Vinkmag ad

ہائپر یوریسیمیا: یورک ایسڈ کی زیادتی

Doctor examining a patient showing symptoms of high uric acid, including joint pain and possible gout signs during medical consultation.

ہائپر یوریسیمیا (Hyperuricemia) سے مراد خون میں یورک ایسڈ کا زیادہ ہونا ہے۔ یورک ایسڈ پیورین (Purine) کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔ یہ ایک قدرتی کیمیائی مادہ ہے جو جسم میں پایا جاتا ہے اور کچھ غذاؤں میں بھی موجود ہوتا ہے۔ اگر غذا میں پیورین زیادہ مقدار میں لیا جائے تو یورک ایسڈ بھی بڑھ سکتا ہے، جو بعض اوقات گاؤٹ یا گردوں کے مسائل کا باعث بنتا ہے۔

خون یورک ایسڈ کو گردوں تک پہنچاتا ہے جو اس کا زیادہ تر حصہ پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتے ہیں۔ زیادہ تر افراد میں اس کی بلند سطح کے باوجود کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

وجوہات

خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی اس وقت ہوتی ہے جب جسم اسے زیادہ بنائے یا مناسب مقدار میں خارج نہ کر سکے۔ بعض اوقات دونوں عوامل ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ کچھ عوامل یہ ہیں:

٭ پیشاب آور ادویات ، جنہیں واٹر پلز بھی کہا جاتا ہے

٭ زیادہ شراب نوشی

٭ زیادہ سوڈا مشروبات پینا یا فریکٹوز (شوگر) سے بھرپور غذائیں زیادہ کھانا

٭ موروثی یا جینیاتی عوامل

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات

٭ گردوں کی کارکردگی میں کمی

٭ لیوکیمیا (خون کا کینسر)

٭ میٹابولک سنڈروم

٭ وٹامن بی-3، نیاسن (Niacin) کا زیادہ استعمال

٭ موٹاپا

٭ پولی سائیتھیمیا ویرا، خون کی ایک نایاب بیماری جس میں جسم ضرورت سے زیادہ سرخ خلیے بناتا ہے۔

٭ چنبل (سورائسز)

٭ پیورین سے بھرپور غذائیں، مثلاً کلیجی، جنگلی جانوروں کا گوشت، اینچوویز اور سارڈینز۔ اینچوویز اور سارڈینز چھوٹی سمندری مچھلیاں ہیں جو عموماً نمکین یا ڈبہ بند شکل میں استعمال ہوتی ہیں اور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں۔

٭ ٹیومر لائسز سنڈروم، ایک ایسی حالت جس میں کینسر کے خلیے یا ان کے علاج کے دوران کینسر کے خلیے تیزی سے ٹوٹ کر خون میں شامل ہو جاتے ہی

کینسر کے مریضوں میں کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کے دوران یورک ایسڈ کی سطح کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

یورک ایسڈ کی بلند سطح بذات خود کوئی بیماری نہیں ہے اور اکثر اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ تاہم گاؤٹ یا مخصوص قسم کی گردے کی پتھری کی صورت میں ڈاکٹر اس کی جانچ کر سکتا ہے۔ اگر کسی دوا کے باعث یورک ایسڈ کی سطح بڑھنے کا شبہ ہو تو معالج سے مشورہ کریں، تاہم ادویات اس وقت تک بند نہ کریں جب تک ڈاکٹر واضح ہدایت نہ دے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=rheumatologist

Vinkmag ad

Read Previous

پیلی زبان

Read Next

ایریتھرو سائٹوسس: خون میں سرخ خلیے بڑھ جانا

Leave a Reply

Most Popular