Vinkmag ad

گلوکوز ٹالرنس ٹیسٹ

Healthcare professional holding a test tube containing a blood sample for an Oral Glucose Tolerance Test (OGTT)

گلوکوز ٹالرنس ٹیسٹ (Glucose tolerance test) جسم میں شوگر (گلوکوز) کے رسپانس کی پیمائش کرتا ہے۔ اسے اورل گلوکوز ٹالرنس ٹیسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بالعموم علامات ظاہر ہونے سے پہلے ٹائپ 2 ذیابیطس اور پری ذیابیطس کی سکریننگ کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ علامات ذیابیطس سے متعلق ہیں یا نہیں۔ حمل کے دوران اس ٹیسٹ کا استعمال زیادہ عام ہے۔

کیوں کیا جاتا ہے

خوراک ٹوٹ پھوٹ کر شوگر میں تبدیل ہوتی ہے، اور پھر خون میں شامل ہو کر جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ پری ڈایابیٹیز اور ذیابیطس میں یہی شوگر خون میں غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ گلوکوز ٹالرنس ٹیسٹ اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ جسم شوگر کو کس طرح استعمال اور کنٹرول کرتا ہے۔

خطرات

خون کا نمونہ لینے کے خطرات عام طور پر معمولی ہوتے ہیں۔ ممکنہ اثرات میں نیل پڑنا، ہلکا خون بہنا یا چکر آنا شامل ہیں۔ شاذ و نادر صورتوں میں معمولی انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔

تیاری

خوراک اور ادویات

ٹیسٹ سے پہلے کے دنوں میں معمول کے مطابق خوراک اور مشروبات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اگر بیماری ہو یا کوئی دوا استعمال ہو رہی ہو تو طبی ٹیم کو ضرور آگاہ کریں کیونکہ یہ نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

پروسیجر

پہلے

ٹیسٹ سے آٹھ گھنٹے پہلے فاسٹنگ ضروری ہوتی ہے۔ اس دوران سادہ پانی کے علاوہ کچھ کھانے پینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اکثر افراد ٹیسٹ صبح کے وقت اور رات بھر فاسٹنگ کے بعد کرواتے ہیں۔

دوران

ٹیسٹ کلینک، ہسپتال یا لیبارٹری میں کیا جاتا ہے۔ بازو کی رگ سے خون کا نمونہ لیا جاتا ہے تاکہ فاسٹنگ بلڈ شوگر لیول معلوم کیا جا سکے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس اور پری ذیابیطس

٭ مریض 75 گرام شوگر پر مشتمل گلوکوز محلول پیتا ہے

٭ ایک اور دو گھنٹے بعد خون کے نمونے لے کر بلڈ شوگر لیول چیک کیا جاتا ہے

٭ اسے عام طور پر دو گھنٹے کا گلوکوز ٹالرنس ٹیسٹ کہا جاتا ہے

دوران حمل ذیابیطس

یابیطس کی سکریننگ عموماً 24 سے 28 ہفتوں کے حمل کے دوران کی جاتی ہے۔ زیادہ تر دو مرحلوں پر مشتمل طریقہ استعمال ہوتا ہے، جس میں فاسٹنگ ضروری نہیں ہوتی۔

٭ پہلے خون کا نمونہ لے کر بلڈ شوگر لیول چیک کیا جاتا ہے

٭ پھر 50 گرام شوگر والا گلوکوز محلول دیا جاتا ہے

٭ ایک گھنٹے بعد دوبارہ خون لے کر شوگر لیول ماپا جاتا ہے

اگر نتیجہ زیادہ آئے تو اگلا مرحلہ تین گھنٹے کا ٹیسٹ ہوتا ہے:

٭ پہلے آٹھ گھنٹے فاسٹنگ کی جاتی ہے اور خون لیا جاتا ہے

٭ پھر 100 گرام شوگر والا محلول پیا جاتا ہے

٭ ایک، دو اور تین گھنٹے بعد بلڈ شوگر لیول چیک کیا جاتا ہے

کم صورتوں میں ایک مرحلے والا دو گھنٹے کا ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے، جس میں 75 گرام شوگر استعمال ہوتی ہے۔

ٹیسٹ کے بعد

ٹیسٹ کے بعد مریض فوراً اپنی معمول کی سرگرمیاں شروع کر سکتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر سے رابطہ کریں اگر:

٭ شدید درد ہو

٭ بخار ہو

٭ خون لینے والی جگہ پر سوجن، رنگت کی تبدیلی یا رطوبت خارج ہو

نتائج

نتائج ملی گرام فی ڈیسی لیٹر (ایم جی/ڈی ایل) یا ملی مول فی لیٹر (ایم ایم او ایل/ایل) میں ہوتے ہیں۔

ٹائپ 2 ذیابیطس اور پری ذیابیطس

دو گھنٹے بعد نتائج کی تشریح

٭ 140 ایم جی/ڈی ایل سے کم نارمل شوگر لیول ہے

٭ 140 سے 199 ایم جی/ڈی ایل پری ڈایابیٹیز کی علامت ہے

٭ 200 ایم جی/ڈی ایل یا اس سے زیادہ ذیابیطس کی نشاندہی کرتا ہے

نتائج کی تصدیق کے لیے ٹیسٹ دوبارہ کیا جا سکتا ہے، یا اضافی بلڈ ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ ادویات، بیماری اور جسمانی سرگرمی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

دوران حمل ذیابیطس

سکریننگ میں ہر مرحلے کے نتائج کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے۔

ایک گھنٹے کا ٹیسٹ

٭ 190 ایم جی/ڈی ایل یا زیادہ نتیجہ حمل کی ذیابیطس کی نشاندہی کرتا ہے

٭ 140 ایم جی/ڈی ایل سے کم عموماً نارمل سمجھا جاتا ہے

تین گھنٹے کا ٹیسٹ

٭ فاسٹنگ 95 ایم جی/ڈی ایل یا کم ہونی چاہیے

٭ ایک گھنٹے بعد 180 ایم جی/ڈی ایل یا کم

٭ دو گھنٹے بعد 155 ایم جی/ڈی ایل یا کم

٭ تین گھنٹے بعد 140 ایم جی/ڈی ایل یا کم

اگر ایک یا زیادہ نتائج حد سے اوپر ہوں تو ڈاکٹر خوراک، نگرانی یا مزید سکریننگ تجویز کر سکتا ہے۔ اگر دو یا زیادہ نتائج غیر معمولی ہوں تو حمل کی ذیابیطس کی تشخیص کی جاتی ہے۔

کم استعمال ہونے والا دو گھنٹے کا ٹیسٹ 

٭ فاسٹنگ 92 ایم جی/ڈی ایل یا زیادہ

٭ ایک گھنٹے بعد 180 ایم جی/ڈی ایل یا زیادہ

٭ دو گھنٹے بعد 153 ایم جی/ڈی ایل یا زیادہ

اگر حمل کی ذیابیطس کی تشخیص ہو جائے تو پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بروقت کنٹرول اور مانیٹرنگ سے ان خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=endocrinologist

Vinkmag ad

Read Previous

فیریٹِن ٹیسٹ: آئرن کے ذخیرے کا اندازہ

Read Next

جینیاتی ٹیسٹنگ

Leave a Reply

Most Popular