Vinkmag ad

ہیمر ٹو اور میلیٹ ٹو: پاؤں کی مڑی ہوئی انگلیاں

A patient with hammertoe and mallet toe causing bent toes

ہیمر ٹو (Hammertoe) اور میلیٹ ٹو (Mallet toe) پاؤں کی ایسی کیفیات ہیں جن میں انگلی غیر معمولی طور پر مڑ جاتی ہے۔ دونوں میں فرق اس بات کا ہے کہ انگلی کا کون سا جوڑ متاثر ہوتا ہے۔

ہیمر ٹو میں پاؤں کی انگلی کا درمیانی جوڑ مڑ جاتا ہے۔ اس سے انگلی درمیان سے ابھری ہوئی اور نیچے کی طرف جھکی نظر آتی ہے۔ میلیٹ ٹو میں ناخن کے قریب والا جوڑ مڑ جاتا ہے۔ اس کے باعث انگلی کا آخری حصہ نیچے کی طرف جھک جاتا ہے۔ یہ دونوں کیفیات عموماً پاؤں کی دوسری، تیسری یا چوتھی انگلی کو متاثر کرتی ہیں۔

علامات

ہیمر ٹو اور میلیٹ ٹو میں ایک یا زیادہ انگلیوں کے جوڑ غیر معمولی طور پر مڑ جاتے ہیں۔ دیگر علامات یہ ہو سکتی ہیں:

٭ جوتے پہننے پر درد

٭ متاثرہ انگلی کو حرکت دینے میں دشواری

٭ انگلی اکڑ جانا

٭ جلد کی رنگت میں تبدیلی اور سوجن

٭ جوتے یا زمین سے رگڑ کے باعث انگلی پر سخت اور موٹی جلد بننا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر پاؤں کا درد مسلسل رہے اور چلنے پھرنے میں دشواری پیدا کرے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

وجوہات

ہیمر ٹو اور میلیٹ ٹو کا تعلق ان عوامل کے ساتھ ہو سکتا ہے:

نامناسب جوتے: اونچی ایڑی یا اگلے حصے سے تنگ جوتے انگلیوں کو سیدھا رہنے کے لیے مناسب جگہ نہیں دیتے۔ وقت کے ساتھ انگلی جوتا اتارنے کے بعد بھی مڑی رہتی ہے

چوٹ: انگلی پر شدید ضرب لگنے، دبنے یا ہڈی ٹوٹنے سے ہیمر ٹو یا میلیٹ ٹو کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

پٹھوں میں عدم توازن: پٹھوں کا عدم توازن ٹینڈنز اور جوڑوں پر دباؤ ڈالتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ دباؤ انگلی کو مڑنے کا سبب بن سکتا ہے

خطرے کے عوامل

بعض عوامل ہیمر ٹو اور میلیٹ ٹو کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ مثلاً:

جنس: مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ہیمر ٹو یا میلیٹ ٹو ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے

بعض بیماریاں: آرتھرائٹس اور ذیابیطس پاؤں کے مسائل کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ موروثی عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں

پیچیدگیاں

ابتدا میں متاثرہ انگلی کو سیدھا کرنا ممکن ہوتا ہے، تاہم وقت کے ساتھ ٹینڈنز اور جوڑ سخت ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں انگلی مستقل طور پر مڑی رہ سکتی ہے۔

جوتا مڑی ہوئی انگلی کے ابھرے حصے سے رگڑ کھاتا ہے۔ انگلی کی غیر معمولی پوزیشن ہڈیوں پر اضافی دباؤ بھی ڈالتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انگلی پر دردناک کارن (سخت اور موٹی جلد) بن سکتا ہے۔

بچاؤ کی تدابیر

مناسب جوتے پاؤں، ایڑی اور ٹخنے کے کئی مسائل سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔ جوتے خریدتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں:

انگلیوں کے لیے مناسب جگہ: نوک دار یا اگلے حصے سے تنگ جوتوں سے گریز کریں

کم اونچی ایڑی: اونچی ایڑی والے جوتوں سے گریز پاؤں کی انگلیوں اور کمر کے مسائل سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے

ایڈجسٹ ہونے والے جوتے: تسموں یا پٹیوں والے جوتوں کو پاؤں کے مطابق آسانی سے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے

مناسب جوتوں کے انتخاب میں یہ باتیں بھی مددگار ہیں:

دن کے اختتام پر جوتے خریدیں: دن گزرنے کے ساتھ پاؤں میں کچھ سوجن آ سکتی ہے

سائز چیک کریں: عمر کے ساتھ پاؤں کا سائز اور چوڑائی بدلتی رہتی ہے۔ دونوں پاؤں ناپ کر بڑے پاؤں کے مطابق جوتا خریدیں

شروع ہی سے مناسب جوتا خریدیں: ایسا جوتا منتخب کریں جو پہننے پر فوراً آرام دہ محسوس ہو۔ بعد میں کشادہ ہونے پر انحصار نہ کریں

تشخیص

ہیمر ٹو یا میلیٹ ٹو کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر پاؤں اور متاثرہ انگلیوں کا معائنہ کرتا ہے۔ ہڈیوں اور جوڑوں کی حالت دیکھنے کے لیے ایکس رے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ہر مریض میں ایکس رے ضروری نہیں ہوتا۔

علاج

اگر متاثرہ انگلی اب بھی سیدھی ہو تو کشادہ جوتے، خصوصی انسول یا شو پیڈز فائدہ دے سکتے ہیں۔ خصوصی انسول، شو پیڈز یا ٹیپنگ انگلی کی پوزیشن بہتر کرکے دباؤ اور درد کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ڈاکٹر انگلیوں کے پٹھوں کو کھینچنے اور مضبوط بنانے کی ورزشیں بھی تجویز کر سکتا ہے۔ ان میں انگلیوں سے چھوٹی گولیاں اٹھانا یا تولیے کو انگلیوں سے سمیٹنا شامل ہے۔

اگر ان طریقوں سے فائدہ نہ ہو تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ سرجری میں انگلی کو مڑے رکھنے والے ٹینڈن کو ڈھیلا کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں انگلی سیدھی کرنے کے لیے ہڈی کا چھوٹا حصہ بھی نکالا جاتا ہے۔

طرز زندگی اور گھریلو تدابیر

مناسب جوتے پاؤں کے درد اور انگلیوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ کم اونچی ایڑی اور اگلے حصے سے کشادہ جوتے پہنیں۔ جوتے کا مواد بھی قدرے لچک دار ہونا چاہیے۔

سب سے لمبی انگلی اور جوتے کے اگلے سرے کے درمیان تقریباً آدھا انچ (1.27 سینٹی میٹر) جگہ رکھیں۔ یہ جگہ انگلیوں پر دباؤ اور درد کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

ہیمر ٹو اور میلیٹ ٹو میں کیا فرق ہے؟

ہیمر ٹو میں انگلی کا درمیانی جوڑ مڑتا ہے، جبکہ میلیٹ ٹو میں ناخن کے قریب والا جوڑ مڑ جاتا ہے۔

کیا تنگ جوتے ہیمر ٹو اور میلیٹ ٹو کا سبب بن سکتے ہیں؟

جی ہاں۔ تنگ یا اونچی ایڑی والے جوتے انگلیوں پر دباؤ بڑھا کر ان کیفیات کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

کیا ہیمر ٹو خود بخود ٹھیک ہو سکتا ہے؟

ابتدائی مرحلے میں انگلی لچک دار ہو سکتی ہے۔ مناسب جوتوں، خصوصی انسول (جوتے کے اندر لگائے جانے والے پیڈ) اور ورزش سے علامات میں بہتری آ سکتی ہے۔

کیا ہیمر ٹو اور میلیٹ ٹو کے لیے سرجری ضروری ہے؟

ہر مریض کو سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دوسرے طریقوں سے فائدہ نہ ہونے پر ڈاکٹر سرجری تجویز کر سکتا ہے۔

ہیمر ٹو اور میلیٹ ٹو سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

انگلیوں کے لیے مناسب جگہ والے جوتے پہنیں۔ نوک دار، تنگ اور زیادہ اونچی ایڑی والے جوتوں سے گریز کریں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic

Vinkmag ad

Read Previous

پاکستانی خواتین میں دل کے امراض، اموات کی شرح خطے میں بلند ترین

Read Next

ہیلیٹوسس :منہ کی بدبو

Leave a Reply

Most Popular