سٹریس ٹیسٹ ایک تشخیصی ٹیسٹ ہے جو یہ جانچتا ہے کہ دل جسمانی مشقت کے دوران کیسے کام کرتا ہے۔ اسے ایکسرسائز سٹریس ٹیسٹ (Exercise stress test) بھی کہا جاتا ہے۔ ورزش کے دوران دل کی رفتار اور پمپنگ بڑھ جاتی ہے جس سے خون کے بہاؤ میں ہونے والی تبدیلیاں واضح ہو جاتی ہیں۔
اس ٹیسٹ میں عموماً ٹریڈمل پر چلنا یا ساکت بائیک پر پیڈلنگ شامل ہوتی ہے۔ دورانِ ٹیسٹ ماہر صحت دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور سانس کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ جو مریض ورزش کرنے کے قابل نہیں ہوتے انہیں ایسی دوا دی جاتی ہے جو دل پر ورزش جیسا اثر پیدا کرتی ہے۔
ڈاکٹر یہ ٹیسٹ عام طور پر اس وقت تجویز کرتے ہیں جب کورونری آرٹری ڈیزیز یا دل کی بے قاعدہ دھڑکن (ارتھمیا) کا شبہ ہو۔ اس ٹیسٹ سے نہ صرف بیماری کی تشخیص میں مدد ملتی ہے بلکہ علاج کے مؤثر ہونے کا اندازہ بھی لگایا جاتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
سٹریس ٹیسٹ مختلف طبی وجوہات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جن میں شامل ہیں:
٭ کورونری آرٹری ڈیزیز جو دل کو خون اور آکسیجن فراہم کرنے والی شریانوں میں خرابی یا تنگی سے پیدا ہوتی ہے
٭ دل کی بے قاعدہ دھڑکن (ارتھمیا) کی شناخت
٭ پہلے سے موجود دل کی بیماری میں علاج کے مؤثر ہونے کا جائزہ
٭ دل کی سرجری سے پہلے مریض کے لیے محفوظ ہونے کی جانچ
اگر عام سٹریس ٹیسٹ سے علامات کی وجہ واضح نہ ہو تو ڈاکٹر امیجنگ ٹیسٹ کے ساتھ سٹریس ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں۔
ممکنہ خطرات
سٹریس ٹیسٹ مجموعی طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم چند پیچیدگیاں ممکن ہیں:
٭ بلڈ پریشر میں کمی، جو چکر آنے یا عارضی بے ہوشی کا سبب بن سکتی ہے
٭ دل کی بے قاعدہ دھڑکن (ارتھمیا)، جو عموماً ورزش رکنے کے بعد ختم ہو جاتی ہے
٭ دل کا دورہ (مایوکارڈیل انفارکشن)، جو بہت ہی کم، لیکن ممکنہ خطرہ ہے
ٹیسٹ کی تیاری
سٹریس ٹیسٹ سے پہلے ڈاکٹر مخصوص ہدایات دیتے ہیں تاکہ نتائج درست حاصل ہوں۔
٭ ٹیسٹ سے کچھ گھنٹے پہلے کھانے پینے اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کیا جاتا ہے
٭ کیفین سے بھی ٹیسٹ سے پہلے اور اس کے دوران اجتناب ضروری ہو سکتا ہے
٭ بعض ادویات ٹیسٹ کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، اس لیے زیر استعمال ادویات پر ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے
٭ دمہ کے مریض اپنا انہیلر ساتھ لائیں اور طبی ٹیم کو ضرور آگاہ کریں
٭ آرام دہ کپڑے اور چلنے والے جوتے پہننا بہتر ہوتا ہے
ٹیسٹ کے دوران
تیاری سمیت پورا سٹریس ٹیسٹ عموماً ایک گھنٹے کے اندر مکمل ہوتا ہے، تاہم ورزش کا حصہ تقریباً 15 منٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔
ٹیسٹ سے پہلے مریض کی میڈیکل ہسٹری اور ورزش کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ اس کی مناسب شدت مقرر کی جا سکے۔ دل اور پھیپھڑوں کی جانچ بھی کی جاتی ہے۔
سینے، بازوؤں اور بعض اوقات ٹانگوں پر الیکٹروڈز لگائے جاتے ہیں جو دل کی دھڑکن ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ معلومات ای سی جی کے ذریعے کمپیوٹر پر منتقل ہوتی ہیں۔ بلڈ پریشر مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے۔
ورزش ٹریڈمل یا بائیک پر آہستہ شروع ہو کر بتدریج بڑھائی جاتی ہے۔ مریض بیلنس کے لیے ہینڈریل استعمال کر سکتا ہے لیکن مکمل طور پر اس پر ٹیک لگانا درست نہیں۔ ٹیسٹ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک دل کی دھڑکن مطلوبہ رفتار تک نہ پہنچ جائے، یا درج ذیل علامات ظاہر ہوں:
٭ سینے میں درمیانہ یا شدید درد
٭ سانس کی شدید کمی
٭ غیر معمولی بلڈ پریشر
٭ دل کی بے قاعدہ دھڑکن
٭ شدید چکر یا تھکن
اگر مریض ورزش نہ کر سکے تو رگ کے ذریعے دوا دی جاتی ہے جو دل میں خون کے بہاؤ کو بڑھا کر ورزش جیسا اثر پیدا کرتی ہے۔
ٹیسٹ کے بعد
ورزش مکمل ہونے کے بعد مریض کو کچھ دیر کھڑا رکھا جاتا ہے اور پھر آرام کرنے دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اس دوران دل کی دھڑکن اور سانس کی حالت کا مشاہدہ کرتا ہے۔
اگر ڈاکٹر کی کوئی خاص ہدایت نہ ہو تو مریض عموماً جلد اپنی معمول کی سرگرمیوں پر واپس جا سکتا ہے۔
نتائج اور تشریح
سٹریس ٹیسٹ کے نتائج علاج کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر دل کی کارکردگی نارمل ہو تو مزید ٹیسٹوں کی ضرورت نہیں رہتی۔
اگر کورونری آرٹری ڈیزیز کا شبہ ہو تو کورونری انجیوگرام کیا جا سکتا ہے جو شریانوں میں رکاوٹ کو واضح کرتا ہے۔
اگر نتائج معمول کے مطابق ہوں لیکن علامات برقرار رہیں یا بڑھ جائیں تو مزید تفصیلی ٹیسٹ مثلاً نیوکلیئر سٹریس ٹیسٹ یا ایکو کارڈیوگرام تجویز کیے جا سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist