Vinkmag ad

ڈینٹل امپلانٹ سرجری

A dentist holding a cross-section model of a jaw to demonstrate dental implant surgery

ڈینٹل امپلانٹ سرجری (Dental implant surgery) میں دانتوں کی جڑوں کی جگہ پیچ نما دھاتی چیزیں (پوسٹس) لگائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد متاثرہ یا غائب دانتوں کی جگہ مصنوعی دانت نصب کیے جاتے ہیں، جو شکل اور کارکردگی میں قدرتی دانتوں سے بہت مشابہ ہوتے ہیں۔ اگر ڈینچر یا برج ورک مناسب طور پر فٹ نہ ہو تو ڈینٹل امپلانٹ مؤثر متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ طریقہ اس وقت بھی مفید ہوتا ہے جب قدرتی دانتوں کی جڑیں اتنی نہ ہوں کہ ڈینچر یا برج ورک کو سہارا دے سکیں۔

امپلانٹ کی قسم اور جبڑے کی ہڈی کی حالت یہ طے کرتی ہے کہ سرجری کس طریقے سے کی جائے گی۔ بعض اوقات اس پروسیجر میں کئی سرجیکل مراحل شامل ہوتے ہیں۔ امپلانٹس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ نئے دانتوں کو مضبوط اور پائیدار سہارا فراہم کرتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ہڈی امپلانٹ کے گرد مضبوطی سے جڑ جائے۔ چونکہ ہڈی کے بھرنے اور جڑنے میں وقت لگتا ہے، اس لیے یہ پورا عمل کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔

کیوں کی جاتی ہے

ڈینٹل امپلانٹس سرجیکل طریقے سے جبڑے کی ہڈی میں لگائے جاتے ہیں اور غائب دانتوں کی جڑوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ امپلانٹس میں موجود ٹائٹینیم جبڑے کی ہڈی کے ساتھ مضبوطی سے جڑ جاتا ہے۔ اس کے باعث یہ نہ سرکتے ہیں، نہ آواز پیدا کرتے ہیں اور نہ ہی ہڈی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ امپلانٹس کا مواد قدرتی دانتوں کی طرح خراب نہیں ہوتا۔

ڈینٹل امپلانٹس آپ کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں اگر آپ:

٭ ایک یا زیادہ دانت کھو چکے ہوں

٭ آپ کے جبڑے کی ہڈی مکمل نشوونما پا چکی ہو

٭ امپلانٹس کو سہارا دینے کے لیے کافی ہڈی موجود ہو یا بون گرافٹ کروایا جا سکتا ہو

٭ منہ کے ٹشوز صحت مند ہوں

٭ صحت کی حالت ایسی نہ ہو جو ہڈی کے بھرنے کے عمل کو متاثر کرے

٭ ڈینچر پہننے کے قابل نہ ہوں یا انہیں پہننا نہ چاہتے ہوں

٭ اپنی گفتگو کو بہتر بنانا چاہتے ہوں

٭ کئی ماہ پر مشتمل اس عمل کے لیے تیار ہوں

٭ تمباکو نوشی نہ کرتے ہوں

خطرات

ہر سرجری کی طرح ڈینٹل امپلانٹ سرجری کے ساتھ بھی کچھ طبی خطرات وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ خطرات عموماً کم اور معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں، اور زیادہ تر صورتوں میں ان کا علاج آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ خطرات میں شامل ہیں:

٭ امپلانٹ کی جگہ انفیکشن

٭ اردگرد کے ڈھانچوں کو نقصان پہنچنا، جیسے دوسرے دانت یا خون کی نالیاں

٭ اعصابی نقصان، جس کے باعث قدرتی دانتوں، مسوڑھوں، ہونٹوں یا ٹھوڑی میں درد، سن ہونا یا جھنجھناہٹ پیدا ہو سکتی ہے

٭ سائی نس کے مسائل، اگر اوپری جبڑے میں لگایا گیا امپلانٹ سائنس کی کسی گہا تک پہنچ جائے

پروسیجر کی تیاری

چونکہ ڈینٹل امپلانٹس کے لیے ایک یا زیادہ سرجیکل مراحل درکار ہوتے ہیں، اس لیے تیاری کے دوران درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

٭ مکمل دندانی معائنہ، جس میں دانتوں کے ایکس رے اور تھری ڈی تصاویر لی جا سکتی ہیں۔ دانتوں اور جبڑے کے ماڈلز بھی تیار کیے جا سکتے ہیں

٭ میڈیکل ہسٹری کا جائزہ، جس کے دوران تمام بیماریوں، استعمال ہونے والی ادویات اور سپلیمنٹس کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔

٭ علاج کا منصوبہ، جو مکمل طور پر آپ کی ضرورت کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔

سرجری کے دوران درد کو قابو میں رکھنے کے لیے اینستھیزیا کے درج ذیل آپشنز استعمال کیے جا سکتے ہیں:

٭ لوکل اینستھیزیا، جس میں علاج کیے جانے والے حصے کو سن کیا جاتا ہے

٭ سیڈیشن، جو مریض کو پرسکون کرنے میں مدد دیتی ہے

٭ جنرل اینستھیزیا، جس میں مریض نیند جیسی کیفیت میں ہوتا ہے

طریقہ کار

ڈینٹل امپلانٹ سرجری عموماً آؤٹ پیشنٹ بنیاد پر کی جاتی ہے اور مختلف مراحل میں مکمل ہوتی ہے۔ ہر مرحلے کے درمیان شفا یابی کے لیے وقت دیا جاتا ہے۔ اس عمل میں عام طور پر درج ذیل مراحل شامل ہوتے ہیں:

٭ خراب دانت نکالنا

٭ ضرورت پڑنے پر جبڑے کی ہڈی کی تیاری یا گرافٹنگ کرنا

٭ ڈینٹل امپلانٹ لگانا

٭ ہڈی کے بڑھنے اور بھرنے کا انتظار کرنا

٭ ابٹمنٹ لگانا۔ ابٹمنٹ وہ چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے جس پر بعد میں مصنوعی دانت نصب کیا جاتا ہے

٭ مصنوعی دانت نصب کرنا

ابتدا سے اختتام تک یہ پورا عمل کئی ماہ لے سکتا ہے۔ اس دوران زیادہ وقت ہڈی کے بھرنے اور نئی ہڈی بننے کے انتظار میں گزرتا ہے۔ بعض صورتوں میں مریض کی حالت، استعمال شدہ مواد اور طریقۂ کار کے مطابق مختلف مراحل کو ایک ساتھ بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔

اگر جبڑے کی ہڈی کافی موٹی نہ ہو یا بہت نرم ہو تو ڈینٹل امپلانٹ سرجری سے پہلے بون گرافٹنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چبانے کے دوران جبڑے کی ہڈی پر بہت زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔ اگر ہڈی امپلانٹ کو مناسب سہارا نہ دے سکے تو سرجری ناکام ہو سکتی ہے۔

ڈینٹل امپلانٹ لگانا

امپلانٹ لگانے کی سرجری کے دوران سرجن مسوڑھے میں چیرا لگا کر ہڈی کو نمایاں کرتا ہے۔ اس کے بعد ہڈی میں سوراخ کیے جاتے ہیں، جہاں دھاتی امپلانٹ پوسٹ نصب کیا جاتا ہے۔

اس مرحلے پر غائب دانت کی جگہ خالی رہتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ظاہری شکل برقرار رکھنے کے لیے عارضی جزوی ڈینچر لگایا جا سکتا ہے، جسے صفائی یا سونے کے وقت آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔

جب دھاتی امپلانٹ پوسٹ جبڑے کی ہڈی میں لگا دیا جاتا ہے تو اوسیو انٹیگریشن کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس عمل میں ہڈی اور امپلانٹ کے درمیان مضبوط تعلق قائم ہوتا ہے۔ اس دوران جبڑے کی ہڈی امپلانٹ کی سطح کے ساتھ جڑ جاتی ہے، جس سے نئے مصنوعی دانت کے لیے مضبوط بنیاد تیار ہوتی ہے۔ یہ بنیاد قدرتی دانتوں کی جڑوں کی طرح کام کرتی ہے۔ اس عمل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

ابٹمنٹ لگانا

ابٹمنٹ وہ حصہ ہوتا ہے جس پر بعد میں کراؤن نصب کیا جاتا ہے۔ یہ نسبتاً معمولی سرجری عموماً آؤٹ پیشنٹ بنیاد پر کی جاتی ہے اور اس دوران علاج والے حصے کو سن کرنے والی دوا استعمال کی جاتی ہے۔ بعض اوقات سرجن امپلانٹ لگاتے وقت ہی ابٹمنٹ بھی جوڑ دیتا ہے، جس سے اضافی سرجری کی ضرورت نہیں رہتی۔ بعض افراد اس ظاہری شکل کو پسند نہیں کرتے اور ابٹمنٹ کو الگ مرحلے میں لگوانا ترجیح دیتے ہیں۔

نئے مصنوعی دانتوں کا انتخاب

مسوڑھوں کے بھرنے کے بعد جنرل ڈینٹسٹ یا پروستھوڈونٹسٹ منہ اور باقی دانتوں کے مزید نقوش لیتا ہے۔ ان نقوش کی مدد سے کراؤن تیار کیا جاتا ہے، جو قدرتی نظر آنے والا مصنوعی دانت ہوتا ہے۔ جبڑے کی ہڈی کے کافی مضبوط ہونے تک کراؤن نہیں لگایا جا سکتا۔

آپ اور آپ کا ڈینٹسٹ درج ذیل مصنوعی دانتوں میں سے انتخاب کر سکتے ہیں:

٭ ہٹائے جا سکنے والے دانت، جو روایتی ڈینچر کی طرح جزوی یا مکمل ہو سکتے ہیں۔

٭ مستقل دانت، جنہیں صفائی یا سونے کے لیے نہیں نکالا جا سکتا۔

مصنوعی دانت ہٹائے جا سکنے والے اور مستقل دانتوں کے امتزاج پر بھی مشتمل ہو سکتے ہیں۔

پروسیجر کے بعد

ڈینٹل امپلانٹ سرجری کے بعد کچھ مسائل پیش آ سکتے ہیں، جیسے:

٭ مسوڑھوں اور چہرے میں سوجن

٭ جلد اور مسوڑھوں پر نیل پڑنا

٭ امپلانٹ کی جگہ درد

٭ معمولی خون بہنا

ڈینٹل امپلانٹ سرجری کے بعد درد کم کرنے والی ادویات یا اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر سرجری کے بعد کے دنوں میں سوجن، درد یا کوئی اور مسئلہ بڑھ جائے تو فوری طور پر اپنے سرجن سے رابطہ کریں۔

سرجری کے ہر مرحلے کے بعد زخم بھرنے تک نرم غذا کھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ سرجن عموماً ایسے ٹانکے استعمال کرتا ہے جو خود بخود گھل جاتے ہیں۔ اگر ٹانکے خود نہ گھلیں تو انہیں بعد کی معائنے کی ملاقاتوں کے دوران نکال دیا جاتا ہے۔

نتائج

زیادہ تر ڈینٹل امپلانٹس کامیاب رہتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات ہڈی دھاتی امپلانٹ کے ساتھ مطلوبہ حد تک نہیں جڑتی۔ تمباکو نوشی امپلانٹ کی ناکامی اور پیچیدگیوں کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔

اگر ہڈی مناسب طور پر نہ جڑ سکے تو امپلانٹ نکال دیا جاتا ہے اور ہڈی کو صاف کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تقریباً تین ماہ بعد دوبارہ یہ عمل کیا جا سکتا ہے۔

امپلانٹس اور قدرتی دانتوں کی عمر بڑھانے میں درج ذیل اقدامات مدد گارثابت ہو سکتے ہیں:

٭ دانتوں اور مسوڑھوں کو صاف رکھیں۔

٭ باقاعدگی سے ڈینٹسٹ سے معائنہ کروائیں

٭ برف یا سخت ٹافی جیسی چیزیں نہ چبائیں۔ تمباکو اور کیفین والی ایسی مصنوعات سے بچیں جو دانتوں پر داغ ڈال سکتی ہیں۔ دانت پیسنے سے پرہیز کریں

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dentistry

Vinkmag ad

Read Previous

کورٹیسون انجیکشن

Read Next

ڈسکیکٹومی: متاثرہ ڈسک کو نکالنے کی سرجری

Leave a Reply

Most Popular