امریکہ نے جمعرات کو ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کووِڈ۔19 کے دوران ادارے کی ناکامیوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں صدارت کے پہلے دن ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے علیحدگی کا نوٹس دیا تھا۔
امریکہ کے مطابق وہ محدود تعاون جاری رکھے گا، تاہم دوبارہ شمولیت یا مبصر کی حیثیت اختیار نہیں کرے گا۔ اس کے بجائے وہ بیماریوں کی مانیٹرنگ اور صحتِ عامہ کے منصوبوں پر براہِ راست کام کرے گا۔
قانونی تنازع کے باعث امریکہ نے 2024 اور 2025 کے تقریباً 260 ملین ڈالر واجبات ادا نہیں کیے۔ امریکہ کی علیحدگی سے ڈبلیو ایچ او کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ ادارے کی انتظامی ٹیم آدھی کر دی گئی اور بجٹ بھی کم کر دیا گیا ہے۔ عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام بیماریوں کی روک تھام اور عالمی صحت کے نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔