چیٹ جی پی ٹی کا حیرت انگیز کارنامہ

ایلکس کو گزشتہ تین سال سے جسم میں درد کی شکایت تھی۔ وہ 17 ڈاکٹروں کے پاس گئے مگر ان میں کوئی بھی ان کے مرض کی صحیح تشخیص نہیں کرسکا۔

کئی ڈاکٹروں کو دکھانے کے باوجود جب مسئلے کی تشخیص نہ ہو سکی تو ایلکس اور ان کی والدہ کو شدید مایوسی ہوئی۔ ایسے میں انہوں نے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔

ایلکس کی والدہ نے چیٹ بوٹ کو بچے کی تمام تر علامات اور ایم آر آئی کی معلومات فراہم کیں۔ چیٹ جی پی ٹی نے ان علامات کی ممکنہ وجہ ٹی سی ایس(Tethered cord syndrome) بتائی۔ اس سے ایلکس کی ماں کو سارا مسئلہ سمجھ آ گیا۔

یہ کیفیت درد، دانت پیسنے اور دیگر علامات کا باعث بن رہی تھی جن کی ابتدائی طور پر غلط تشخیص کی گئی تھی۔

اس سے ثابت ہوا کہ چیٹ جی پی ٹی ان مریضوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جو پیچیدہ کیفیات کے شکار ہیں اور ان کی تشخیص نہیں ہو پا رہی۔ تاہم اس کی کچھ اپنی خامیاں بھی ہیں، جیسے یہ کبھی کبھی معلومات میں ردو بدل کر دیتا ہے۔

امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن نے ہیلتھ کیئر میں کلینیکل طور پر تصدیق شدہ AI کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

الیکس میں ٹی سی ایس کی تشخیص ہوئی اور اس سے نجات کے لئے اس نے سرجری کروائی۔

ایلکس کی کہانی مریضوں کو سپورٹ کرنے اور با اختیار بنانےکی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے تاکہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے صحیح فیصلے لے سکیں۔ مزید برآں یہ طبی مسائل سے متعلق جوابات جاننے کی مسلسل کوشش کی ضرورت کے علاوہ  اس بات پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ اس سلسلے میں AI ہماری مدد کیسے کر سکتا ہے۔

 

اصل تحریر پڑھنے کے لئے دئیے گئے لِنک پر کلِک کریں:

https://www.linkedin.com/posts/genai-works_ai-artificialintelligence-tech-activity-7109554245359599616-foHZ?utm_source=share&utm_medium=member_android

chatGPT, AI, artificial intelligence, ChatGPT diagnoses Tethered cord syndrome, health, shifanews

Vinkmag ad

Read Previous

Is sleeping without pillow good for posture

Read Next

Does heat cause nosebleeds

Leave a Reply

Most Popular