Vinkmag ad

دل رکنے کے بعد 40 منٹ زندہ رہنے والے مریض کا تجربہ

Profile picture of British cardiac arrest survivor Patrick Charnley after recovery

برطانوی شہری پیٹرک چارنلی طبی طور پر ایک غیرمعمولی تجربے سے گزرے۔ 39 سالہ پیٹرک کو 2021 میں دل کا دورہ پڑا اور وہ گھر میں بے ہوش ہو گئے۔ ان کا دل 40 منٹ تک رکا رہا، جس کے بعد وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئے۔

تفصیلات کے مطابق دل کی موروثی بیماری کے سبب ان کا دل رک گیا۔ اہلیہ نے فوری طور پر سی پی آر شروع کی، جبکہ ان کے نو اور سات سالہ بچوں نے فوری طور پر ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کیا۔ موقع پر پہنچنے والے پیرا میڈیکس نے متعدد بار ڈیفبریلیشن کی۔ کامیابی نہ ملنے پر انہیں ایڈرینالین کے انجیکشن دیے گئے۔ طبی عملے کے مطابق تقریباً 40 منٹ بعد پیٹرک کے دل کی دھڑکن بحال ہو سکی۔

پیٹرک تقریباً ایک ہفتے تک کوما میں رہے۔ ہوش میں آنے پر انہیں دماغی چوٹ کے باعث بینائی، یادداشت اور ذہنی توانائی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے ان کی روزمرہ صلاحیتوں کو محدود کر دیا۔

بی بی سی کے پوڈکاسٹ”ریڈی ٹو ٹاک” میں انہوں نے بتایا کہ اس واقعے نے ان کی زندگی بدل دی۔ اس نے ان کی ترجیحات اور فیملی کے ساتھ تعلقات پر گہرے مثبت اثرات مرتب کیے۔ ان کے مطابق نئی زندگی ملنے پر وہ شکر گزاری کے جذبات رکھتے ہیں۔ دماغی چوٹ سے پیدا ہونے والے مسائل کے باوجود اب وہ زندگی کو زیادہ بامعنی انداز میں دیکھتے ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

کان میں ٹیوب لگانے کا پروسیجر

Read Next

دوران حمل ڈپریشن سے بچوں میں آٹزم کا خطرہ زیادہ، ماہرین

Leave a Reply

Most Popular