ایکو کارڈیو گرام (Echocardiogram) ایک تشخیصی ٹیسٹ ہے جس میں دل کے اندر خون کے بہاؤ، والوز کی کارکردگی اور دل کی مجموعی ساخت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اس ٹیسٹ کی مدد سے دل کی بیماریوں اور دیگر مسائل کی تشخیص کرتے ہیں۔ اسے ہارٹ الٹراساؤنڈ اور ہارٹ سونوگرام بھی کہا جاتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
یہ ٹیسٹ دکھاتا ہے کہ خون دل کے مختلف خانوں اور والوز سے کیسے گزرتا ہے۔ اگر مریض کو سینے میں درد یا سانس لینے میں دشواری ہو تو ڈاکٹر یہ ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔
اقسام
ایکو کارڈیو گرام کی اقسام مختلف طبی ضروریات کے مطابق استعمال کی جاتی ہیں۔
ٹرانس تھوریسک ایکو کارڈیوگرام (ٹی ٹی ای)
یہ ایسا طریقہ جس میں جسم کے اندر نہ تو کوئی چیز داخل کی جاتی ہے، اور نہ سرجری کی جاتی ہے۔ دل کے اندر کی تصاویر جسم کے باہر سے ہی لی جاتی ہیں۔ البتہ بعض اوقات واضح تصاویر کے لیے آئی وی کے ذریعے کنٹراسٹ ڈائی دی جاتی ہے
ٹرانس ایسوفیجیل ایکو کارڈیوگرام (ٹی ای ای)
یہ زیادہ تفصیلی ٹیسٹ ہے جس میں دل کی تصاویر غذائی نالی کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ خاص طور پر دل کے والوز اور بڑی شریان (ایورٹا) کے معائنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر غذائی نالی میں زخم، ٹیومر یا خون بہہ رہا ہو تو یہ ٹیسٹ نہیں کیا جاتا
فیٹل ایکو کارڈیو گرام
یہ حمل کے دوران بچے کے دل کی جانچ کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس میں الٹرا ساؤنڈ پروب حاملہ خاتون کے پیٹ پر رکھا جاتا ہے
سٹریس ایکو کارڈیو گرام
یہ ٹیسٹ ورزش سے پہلے اور بعد میں کیا جاتا ہے تاکہ ورزش یا جسمانی مشقت کا دل کی کارکردگی پر اثر دیکھا جا سکے۔ اگر مریض ورزش نہ کر سکے تو ادویات کے ذریعے دل پر اسی طرح کا اثر پیدا کیا جاتا ہے۔
طریقہ کار
ایکو کارڈ یوگرام مختلف تکنیکی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے جن سے دل کی مکمل تصویر حاصل کی جاتی ہے۔
2 ڈی، اور 3 ڈی امیجنگ
یہ امیجنگ دل کی دیواروں، والوز اور بڑی شریانوں کی تفصیلی تصاویر فراہم کرتی ہے۔ ڈی 3 امیجنگ زیادہ گہرائی میں اور واضح معلومات کے لیے استعمال ہوتی ہے
ڈوپلر ایکو کارڈیو گرام
یہ خون کے بہاؤ کی رفتار اور سمت کی پیمائش کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ خون کا بہاؤ نارمل ہے یا کسی رکاوٹ یا لیکیج کا شکار ہے۔
رنگین تصاویر
کلر فلو امیجنگ (Color Flow Imaging) میں خون کے بہاؤ کو رنگوں کی مدد سے دکھایا جاتا ہے تاکہ والوز کی خرابی یا غیر معمولی بہاؤ آسانی سے دیکھا جا سکے
خطرات
ایکو کارڈیوگرام ایک محفوظ ٹیسٹ ہے۔ تاہم:
٭ سینے پر پروب کے دباؤ سے معمولی تکلیف ہو سکتی ہے
٭ کنٹراسٹ ڈائی سے خارش، سر درد یا الرجی ہو سکتی ہے، مگر شدید ردعمل نایاب ہے
٭ ٹرانس ایسو فیجیل ٹیسٹ میں گلے میں درد، نگلنے میں مشکل یا ہلکی چوٹ ہو سکتی ہے
٭ سٹریس ٹیسٹ میں دل کی دھڑکن تیز یا بے ترتیب ہو سکتی ہے، مگر سنگین پیچیدگیاں بہت کم ہوتی ہیں
تیاری
تیاری کا انحصار ٹیسٹ کی قسم پر ہوتا ہے۔ ٹرانس ایسوفیجیل ٹیسٹ میں مریض کو گھر لے جانے کے لیے کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ سکون آور ادویات دی جاتی ہیں۔
٭ عام ٹیسٹ سے پہلے عام طور پر کھانے پینے پر پابندی نہیں ہوتی
٭ بعض صورتوں میں ٹیسٹ سے چند گھنٹے پہلے فاسٹنگ کی ہدایت دی جاتی ہے
٭ ڈاکٹر کو تمام ادویات کی مکمل معلومات دینا ضروری ہوتا ہے
پروسیجر کے دوران
یہ ٹیسٹ ہسپتال یا کلینک میں کیا جاتا ہے۔ مریض کو اوپر کے کپڑے تبدیل کرنے کے لیے گاؤن دیا جاتا ہے۔ سینے پر الیکٹروڈز لگائے جاتے ہیں جو دل کی دھڑکن کو مانیٹر کرتے ہیں۔
ٹرانس تھوریسک ایکو کارڈیو گرام
سینے پر جیل لگا کر الٹراساؤنڈ آلہ رکھا جاتا ہے۔ یہ آلہ ساؤنڈ ویوز دل کی طرف بھیجتا ہے اور واپس آنے والی لہروں کو ریکارڈ کرتا ہے۔ کمپیوٹر ان معلومات کو دل کی متحرک تصاویر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ بعض اوقات بہتر تصاویر حاصل کرنے کے لیے مریض سے مخصوص انداز میں سانس لینے یا بائیں کروٹ لیٹنے کو کہا جاتا ہے۔
ٹرانس ایسوفیجیل ایکو کارڈیو گرام
مریض کو آرام دینے کے لیے سکون آور دوا دی جاتی ہے اور گلا سُن کیا جاتا ہے۔ ایک باریک ٹیوب منہ کے ذریعے غذائی نالی میں داخل کر کے دل کے قریب تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس ٹیوب میں موجود الٹراساؤنڈ آلہ دل اور اس کے والوز کی تفصیلی تصاویر فراہم کرتا ہے۔ ٹیسٹ کے دوران مریض کے آکسیجن لیول کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔
سٹریس ایکو کارڈیو گرام
مریض ٹریڈمل یا ساکن سائیکل پر ورزش کرتا ہے۔ ورزش سے پہلے اور بعد میں دل کی تصاویر لی جاتی ہیں۔ بعض صورتوں میں ادویات کے ذریعے دل پر جسمانی ورزش جیسا اثر پیدا کیا جاتا ہے۔
ٹیسٹ کے بعد
زیادہ تر ایکو کارڈیوگرام ایک گھنٹے سے کم وقت میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ ٹرانس ایزوفیجیل ٹیسٹ کے بعد مریض کو کچھ دیر نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر افراد فوراً اپنی معمول کی سرگرمیوں پر واپس جا سکتے ہیں۔
اگر نتائج نارمل ہوں تو مزید ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم غیر معمولی نتائج کی صورت میں اضافی معائنے یا ماہرِ قلب سے رجوع کیا جاتا ہے۔
نتائج
ایکو کارڈیوگرام سے دل کے بارے میں اہم طبی معلومات حاصل ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
٭ دل کے سائز اور ساخت میں تبدیلی
٭ دل کی پمپنگ طاقت اور خون کی مقدار
٭ دل کے پٹھوں کو نقصان
٭ دل کے والوز کی خرابی یا لیکیج
٭ پیدائشی دل کی خرابیاں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist