہے۔
خطرے کے عوامل
٭ عمر بڑھنے کے ساتھ 75 سال تک اے ایل ایس کا خطرہ بڑھتا ہے، جبکہ یہ بیماری 60 سال کے بعد زیادہ عام ہوتی ہے
٭ 65 سال سے کم عمر افراد میں اے ایل ایس خواتین کے مقابلے میں مردوں میں قدرے زیادہ عام ہے
٭ شواہد کے مطابق تمباکو نوشی اے ایل ایس کے ماحولیاتی خطرے کو بڑھا سکتی ہے
پیچیدگیاں
سانس لینے میں دشواری
٭ اے ایل ایس وقت کے ساتھ سانس لینے والے پٹھوں کو کمزور کرتی ہے۔ بعض مریضوں کو رات کے وقت سانس لینے میں مدد دینے والے آلات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
سانس لینے میں انتہائی مشکل، اے ایل ایس میں موت کی سب سے عام وجہ ہے۔ علامات شروع ہونے کے بعد مریض اکثر تین سے پانچ سال تک زندہ رہتے ہیں، تاہم بعض افراد 10 سال یا اس سے زیادہ بھی زندہ رہتے ہیں۔
٭ پٹھوں کی کمزوری سے بولنے کی رفتار اور الفاظ کی ادائیگی متاثر ہوتی ہے۔
٭ نگلنے والے پٹھوں کی کمزوری سے غذائی کمی اور پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ خوراک یا تھوک کے پھیپھڑوں میں جانے سے نمونیا کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ بعض مریضوں میں فیڈنگ ٹیوب مددگار ثابت ہوتی ہے۔
٭ کچھ مریضوں کو زبان کے استعمال اور فیصلے کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ بعض افراد میں فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا (اس بیماری میں یادداشت کے بجائے ابتدا میں رویے اور زبان سے متعلق مسائل زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں) بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
تشخیص
اے ایل ایس کی تشخیص علامات، جسمانی معائنے اور دیگر بیماریوں کو خارج کرنے والے ٹیسٹوں سے کی جاتی ہے۔ ابتدائی علامات دوسری بیماریوں سے ملتی جلتی ہونے کے باعث تشخیص مشکل ہو سکتی ہے۔
٭ الیکٹرو مایوگرافی کے ذریعے پٹھوں کی برقی سرگرمی جانچ کر اعصاب یا پٹھوں کے مسئلے کا پتہ لگایا جاتا ہے
٭ اعصابی ترسیل کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں اعصاب کی پٹھوں تک برقی پیغامات پہنچانے کی صلاحیت جانچی جاتی ہے
٭ علامات کی دیگر ممکنہ وجوہات تلاش یا خارج کرنے کے لئے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں
٭ لمبر پنکچر ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں ریڑھ کی ہڈی کے اردگرد موجود مائع کا نمونہ لے کر دیگر بیماریوں کی جانچ کی جاتی ہے
٭ پٹھوں کی بایوپسی کے ذریعے پٹھوں کی بیماری کا شبہ ہونے پر پٹھے کا چھوٹا نمونہ جانچا جاتا ہے
٭ اعصاب کی بایوپسی میں اعصابی بیماری کا شبہ ہونے پر اعصاب کا چھوٹا نمونہ جانچا جاتا ہے
علاج
اے ایل ایس کا موجودہ علاج عصبی نقصان کو واپس نہیں لاتا۔ تاہم، یہ بیماری کی رفتار کم کرنے، پیچیدگیوں سے بچانے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ادویات کے ساتھ ساتھ علاج کے یہ طریقے استعمال کئے جا سکتے ہیں:
٭ سانس لینے میں مدد کے لیے وینٹی لیشن، بائی پَیپ یا سی پَیپ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ شدید صورت میں ٹریکیوسٹومی اور وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے
٭ ہلکی ورزش، اسٹریچنگ، واکر اور وہیل چیئر چلنا پھرنا برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں
٭ معاون آلات اور گھر میں ضروری تبدیلیاں روزمرہ کام محفوظ اور آسان بنانے میں مدد دیتی ہیں
٭ بولنے کو واضح بنانے اور اسمارٹ فون ایپ یا حروف تہجی کے بورڈ جیسے متبادل ذرائع سے رابطے میں مدد ملتی ہے
٭ نگلنے میں آسان غذا غذائی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتی ہے۔ شدید دشواری کی صورت میں فیڈنگ ٹیوب استعمال کی جا سکتی ہے
٭ ماہرین نفسیات اور سماجی کارکن مریض اور خاندان کو جذباتی، مالی اور عملی معاونت فراہم کر سکتے ہیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
اے ایل ایس کی ابتدائی علامات کب ظاہر ہوتی ہیں؟
ابتدائی علامات عموماً ہلکی ہوتی ہیں اور ان میں پٹھوں کی کمزوری، پھڑکنا، لڑکھڑاتی آواز یا نگلنے میں دشواری شامل ہو سکتی ہے۔
کیا اے ایل ایس صرف پٹھوں کو متاثر کرتی ہے؟
اے ایل ایس موٹر نیورونز کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں پٹھوں کی حرکت بتدریج کمزور ہوتی ہے۔
اے ایل ایس کے مریض کو کب سانس کی مدد درکار ہو سکتی ہے؟
جب بیماری سانس لینے والے پٹھوں کو متاثر کرتی ہے تو مریض کو رات کے وقت سانس کی معاون مشین کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں
https://www.shifa.com.pk/specialities/neurology/islamabad