سائنسدان جیلی فش کی دوبارہ جوان ہونے کی صلاحیت سے انسانی خلیوں کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کا مقصد بڑھتی عمر کے ساتھ ٹشوز کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے طریقے تلاش کرنا ہے۔
ٹوریٹوپسس ڈوہرنائی نامی جیلی فش چوٹ، بھوک یا دباؤ کے بعد بالغ شکل کھو دیتی ہے۔ یہ سکڑ کر خلیوں کا ایک چھوٹا سا گولا بن جاتی ہے۔ اس دوران بالغ خلیے اپنی مخصوص شناخت بدل کر دوسری اقسام کے خلیے بناتے ہیں۔ پھر پولپس بنتے ہیں، جو کسی سطح سے چپکے رہنے والے ننھے جاندار ہوتے ہیں۔ ان سے نئی جیلی فش پیدا ہوتی ہیں، یوں زندگی کا سائکل دوبارہ شروع ہوتا ہے۔
ماہرین انسانی خلیوں میں بھی اس حیاتیاتی عمل کو متحرک کرنے کے امکانات جانچنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اس تحقیق کا عملی فائدہ ابھی دور ہے۔ اس سے بڑھاپا روکنے کا کوئی علاج ثابت نہیں ہوا۔ متعلقہ جینیاتی تحقیق 2022 میں جریدے ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔