چیاری مالفارمیشن (Chiari malformation) ایک ایسی حالت ہے جس میں دماغ کے نچلے حصے کا ٹشو ریڑھ کی نالی میں چلا جاتا ہے، جس سے دماغ پر دباؤ پڑتا ہے۔
اقسام
چیاری مالفارمیشن کی چار اقسام ہیں:
٭ قسم 1 سب سے عام ہے اور اس کی علامات عموماً بچپن کے آخری برسوں یا جوانی میں ظاہر ہوتی ہیں
٭ اقسام 2، 3 اور 4 پیدائشی ہوتی ہیں، تاہم اقسام 3 اور 4 بہت کم پائی جاتی ہیں
علامات
چیاری مالفارمیشن کی علامات اقسام کے مطابق مختلف ہوسکتی ہیں۔
قسم 1 میں سر کے پچھلے حصے کا شدید درد نمایاں علامت ہے، جو کھانسنے، چھینکنے یا زور لگانے سے بڑھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ کبھی کبھی یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
٭ گردن میں درد
٭ چکر آنا اور توازن برقرار رکھنے میں دشواری ہونا
٭ ہاتھ اور پاؤں سُن ہونا یا سوئیاں چبھنے جیسا احساس ہونا
٭ نگلنے یا بولنے میں دشواری پیش آنا
٭ نظر دھندلی ہونا یا آنکھوں کی حرکت بے قابو ہونا
٭ سانس لینے میں دشواری کا سامنا
٭ جسم میں کمزوری یا اچانک بے ہوشی طاری ہونا
٭ پٹھوں میں اکڑاؤ یا غیرارادی کھنچاؤمحسوس ہونا
قسم 2 میں:
٭ سانس لینے اور نگلنے میں دشواری ہوسکتی ہے
٭ آنکھوں کی حرکت نیچے کی طرف ہو جاتی ہے
٭ بازوؤں میں کمزوری ہوسکتی ہے
قسم 3 اور 4 زیادہ سنگین ہوتی ہیں اور دماغ و اعصابی نظام کی نشوونما متاثر کرسکتی ہے۔
وجوہات
٭ چیاری مالفارمیشن کی قسم 1 عموماً کھوپڑی کی کم جسامت یا غیر معمولی ساخت سے متعلق ہوتی ہے۔ اس سے دماغ کے نچلے حصے پر دباؤ پڑتا ہے اور سیری بیلم (دماغ کا وہ حصہ، جو جسم کے توازن، حرکات اور پٹھوں کی ہم آہنگی کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے) ریڑھ کی نالی میں چلا جاتا ہے
٭ قسم 2 عموماً اسپائنا بائیفڈا کی ایک قسم، مائیلومیننگوسیل (اسپائنا بائیفڈا کی ایک شدید قسم، جس میں ریڑھ کی ہڈی اور اس کے پردے ریڑھ کی ہڈی کے سوراخ سے باہر نکل آتے ہیں) ، سے منسلک ہوتی ہے
٭ اقسام 3 اور 4 دماغ اور کھوپڑی کی نشوونما میں خرابی سے متعلق ہوتی ہیں
پیچیدگیاں
بعض افراد میں چیاری مالفارمیشن وقت کے ساتھ ان مسائل کا سبب بن سکتی ہے:
٭ ہائیڈروسیفالس (Hydrocephalus) جس میں دماغ میں اضافی سیال جمع ہوجاتا ہے
٭ اسپائنا بائیفڈا(Spina bifida) جس میں ریڑھ کی ہڈی مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتی
٭ سرینگو مائیلیا(Syringomyelia) میں ریڑھ کی ہڈی کے اندر سیال سے بھری تھیلی بن جاتی ہے
٭ ٹیتھرڈ کارڈ سنڈروم (Tethered cord syndrome) میں ریڑھ کی ہڈی کھنچاؤ کا شکار ہوجاتی ہے
تشخیص
چیاری مالفارمیشن کی تشخیص کے لیے عموماً امیجنگ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ایم آر آئی دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی تفصیلی تصاویر بنا کر اس کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سی ٹی اسکین بھی دماغ، ہڈیوں اور خون کی نالیوں کے مسائل جانچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ حمل کے دوران الٹراساؤنڈ سے بھی بعض اقسام کا پتا چل سکتا ہے۔
علاج
٭ اگرعلامات نہ ہوں تو عموماً علاج کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم باقاعدہ معائنے اور ایم آر آئی سے نگرانی کی جاسکتی ہے۔درد کی صورت میں درد کم کرنے والی ادویات استعمال کی جاسکتی ہیں
٭ علامات پیدا کرنے والی چیاری مالفارمیشن میں اکثر سرجری کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ کم کرنا اور حفاظتی سیال کی روانی بہتر بنانا ہے۔ سب سے عام سرجری پوسٹیریئر فوسا ڈیکمپریشن ہے، جس میں کھوپڑی کے پچھلے حصے کی ایک چھوٹی ہڈی نکالی جاتی ہے
٭ سرجری کے بعد باقاعدہ معائنے اور امیجنگ ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں۔ اگر اعصاب کو پہلے ہی مستقل نقصان پہنچ چکا ہو تو سرجری اس کا ازالہ نہیں کر سکتی
Frequently Asked Questions (FAQs)
چیاری مالفارمیشن کی سب سے عام قسم کون سی ہے؟
قسم 1 سب سے عام ہے اور اس کی علامات عموماً بچپن کے آخری برسوں یا جوانی میں ظاہر ہوتی ہیں۔
کیا چیاری مالفارمیشن ہمیشہ علامات پیدا کرتی ہے؟
نہیں، بہت سے افراد میں کوئی علامات نہیں ہوتیں اور انہیں علاج کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
چیاری مالفارمیشن کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
اس کی تشخیص کے لیے ایم آر آئی، سی ٹی اسکین یا حمل کے دوران الٹراساؤنڈ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔
https://www.shifa.com.pk/specialities/neurology/islamabad