جینیاتی ٹیسٹنگ (Genetic testing) ڈی این اے کا تجزیہ کرتی ہے، جو جسم کے کام کرنے کی بنیادی ہدایات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ ٹیسٹ جینز میں ہونے والی ایسی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے جو انسانی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ طبی ماہرین اسے بیماری کی تشخیص، علاج کے انتخاب اور اس کے ممکنہ اثرات جانچنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
مکمل جینوم سیکوینسنگ
جینیاتی ٹیسٹنگ اگرچہ اہم طبی معلومات فراہم کرتی ہے، تاہم اس کی کچھ حدود بھی ہوتی ہیں، مثلاً
٭ مثبت نتیجہ ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا کہ بیماری لازمی طور پر لاحق ہوگی
٭ منفی نتیجہ اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ بیماری کبھی پیدا نہیں ہوگی
جب جینیاتی ٹیسٹ منفی ہو یا نتائج واضح نہ ہوں لیکن جینیاتی وجہ کا شبہ برقرار رہے تو مزید تفصیلی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس میں مکمل جینوم سیکوینسنگ شامل ہوتی ہے۔
ہر انسان کا جینوم منفرد ہوتا ہے اور یہ اس کے تمام جینز پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں ڈی این اے کا تجزیہ کیا جاتا ہے، جو خون، تھوک، گال کے اندرونی حصے کے سویب یا جلد کے خلیوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ پیچیدہ طریقہ جینیاتی فرق کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے، جو انسانی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
کیوں کی جاتی ہے
جینیاتی ٹیسٹنگ کا مقصد بعض بیماریوں کے خطرے کا اندازہ لگانا، بیماری کی تشخیص کرنا اور علاج کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس کی مختلف اقسام درج ذیل ہیں:
تشخیصی ٹیسٹنگ
جب علامات کسی جینیاتی تبدیلی سے متعلق بیماری کی طرف اشارہ کریں تو یہ ٹیسٹ حتمی تشخیص میں مدد دیتا ہے۔
قبل از وقت سکریننگ
اگر فیملی میں جینیاتی بیماری کی تاریخ موجود ہو تو یہ ٹیسٹ علامات ظاہر ہونے سے پہلے خطرہ ظاہر کر سکتا ہے، مثلاً کولوریکٹل کینسر کا جینیاتی خطرہ۔
کیریئر ٹیسٹنگ
یہ ٹیسٹ بتاتا ہے کہ کوئی فرد بیماری (مثلاً سسٹک فائبروسس یا سکل سیل اینیمیا) کا جینیاتی عنصر رکھتا ہے، اور اسے اپنی اولاد میں منتقل کر سکتا ہے یا نہیں۔ یہ اکثر فیملی پلاننگ سے پہلے کیا جاتا ہے۔
حمل سے پہلے اور دورانِ حمل
سکریننگ ٹیسٹ بچے میں جینیاتی خطرات کے امکانات ظاہر کرتے ہیں، جبکہ سیل فری ڈی این اے ٹیسٹ خون کے ذریعے بچے کے جینیاتی خطرے کا اندازہ دیتا ہے۔
نوزائیدہ بچے کی سکریننگ
پیدائش کے بعد کیے جانے والے یہ ٹیسٹ جینیاتی اور میٹابولک بیماریوں کی ابتدائی تشخیص میں مدد دیتے ہیں۔
پری امپلانٹیشن ٹیسٹنگ
یہ ٹیسٹ آئی وی ایف کے دوران ایمبریوز کو رحم میں منتقل کرنے سے پہلے کیا جاتا ہے تاکہ جینیاتی بیماریوں کی نشاندہی ہو سکے۔
فارماکو جینیاتی ٹیسٹنگ
یہ ٹیسٹ مخصوص مریض کے لیے موزوں دوا اور خوراک کے تعین میں مدد دیتا ہے، تاہم یہ معمول کا حصہ نہیں ہوتا۔
کنزیومر جینیاتی ٹیسٹنگ
گھر سے بغیر نسخے کے کیے جانے والے جینیاتی ٹیسٹ کو ڈائریکٹ ٹو کنزیومر (ڈی ٹی سی) ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔ اس میں تھوک کا نمونہ لے کر کمپنی کو تجزیے کے لیے بھیجا جاتا ہے، اور نتائج آن لائن یا خط کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ ٹیسٹ بعض اوقات خاندانی یا صحت سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ان کی درستگی محدود ہو سکتی ہے جبکہ طبی سطح پر کیے جانے والے جینیاتی ٹیسٹ زیادہ قابل اعتماد ہوتے ہیں۔ ڈی ٹی سی ٹیسٹ ہمیشہ واضح طبی رہنمائی فراہم نہیں کرتے، اس لیے ان پر مکمل انحصار مناسب نہیں ہوتا۔
استعمال سے پہلے یہ امور ضرور جانچیں:
٭ ٹیسٹ سے حاصل ہونے والے نتائج کی نوعیت
٭ ٹیسٹ کی درستگی اور معیار
٭ ڈی این اے نمونے کے استعمال کا طریقہ
٭ کمپنی کی پرائیویسی پالیسی
خطرات
زیادہ تر جینیاتی ٹیسٹ محفوظ ہوتے ہیں، جبکہ خون اور گال کے سویب میں خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ تاہم کچھ حمل کے تشخیصی ٹیسٹ جیسے ایمنیوسینٹیسس میں اسقاط حمل کا معمولی خطرہ موجود ہو سکتا ہے۔
جینیاتی ٹیسٹنگ کے جذباتی، سماجی اور مالی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس کے فوائد اور ممکنہ خطرات پر ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
تیاری کا طریقہ
جینیاتی ٹیسٹ سے پہلے ڈاکٹر یا جینیاتی کاؤنسلر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ درج ذیل اقدامات بھی اس میں مددگار ہوتے ہیں:
٭ صحت کے تناظر میں فیملی کی ہسٹری معلوم کریں
٭ ٹیسٹ کے ممکنہ خاندانی اثرات پر گفتگو کریں
٭ ذاتی اور خاندانی طبی معلومات اپنے ساتھ رکھیں
٭ ٹیسٹ سے متعلق سوالات تیار کریں
٭ نتائج کے ممکنہ اثرات کو سمجھیں
ٹیسٹ کا طریقہ کار
جینیاتی ٹیسٹ کے لیے مختلف نمونے لیے جاتے ہیں جن کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا جاتا ہے:
خون کا نمونہ: طبی عملہ بازو کی رگ سے خون لیتا ہے، جبکہ نوزائیدہ میں ایڑی سے خون لیا جاتا ہے
تھوک: مریض تھوک کو ایک مخصوص ٹیوب میں جمع کرتا ہے
گال کا سویب: گال کے اندر سے روئی کے ذریعے خلیات حاصل کیے جاتے ہیں
ایمنیوسینٹیسس: باریک سوئی کے ذریعے رحم سے امینیوٹک سیال حاصل کیا جاتا ہے
کورینک وِلَس سیمپلنگ: نال (پلیسینٹا) کے ٹشو کا ایک چھوٹا سا نمونہ حاصل کیا جاتا ہے، جس سے جینیاتی جانچ کی جاتی ہے۔
نتائج
نتائج حاصل ہونے کا وقت ٹیسٹ کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔
مثبت نتائج
اس کا مطلب ہے کہ جینیاتی تبدیلی موجود ہے، جو بیماری کے خطرے یا موجودگی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں مزید تشخیص یا علاج کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر بی آر سی اے ون یا بی آر سی اے ٹو جین کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ ہنٹنگٹن بیماری میں جینیاتی تبدیلی موجود ہونے پر بیماری وقت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے
منفی نتائج
اس کا مطلب ہے کہ مطلوبہ جینیاتی تبدیلی نہیں ملی۔ تاہم یہ مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا کیونکہ کچھ بیماریاں جینیاتی ٹیسٹ کے باوجود ظاہر ہو سکتی ہیں
غیر واضح نتائج
کبھی جینیاتی تبدیلی کا اثر واضح نہیں ہوتا، جسے غیر یقینی اہمیت کی جینیاتی تبدیلی کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اس صورت میں فوری علاج کی ضرورت نہیں ہوتی، جب تک مزید سائنسی شواہد دستیاب نہ ہوں
جینیاتی مشاورت
نتیجہ کچھ بھی ہو، جینیاتی ماہر یا کاؤنسلر سے مشورہ ضروری ہے تاکہ انہیں بہتر طور پر سمجھ کر ممکنہ اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pathologist