Vinkmag ad

عطیہ شدہ خون محفوظ بنانے کی ٹیکنالوجی، ٹرائل کا بنیادی ہدف حاصل

A hand handling donated blood bags in storage racks for blood transfusion, illustrating blood safety.

سائنس دانوں نے خون میں جراثیم کا خطرہ کم کرنے والی ٹیکنالوجی کا کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ ٹرائل میں اس عمل کے بعد عطیہ شدہ سرخ خلیے روایتی خلیوں جتنے ہی مؤثر ثابت ہوئے۔

رائٹرز کے مطابق انٹرسپٹ ٹیکنالوجی وائرس، بیکٹیریا اور دیگر جراثیم کو غیر فعال کرنے کے لیے ہے۔ ٹرائل کا بنیادی ہدف یہ جانچنا تھا کہ اس عمل کے بعد سرخ خلیوں کی اثرپذیری برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ کمپنی کے مطابق خون لگنے کے بعد ہیموگلوبن میں اضافے کے موازنے سے یہ ہدف حاصل ہوگیا۔

سیرس کمپنی کے مطابق ان خلیوں اور روایتی سرخ خلیوں کو وصول کرنے والے مریضوں کا موازنہ کیا گیا۔ علاج سے متعلق مضر اثرات میں کوئی نمایاں شماریاتی فرق سامنے نہیں آیا۔ چند مریضوں میں اس ٹیکنالوجی سے متعلق مخصوص اینٹی باڈیز عارضی طور پر بنیں، تاہم ان سے سرخ خلیوں کی تباہی یا کوئی طبی نقصان نہیں ہوا۔

امریکا میں اس طریقے سے جراثیم کا خطرہ کم کیے گئے سرخ خلیوں کا استعمال تجرباتی ہے۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ان کے استعمال کی ابھی منظوری نہیں دی۔

Vinkmag ad

Read Previous

دنیا بھر میں ٹین ایجرز کی جسمانی سرگرمیاں کم، لڑکیاں مزید پیچھے

Read Next

انرجی ڈرنکس نوجوانوں کے دل کے لیے خطرناک، تحقیق

Leave a Reply

Most Popular