بلڈ ٹیسٹ میں بعض اوقات ہیموگلوبن کاؤنٹ زیادہ (High hemoglobin count) آتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خون کے خلیوں میں ایک اہم پروٹین ”ہیموگلوبن” کی مقدار معمول سے زیادہ ہے۔ ہیموگلوبن پورے جسم میں آکسیجن پہنچاتا ہے۔ خون کا سرخ رنگ اسی کی وجہ سے ہے۔
ہیموگلوبن کی پیمائش گرام فی ڈیسی لیٹر (g/dL) میں کی جاتی ہے۔ ہائی ہیموگلوبن کی حد مختلف لیبارٹریوں میں کچھ مختلف ہو سکتی ہے۔ مردوں میں 16.6 سے زیادہ اور خواتین میں 15 سے زیادہ ہیموگلوبن کو بالعموم ہائی سمجھا جاتا ہے۔ بچوں میں اس کی حد عمر اور جنس کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔
ہیموگلوبن کی مقدار کو متاثر کرنے والے دیگر عوامل میں شامل ہیں:
٭ دن کا وقت
٭ جسم میں پانی کی مقدار
٭ سطح سمندر سے بلندی
وجوہات
ہیموگلوبن اس وقت ہائی ہوتا ہے جب جسم کو آکسیجن کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی ضرورت ان وجوہات کی بنا پر پڑتی ہے:
٭ تمباکو نوشی خون کی گردش متاثر کرتی ہے۔ اس سے دل اور پھیپھڑوں تک کم آکسیجن پہنچتی ہے
٭ سطح سمندر سے زیادہ بلندی پر رہنا، اس لیے کہ وہاں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی ہے
ہائی ہیموگلوبن ان وجوہات سے بھی ہو سکتا ہے، تاہم ایسا بہت کم ہوتا ہے:
٭ دل یا پھیپھڑوں کی بیماری کی وجہ سے آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ اسے پورا کرنے کیلئے جسم خون کے سرخ خلیے زیادہ بناتا ہے
٭ ہڈیوں کا گودا سرخ خلئے ضرورت سے زیاد بنانا شروع کر دیتا ہے
کچھ دواؤں یا ہارمونز کے سبب جسم خون کے سرخ خلیے زیادہ بنانے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر جن مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کم ہوتے ہیں، انہیں ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھیراپی دی جاتی ہے۔ اس کا ایک ممکنہ ضمنی اثر ہائی ہیموگلوبن بھی ہو سکتا ہے۔
اگر ہائی ہیموگلوبن کے ساتھ دوسرے تشویشناک ٹیسٹ رزلٹس نہ ہوں تو عموماً اس کے پیچھے کوئی سنگین بیماری نہیں ہوتی۔ تاہم، صحت کے کچھ مسائل ہائی ہیموگلوبن کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان میں نمایان مسائل یہ ہیں:
٭ بالغوں میں دل کی پیدائشی بیماری
٭ سی او پی ڈی، جو پھیپھڑوں کی ایک طویل مدتی بیماری ہے
٭ ڈی ہائیڈریشن، یعنی جسم میں پانی اور ضروری مائع جات کی کمی
٭ ایمفیسیما (Emphysema)، جو پھیپھڑوں کی ایک بیماری ہے اور سانس پھولنے کا سبب بنتی ہے
٭ ہارٹ فیلیئر، جس میں دل خون کو صحیح طرح سے پمپ نہیں کر پاتا
٭ گردوں کا کینسر
٭ جگر کا کینسر
٭ پولی سائیتھیمیا ویرا (Polycythemia vera) جو خون کے کینسر کی ایک قسم ہے
٭ آبسٹرکٹِو سلیپ ایپنیا (Obstructive sleep apnea)، جو نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری ہے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
ہائی ہیموگلوبن کچھ علامات پیدا کر سکتا ہے۔
٭ اگر آپ کو نظر کے مسائل، چکر آنے، سر درد، یا بولنے میں دقت محسوس ہو تو بلاتاخیر ڈاکٹر سے رابطہ کریں
٭ مذکورہ علامات کئی دیگر وجوہات کی بنا پر بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس لیے حتمی فیصلہ دیگر عوامل اور لیب ٹیسٹوں کی بنیاد پر ڈاکٹر ہی کرے گا۔
٭ ہائی ہیموگلوبن اکثر کسی عام بلڈ ٹیسٹ یا کسی اور بیماری کی جانچ کے دوران سامنے آتا ہے۔ اس لیے حتمی وجہ معلوم کرنے کیلئے ڈاکٹر مزید ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے
علاج
ہائی ہیموگلوبن کاؤنٹ کی صورت میں علاج کا فیصلہ اس کے سبب کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔