کہنی کی تبدیلی کی سرجری (Elbow replacement surgery) میں کہنی کے جوڑ کے خراب حصے نکال کر ان کی جگہ دھات اور پلاسٹک کے مصنوعی حصے لگائے جاتے ہیں جنہیں امپلانٹس کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو طبی طور پر کہنی کی آرتھروپلاسٹی بھی کہا جاتا ہے۔
روایتی طور پر اس سرجری میں کولہے اور گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری کے مقابلے میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ رہا ہے۔ تاہم جدید سرجیکل تکنیک اور بہتر امپلانٹ ڈیزائن نے اس کی کامیابی کی شرح میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
کہنی کو آرتھرائٹس، فریکچر اور مختلف چوٹیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ بعض حالات میں سرجری کی مدد سے مرمت ممکن ہوتی ہے، لیکن شدید نقصان کی صورت میں جوڑ کی تبدیلی بہتر حل ہے۔ کہنی میں درد اور اس کی حرکت میں واضح کمی اس سرجری کی سب سے عام وجوہات ہیں۔
آرتھرائٹس کی مختلف اقسام
٭ ہڈیوں کے فریکچر
٭ ہڈیوں کے ٹیومرز
پروسیجر
جزوی تبدیلی کی صورت میں صرف متاثرہ حصہ بدلا جاتا ہے۔ مکمل تبدیلی کی صورت میں ملنے والی ہڈیوں کے سروں کو دوبارہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ مصنوعی دھاتی حصے ہڈی کے نرم اندرونی حصے میں ڈالے جاتے ہیں۔ اگر اردگرد کے لیگامینٹس جوڑ کو مستحکم رکھنے کے لیے ناکافی ہوں تو سرجن لنکنگ کیپ استعمال کرتا ہے۔ یہ کیپ مصنوعی حصوں کو آپس میں جوڑ کر انہیں الگ ہونے سے روکتی ہے۔
خطرات
اگرچہ یہ سرجری عموماً مؤثر ہوتی ہے، لیکن بعض صورتوں میں درد مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی مکمل حرکت یا طاقت واپس آتی ہے۔ اس کے باعث دوبارہ سرجری کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
ممکنہ پیچیدگیاں درج ذیل ہیں:
٭ امپلانٹ کا ڈھیلا ہونا
٭ ہڈی کا فریکچر، جو سرجری کے دوران یا بعد میں ہو سکتا ہے
٭ اعصابی نقصان، جس سے سن ہونا، کمزوری اور درد پیدا ہو سکتا ہے
٭ انفیکشن، جو زخم یا اندرونی ٹشوز میں ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات اضافی سرجری کی ضرورت پڑتی ہے
پروسیجر کی تیاری
سرجری سے پہلے مریض کی علامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ جسمانی معائنہ، اور ایکسرے یا سی ٹی سکین بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ مریض سے اس کی میڈیکل ہسٹڑی اور استعمال ہونے والی ادویات کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے۔ مریض کو چاہیے کہ سرجن سے درج ذیل سوالات بھی پوچھ لے:
٭ کون سا امپلانٹ میرے لیے بہتر ہوگا
٭ سرجری کے بعد درد کیسے کنٹرول کیا جائے گا
٭ کس قسم کی فزیوتھراپی درکار ہوگی
٭ روزمرہ سرگرمیوں پر کیا پابندیاں ہوں گی
٭ کیا گھر میں کسی مدد کی ضرورت ہوگی
طریقہ کار
٭ سرجری سے پہلے مریض کو نہانے، کھانے اور ادویات کے استعمال کے بارے میں ہدایات دی جاتی ہیں
٭ سرجری کے دوران مریض کو جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے تاکہ وہ گہری نیند میں چلا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نرو بلاک بھی دیا جاتا ہے جو بازو کو سن کر دیتا ہے اور بعد میں درد کے کنٹرول میں مدد دیتا ہے۔ سرجری عام طور پر ایک سے دو گھنٹے تک جاری رہتی ہے
٭ سرجری کے بعد مریض کچھ دیر ریکوری روم میں رہتا ہے۔ اپنی حالت کے مطابق وہ اسی دن یا بعد میں گھر جا سکتا ہے
بعض صورتوں میں سپلنٹ یا سلنگ استعمال کرنا پڑتا ہے۔
٭ مریض کو ورزشیں سکھائی جاتی ہیں جو حرکت اور طاقت کی بحالی میں مدد دیتی ہیں
نتائج
زیادہ تر مریضوں میں کہنی کی تبدیلی کے بعد درد میں واضح کمی آتی ہے۔ بہت سے مریض مکمل طور پر درد سے نجات پا لیتے ہیں، جبکہ حرکت کی حد اور طاقت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic