Vinkmag ad

وٹامن ڈی کیوں ضروری ہے

اگر آپ کی ہڈیوں میں درد ہوتا ہے، کمزوری محسوس ہوتی ہے یا آپ جلدی تھک جاتے ہیں تو اس کی ایک وجہ ٹامن ڈی کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ وٹامن بہت ہی سستا نہیں بلکہ مفت دستیاب ہے۔ یہ غذا سے زیادہ سورج کی روشنی سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے سن شائن وٹامن بھی کہا جاتا ہے۔

وٹامن ڈی کی اہمیت

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہڈیوں کا تعلق تو کیلشیم اور فاسفورس سے ہوتا ہے۔ پھر اس میں وٹامن ڈی کا کیا کام ہے؟ دراصل یہ دونوں چیزیں وٹامن ڈی کی عدم موجودگی میں ہڈیوں میں جذب نہیں ہو سکتیں۔ اسی لیے بعض اوقات دودھ باقاعدگی سے پینے کے باوجود اس وٹامن کی کمی کے شکار افراد کی ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور ان میں درد رہتا ہے۔

یہ وٹامن انتڑیوں کے اندر کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، فاسفیٹ اور زنک جذب کرنے میں مدد دیتا، اعصابی نظام اور بیماریوں کے خلاف دفاعی نظام کو بہتر کرتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی ہو تو اس کی ایک علامت انفیکشن کا بار بار ہونا بھی ہے۔

دھوپ سے بہتر استفادہ کیسے

دھوپ سے کم وقت میں زیادہ فائدہ حاصل کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سردیوں میں صبح 10 سے دوپہر 3 بجے کے درمیان 15 سے 30 منٹ یا ہفتے میں دو دن جسم کا بڑا حصہ بغیر کسی رکاوٹ کے دھوپ میں موجود ہو۔ مثلاً اگر ہم دھوپ کی طرف پشت کرکے بیٹھیں تو جسم زیادہ وٹامن ڈی بنائے گا اور چہرہ اور بازو وغیرہ بھی دھوپ کے مضر اثرات سے محفوظ رہیں گے۔ ایسے ہمارے جسم میں 10,000 سے25,000 آئی یو وٹامن ڈی کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ آئی یو وٹا من ڈی کی پیمائش کا پیمانہ ہے۔

ہلکی دھوپ کی نسبت تیز دھوپ کے اوقات میں جسم زیادہ بہتر طور پر وٹامن ڈی بناتا ہے۔ اسی طرح گہری اور سانولی رنگت کے مقابلے میں گوری یا گندمی کی جلد زیادہ جلدی وٹامن ڈی بناسکتی ہے۔

غذاؤں میں وٹامن ڈی

غذا میں بھی یہ وٹامن ہوتا ہے لیکن اس میں اس کی بہت تھوڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے حصول کے لیے صرف غذا پر مکمل انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ سبزیوں ،پھلوں اور اجناس مثلاً دالوں اور گندم وغیرہ میں تو اس کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مچھلی، انڈے کی زردی اور دودھ کی بنی ہوئی چیزوں میں اس کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔

کچھ اجزاء اس کے جذب ہونے کے عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کی چند مثالیں یہ ہیں:

٭ بوران ایک منرل ہے جو خشک میوہ جات جیسے کھجور، بادام اور کشمش وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ یہ وٹامن ڈی کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

٭ وٹامن کے (ہرے پتوں والی سبزیوں کا اہم جزو) اور زنک، وٹامن ڈی کے جذب ہونے کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔

وٹامن ڈی کی زیادتی کے نقصانات

اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت سے لوگ ازخود سپلی منٹس استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس وٹامن کی زیادتی سے قبض، ہائی بلڈپریشر، متلی، قے اور بے چینی جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اس کی زیادتی وٹامن کی حامل غذائیں زیادہ کھانے یا سورج کی روشنی میں زیادہ بیٹھنے سے نہیں ہوتی۔ ایسا ضرورت سے زیادہ سپلی منٹس لینے سے ہوتا ہے۔ اس لیے ماہر غذائیات یا ڈاکٹر کی رائے کے بغیر انہیں استعمال نہ کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

پنجاب میں نسخے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس کی فروخت پر پابندی

Read Next

وٹامن ڈی کی کمی

Leave a Reply

Most Popular