فیریٹِن ٹیسٹ (Ferritin test) خون میں فیریٹِن کی مقدار کا جائزہ لیتا ہے۔ فیریٹِن خون کی ایک پروٹین ہے جو آئرن کو ذخیرہ کرتا ہے۔ یہ ٹیسٹ جسم میں آئرن کی مقدار کا اندازہ فراہم کرتا ہے۔
اگر فیریٹِن کی سطح کم ہو تو اس کا مطلب جسم میں آئرن کی کمی ہے۔ اس حالت کو آئرن ڈیفیشنسی کہا جاتا ہے اور یہ خون کی کمی (انیمیا) کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر فیریٹِن کی سطح ایک خاص حد سے زیادہ ہو تو یہ عموماً جسم میں سوزش (انفلیمیشن) کی علامت ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ دیگر بیماریوں کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
فیریٹِن ٹیسٹ درج ذیل حالات کی تشخیص یا نشاندہی میں مدد دیتا ہے:
٭ آئرن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی
٭ ہیموکرومیٹوسس، جس میں جسم خوراک سے زیادہ آئرن جذب کرتا ہے
٭ جگر کی بیماری
٭ ایڈلٹ سٹل بیماری، گنٹھیا کی ایک نایاب قسم جو جسم میں شدید سوزش پیدا کرتی ہے
یہ ٹیسٹ ان افراد میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جن میں جسم میں آئرن زیادہ جمع ہونے کا خدشہ ہو، تاکہ بیماری کی نگرانی اور علاج میں مدد مل سکے۔
ٹیسٹ کی تیاری
اگر صرف فیریٹِن ٹیسٹ ہو رہا ہو تو عام طور پر کھانے پینے کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اگر دیگر ٹیسٹ بھی شامل ہوں تو بعض اوقات فاسٹنگ ضروری ہو سکتی ہے۔
ٹیسٹ کے دوران
ٹیسٹ کے دوران بازو کی رگ سے خون کا نمونہ لے کر اسے لیبارٹری میں بھیجا جاتا ہے۔ زیادہ تر افراد فوراً اپنی معمول کی سرگرمیوں پر واپس جا سکتے ہیں۔
نتائج
مردوں میں فیریٹِن کی عام حد 24 سے 336 مائیکروگرام فی لیٹر ہوتی ہے۔
خواتین میں یہ حد 11 سے 307 مائیکروگرام فی لیٹر ہوتی ہے۔
کم فیریٹن
اگر نتائج عام حد سے کم ہوں تو یہ آئرن کی کمی کی واضح علامت ہے۔ اس سے خون کی کمی بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر اصل وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
زیادہ فیریٹن
فیریٹِن کی زیادہ سطح مختلف وجوہات کی بنا پر ہو سکتی ہے، جس کے لیے مزید ٹیسٹ درکار ہوتے ہیں۔ اس کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:
٭ ہیموکرومیٹوسس، ایک طبی حالت ہے جس میں جسم خوراک سے ضرورت سے زیادہ آئرن جذب کرنے لگتا ہے۔ یہ اضافی آئرن جسم کے مختلف حصوں جیسے جگر، دل اور جوڑوں میں جمع ہو کر نقصان پہنچا سکتا ہے۔
٭ پورفیریا، ایک ایسی حالت جس میں جسم میں بعض خامروں کی کمی ہوتی ہے۔ اس کے باعث آئرن کے استعمال کا نظام متاثر ہو سکتا ہے
٭ سوزشی بیماریاں جیسے روماٹائیڈ آرتھرائٹس
٭ جگر کی بیماری
٭ ہائپر تھائی رائڈزم
٭ لیوکیمیا
٭ ہاجکن لیمفوما
٭ بار بار خون کی منتقلی
٭ الکوحل کا زیادہ استعمال
٭ آئرن سپلیمنٹس کا حد سے زیادہ استعمال
زیادہ فیریٹِن کی صورت میں معالج دیگر ٹیسٹوں کے نتائج بھی دیکھتا ہے۔ اس کی روشنی میں وہ علاج سے متعلق فیصلہ کرتا ہے۔ فیریٹِن ٹیسٹ کے نتائج کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=medical-specialist