ڈسکیکٹومی (Diskectomy) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس میں ریڑھ کی ہڈی کی متاثرہ ڈسک کے خراب حصے کو نکالا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ہرنی ایٹڈ ڈسک (Herniated Disc) کی وجہ سے اعصاب پر پڑنے والا دباؤ کم کرنا ہوتا ہے۔ ہرنی ایٹڈ ڈسک اس کیفیت کو کہتے ہیں جب ڈسک کا نرم اندرونی حصہ بیرونی تہہ سے باہر نکل آئے اور قریبی اعصاب کو متاثر کرنے لگے۔
ڈسکیکٹومی زیادہ مؤثر طور پر اس درد میں فائدہ دیتی ہے جو دبے ہوئے اعصاب کی وجہ سے بازوؤں یا ٹانگوں تک پھیل جائے۔ صرف کمر یا گردن کے درد میں یہ طریقہ نسبتاً کم مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ ایسے مریضوں میں اکثر وزن میں کمی، ادویات یا فزیوتھراپی جیسے نان سرجیکل طریقے زیادہ فائدہ دیتے ہیں۔ ڈسکیکٹومی اس وقت تجویز کی جاتی ہے جب نان سرجیکل طریقے مؤثر ثابت نہ ہوں یا علامات میں مسلسل اضافہ ہو۔
کیوں کی جاتی ہے
ڈسکیکٹومی کا بنیادی مقصد ریڑھ کی ہڈی کے اعصاب پر ہرنی ایٹڈ ڈسک کے دباؤ کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ رج ذیل صورتوں میں اسے تجویز کیا جاتا ہے:
٭ اعصابی کمزوری کی وجہ سے کھڑے ہونے یا چلنے میں مشکل ہو
٭ فزیوتھراپی یا انجیکشنز کے باوجود 6 سے 12 ہفتوں میں فائدہ نہ ہو
٭ درد ٹانگوں، بازوؤں، کولہوں یا سینے تک پھیل جائے اور شدید ہو جائے
خطرات
ڈسکیکٹومی نسبتاً محفوظ پروسیجر ہے، تاہم ہر سرجری کی طرح اس میں بھی کچھ خطرات شامل ہو سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ خون بہنا
٭ انفیکشن
٭ ریڑھ کی ہڈی کے مادے کا رسنا
٭ اعصاب یا خون کی نالیوں کو نقصان
تیاری
سرجری سے پہلے مریض کو کچھ وقت تک کھانے پینے سے روک دیا جاتا ہے۔ اگر مریض خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہا ہو تو ان کی مقدار میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے مکمل ہدایات میڈیکل ٹیم فراہم کرتی ہے۔
پروسیجر کے دوران
ڈسکیکٹومی عام طور پر جنرل اینستھیزیا کے تحت کی جاتی ہے، اس لیے مریض دورانِ عمل ہوش میں نہیں ہوتا۔ سرجن صرف اس حصے کو ہٹاتا ہے جو اعصاب پر دباؤ ڈال رہا ہو۔ بعض اوقات ڈسک تک رسائی کے لیے ہڈی کے کچھ حصے اور لیگامنٹ کو بھی نکالنا پڑتا ہے
اگر پوری ڈسک ہٹانا ضروری ہو تو اس کی جگہ ہڈی کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے جو ڈونر، مریض کی اپنی ہڈی یا مصنوعی مواد سے لیا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں قریبی مہرے آپس میں جوڑ دیے جاتے ہیں۔
سرجری کے بعد
سرجری کے بعد مریض کو ریکوری روم میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں اس کی حالت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ بعض مریض اسی دن گھر جا سکتے ہیں، تاہم کچھ کو ہسپتال میں مختصر قیام کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
مریض عموماً 2 سے 6 ہفتوں میں ہلکے کاموں پر واپس جا سکتا ہے۔ بھاری کام یا مشینری کے استعمال والے افراد کو 6 سے 8 ہفتے انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
نتائج
ڈسکیکٹومی زیادہ تر مریضوں میں اعصابی دباؤ سے پیدا ہونے والی علامات میں واضح کمی لاتی ہے، خاص طور پر وہ درد جو ٹانگوں تک پھیلتا ہے۔ تاہم یہ مستقل علاج نہیں کیونکہ یہ ڈسک کے خراب ہونے کی بنیادی وجہ کو ختم نہیں کرتی۔
دوبارہ چوٹ سے بچاؤ کے لیے وزن کو کنٹرول کرنا، متوازن غذا، ہلکی ورزش اور بار بار جھکنے یا بھاری وزن اٹھانے سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=neurosurgery