بچوں کے حفاظتی ٹیکے  

تمام انسانوں کے اندر بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے۔ بچوں میں پیدائش کے وقت اور کچھ عرصے بعد تک یہ صلاحیت کم ہوتی ہےجو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی جاتی ہے۔ اسے ویکسی نیشن کے عمل سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اگر ویکسین لگوا لی جائے تو مستقبل میں بیماری کے حملہ آور ہونے کی صورت میں جسم میں پہلے سے پیدا شدہ مزاحمت اس مرض کے جراثیم کو ختم کردے گی اورفرد بیمار ہونےسے بچ جائے گا۔ کچھ بیماریاں ایسی ہیں جوبچوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان سے بچاؤ کے لئے انہیں  یہ ویکسینز ضرور لگوائیں۔

ٹی بی کا حفاظتی ٹیکہ

اسے بی سی جی کہا جاتا ہے۔ اس کی عموماً ایک ہی خوراک ہوتی ہے۔ یہ ٹیکہ پیدائش کے وقت بچے کے بائیں بازو کے اوپری حصے میں جلد کے نیچے لگایا جاتا ہے۔ اس انجیکشن کے بعد بازو کی جلد پر ہلکا سرخ نشان بننا ضروری ہے۔ اگر دو ہفتے کے اندر یہ نشان ظاہر نہ ہویا دو سے تین ماہ بعد ٹی بی ٹیسٹ منفی آئے تو دوبارہ ویکسین لگوانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

ہیپاٹائٹس اے

اس ویکسین کی دو خوراکیں ہیں۔ پہلی خوراک ایک سال کی عمر میں اور دوسری اس سے 6سے 18 ماہ بعد لگائی جاتی ہے۔ یہ دونوں ٹیکے بازوں کے اوپری حصے پر لگائے جاتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس بی

اس کی خوراکوں کا انحصار ویکسین کی قسم اور برانڈ پر ہے۔ عموماً اس کی تین سے چار خوراکیں ہیں۔ یہ پیدائش کے فوراً بعد، ایک سے دو ماہ کے بعد،چار ماہ کی عمر میں اورپھر 6 سے 18 ماہ کے دوران لگائی جاتی ہے۔یہ ویکسین دائیں ران کے پٹھوں میں لگائی جاتی ہے۔

پولیو کی ویکسین

یہ ویکسین دو طرح کی ہیں۔ان میں پولیو کا حفاظتی انجیکشن اور پولیو کے قطرے شامل ہیں۔ اس ویکسین کی چار خوراکیں ہیں۔ پہلی خوراک پیدائش کے دوسرے ماہ اوردوسری خوراک چوتھے ماہ دی جاتی ہے۔ تیسری خوراک 6 سے 18 ماہ کے دوران اور آخری خوراک 4 سے 6 سال کی عمر کے دوران دی جاتی ہے۔

گردن توڑ بخار

اس مرض سے بچائو کے لئے ویکسین ایم سی وی کہلاتی ہے۔ یہ پیدائش سے 10 سال کی عمر کے دوران ان بچوں کو لگائی جاتی ہےجو صحت کے کچھ خاص مسائل مثلاً تلی کا فعال نہ ہونے کےشکارہوں۔ اس کے لئے ماہرین سے رابطہ کریں اور ضرورت پڑنے پر بچے کو ویکسین لگوائیں۔

خسرہ،کن پیڑے،جرمن خسرہ

تین امراض یعنی خسرہ، کن پیڑے  اور جرمن خسرے سے بچائو کی ویکسین کو ایم ایم آر کہاجاتا ہے۔ اس کی دو خوراکیں ہیں۔ پہلی خوراک نو ماہ کے فوراً بعد جبکہ دوسری خوراک 15 ماہ کے فوراً بعد لگائی جاتی ہے۔ یہ ران کے پٹھوں اور بازو کے اوپری حصے پر لگائی جاتی ہے۔

روٹا وائرس

اس ویکسین کی دو سے تین خوراکیں ہیں جن کا انحصار ویکسین کے برانڈ پر ہے۔ یہ خوراک دو دو ماہ کے وقفے سے دی جاتی ہے یعنی پہلی خوراک پیدائش کے دوسرے ماہ ، دوسری چوتھے ماہ اور اگر ضرورت ہو تو تیسری چھٹے ماہ دی جاتی ہے۔ یہ حفاظتی ویکسین بچوں کو دست اور اسہال سے بچاتی ہے۔

پینٹا ویکسین

یہ ویکسین حلق کی بیماری،تشنج،کالی کھانسی، ہیپاٹائٹس بی اور ایچ آئی بی جیسے بڑے امراض سےتحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس کی پہلی خورا ک پیدائش کےچھٹے ہفتے، دوسری 10ویں ہفتے اور تیسری 14 ہفتے کی عمر میں دی جاتی ہے۔

نمونیا کی ویکسین

نمونیا کی ویکسین  کی تین خوراکیں ہیں۔ پہلی خوراک پیدائش کےچھٹے ماہ، دوسری 10 ماہ اور تیسری14 ماہ کی عمر میں لگائی جاتی ہے۔یہ دائیں یا بائیں ران کے پٹھوں میں لگتی ہے۔

ویکسین کی پہلی خوراک کو پرائمری ڈوز کہتے ہیں۔ اگر کسی ویکسین کی مزید خوراکیں لگنی ہوں تو وہ بوسٹر ویکسین کہلائے گی۔ چونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزاحمت کم ہوجاتی ہے لہٰذا بوسٹر ویکسین کا استعمال اسے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ ویکسی نیشن کا کورس مکمل کریں تاکہ بیماریوں کے خلاف مکمل تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

BCG, OPV, IPV, diphtheria, Measles, Mumps, Rubella, PCV, booster vaccine, children vaccination, child immunization, bachon ko konsi vaccines lagwana zaruri hai

Vinkmag ad

Read Previous

خون کی بیماری، سکل سیل انیمیا

Read Next

فوڈ پوائزننگ

Leave a Reply

Most Popular