Vinkmag ad

الیکٹرو کارڈیو گرام (ای سی جی)

An electrocardiogram (ECG) printout showing the heart rhythm.

الیکٹرو کارڈیو گرام (Electrocardiogram) یا ای سی جی (ECG) دل کی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کر کے دل کی دھڑکن کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس کے نتائج دل کے دوروں اور بے ترتیب دھڑکنوں (اریتھمیا) کی تشخیص میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ ہسپتالوں، کلینکس، آپریشن رومز اور ایمبولینسوں میں کیا جاتا ہے۔ بعض سمارٹ ڈیوائسز بھی محدود ای سی جی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

کیوں کیا جاتا ہے

ای سی جی دل کی دھڑکن کی رفتار اور برقی سگنلز کا تجزیہ کر کے دل کی مختلف بیماریوں کی تشخیص میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ذریعے ڈاکٹر درج ذیل مسائل کی شناخت کر سکتے ہیں:

٭ بے ترتیب دل کی دھڑکنیں (اریتھمیا)

٭ دل کا دورہ، ماضی یا موجودہ

٭ سینے کے درد کی وجوہات، جیسے دل کی شریانوں کا تنگ یا بند ہونا

توجہ طلب علامات

یہ ٹیسٹ پیس میکر کی کارکردگی اور دل کے علاج کے اثرات جانچنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر درج ذیل علامات موجود ہوں تو ای سی جی تجویز کی جا سکتی ہے:

٭ سینے میں درد

٭ چکر آنا، بے ہوشی یا ذہنی الجھن

٭ دل کی تیز، بے ترتیب یا غیر معمولی دھڑکن

٭ تیز نبض

٭ سانس لینے میں دشواری

٭ کمزوری یا شدید تھکن

٭ جسمانی سرگرمی میں کمی

اگر فیملی میں دل کی بیماری موجود ہو تو علامات کے بغیر بھی سکریننگ ممکن ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کم خطرے والے افراد میں بھی ای سی جی بنیادی سکریننگ ٹیسٹ کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔

پورٹیبل ڈیوائسز

اگر علامات وقفے وقفے سے ظاہر ہوں تو عام ای سی جی بعض اوقات مسئلہ ظاہر نہیں کر پاتی، اس لیے پورٹیبل مانیٹرنگ ڈیوائسز استعمال کی جاتی ہیں:

ہولٹر مانیٹر: 24 گھنٹے یا اس سے زیادہ دل کی سرگرمی ریکارڈ کرنے والا آلہ، جو معمولات کے دوران استعمال ہوتا ہے

ایونٹ مانیٹر: مخصوص اوقات میں دل کی سرگرمی ریکارڈ کرنے والا آلہ، عام طور پر 30 دن تک استعمال ہوتا ہے

سمارٹ واچز: کچھ سمارٹ واچز میں ای سی جی ایپس موجود ہوتی ہیں، تاہم ان کا استعمال طبی مشورے کے مطابق ہونا چاہیے۔

خطرات

الیکٹروکارڈیوگرام ایک محفوظ ٹیسٹ ہے۔ کچھ افراد کو جلد پر اس جگہ ہلکی خارش یا حساسیت ہو سکتی ہے جہاں پیڈز لگائے جاتے ہیں۔ انہیں اتارنے کا عمل بعض اوقات معمولی تکلیف کا باعث بنتا ہے اور یہ پٹی اتارنے جیسا محسوس ہوتا ہے۔

ٹیسٹ کی تیاری

اس ٹیسٹ کے لیے کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مریض کو اپنی تمام ادویات، بشمول بغیر نسخے کی ادویات اور سپلیمنٹس، ڈاکٹر کو بتانی چاہییں کیونکہ کچھ ادویات نتائج پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

طریقہ کار

پہلے

ٹیسٹ سے پہلے مریض کو ہسپتال گاؤن پہننے کو کہا جا سکتا ہے۔ الیکٹروڈ لگانے کی جگہ سے بال صاف کیے جا سکتے ہیں تاکہ پیڈ بہتر طور پر چپک سکیں۔ اس کے بعد مریض کو بستر یا معائنے کی میز پر لیٹنا ہوتا ہے۔

دوران

تقریباً 12 الیکٹروڈز سینے، بازوؤں اور ٹانگوں پر لگائے جاتے ہیں جو تاروں کے ذریعے کمپیوٹر سے منسلک ہوتے ہیں۔ کمپیوٹر دل کی برقی سرگرمی کو لہروں کی صورت میں ظاہر کرتا ہے جو دھڑکن کے سگنلز کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مریض کو خاموش رہنے اور حرکت نہ کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے، کیونکہ معمولی حرکت بھی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔

بعد میں

اگر فوری علاج کی ضرورت نہ ہو تو مریض اپنی روزمرہ سرگرمیوں پر واپس جا سکتا ہے۔

نتائج

ای سی جی کے نتائج بعض اوقات اسی دن فراہم کیے جاتے ہیں یا اگلی ملاقات میں بتائے جاتے ہیں۔ ماہرین دل کی برقی سرگرمی کے پیٹرن کا تجزیہ کر کے درج ذیل معلومات حاصل کرتے ہیں:

دھڑکن کی رفتار: تیز دھڑکن (ٹیکی کارڈیا) یا سست دھڑکن (بریڈی کارڈیا) کی شناخت

دھڑکن کا پیٹرن: دھڑکنوں کے درمیان وقفہ اور برقی پیٹرن، جس سے اریتھمیا جیسے ایٹریل فبریلیشن اور ایٹریل فلٹر کی نشاندہی ہوتی ہے

دل کا دورہ: موجودہ یا ماضی کے دل کے دورے کی تشخیص اور متاثرہ حصے کی نشاندہی

خون اور آکسیجن کی فراہمی: سینے کے درد میں خون کے بہاؤ کی کمی کی شناخت

دل کی ساخت میں تبدیلیاں: دل کے بڑے ہونے، پیدائشی نقائص اور دیگر مسائل کے اشارے

اگر نتائج غیر معمولی ہوں تو مزید ٹیسٹ جیسے ایکوکارڈیوگرام کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو دل کا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist

Vinkmag ad

Read Previous

ایکسرسائز سٹریس ٹیسٹ

Read Next

ایکو کارڈیو گرام

Leave a Reply

Most Popular