Vinkmag ad

سی۔ ڈیفیسیل انفیکشن: بڑی آنت کی بیکٹیریل بیماری

Person holding their belly in discomfort, illustrating stomach pain or digestive distress related to C. difficile infection

بیکٹیریا کی بعض اقسام بڑی آنت کے سب سے بڑے حصے کولون میں انفیکشن پیدا کرتے ہیں۔ انہیں سی۔ ڈیفیسیل (C. difficile) یا سی ڈف (C. diff) بھی کہا جاتا ہے۔ سی۔ ڈیفیسیل انفیکشن (C. difficile infection) کی شدت ہلکے دست سے کولون کو شدید نقصان پہنچانے تک، مختلف ہو سکتی ہے۔

سی۔ ڈیفیسیل انفیکشن اکثر اینٹی بائیوٹک میڈیسن لینے کے بعد ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر بزرگ افراد کو ہسپتال یا طویل مدتی دیکھ بھال والے مراکز میں متاثر کرتا ہے، تاہم ہسپتال سے باہر رہنے والے افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کی بعض اقسام نوجوانوں میں بھی شدید انفیکشن پیدا کر سکتی ہیں۔

علامات

سی۔ ڈیفیسیل انفیکشن کی علامات عام طور پر اینٹی بائیوٹکس لینے کے 5 سے 10 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں، تاہم یہ پہلے دن یا تین ماہ بعد بھی آ سکتی ہیں۔

ہلکا یا درمیانی انفیکشن

٭ دن میں تین یا زیادہ بار پانی جیسے پتلے دست جو ایک دن سے زیادہ رہیں

٭ پیٹ میں ہلکے مروڑ یا حساسیت

شدید انفیکشن

شدید سی۔ ڈیفیسیل انفیکشن میں جسم سے پانی زیادہ خارج ہوتا ہے، اور مریض کو ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہ کولون کی شدید سوزش پیدا کر سکتا ہے اور خون یا پیپ والے دھبے بن سکتے ہیں۔

شدید انفیکشن کی علامات یہ ہیں:

٭ دن میں 10 سے 15 بار پانی جیسے پتلے دست

٭ شدید پیٹ درد اور مروڑ

٭ دل کی تیز دھڑکن

٭ جسم میں پانی کی کمی

٭ بخار اور متلی

٭ خون کے سفید خلیوں میں اضافہ

٭ گردے فیل ہونا

٭ بھوک میں کمی

٭ پیٹ پھولنا اور وزن میں کمی

٭ دست میں خون یا پیپ آنا

اچانک اور شدید انفیکشن ٹاکسک میگا کولون پیدا کر سکتا ہے جس میں کولون سوج کر بڑا ہو جاتا ہے اور سیپسس (خون کے ذریعے پورے جسم میں انفیکشن) ہو سکتا ہے۔ اس کیفیت میں جسم کا مدافعتی نظام اپنے ہی ٹشوز کو نقصان پہنچانے لگتا ہے۔ ایسے مریض عام طور پر آئی سی یو میں داخل ہوتے ہیں۔

وجوہات

سی۔ ڈیفیسیل بیکٹیریا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں، چھوٹی آنت میں بڑھتے ہیں اور کولون میں پہنچ کر زہریلے مادے خارج کرتے ہیں۔ یہ زہریلے مادے خلیوں کو تباہ کرتے ہیں۔ جسم سے باہر یہ بیکٹیریا غیر فعال رہتے ہیں اور درج ذیل جگہوں پر طویل عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں:

٭ انسانی یا جانوروں کا فضلہ

٭ کمروں کی سطحیں

٭ دھلے نہ ہوئے ہاتھ

٭ مٹی

٭ پانی

٭ خوراک، بشمول گوشت

کچھ لوگ بیکٹیریا کے کیریئر ہوتے ہیں لیکن بیمار نہیں ہوتے۔ تاہم وہ خود بیمار نہ ہونے کے باوجود انفیکشن پھیلا سکتے ہیں۔

خطرے کے عوامل

اینٹی بائیوٹکس یا دیگر ادویات

آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا جسم کو انفیکشن سے بچاتے ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس نقصان دہ بیکٹیریا کے ساتھ انہیں بھی ختم کر دیتی ہیں۔ اس سے سی۔ ڈیفیسیل تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ یہ اینٹی بائیوٹکس زیادہ مسائل کا سبب بنتے ہیں:

٭ کلینڈامائسین

٭ سیفالوسپورنز

٭ پینسلینز

٭ فلوروکوئینولونز

٭ پروٹون پمپ انہیبٹر ادویات بھی خطرہ بڑھا سکتی ہیں

مراکز صحت میں قیام

زیادہ تر انفیکشن ہسپتالوں، نرسنگ ہومز یا مراکز صحت میں طویل مدتی قیام کے دوران ہوتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہاں جراثیم آسانی سے پھیلتے ہیں، اور اینٹی بائیوٹکس کا استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریا درج ذیل اشیاء کے ذریعے منتقل ہو سکتے ہیں:

٭  ہاتھ

٭ ٹرالی کے ہینڈل

٭ بیڈ کی سائیڈ ریلنگ

٭ بیڈ کے ساتھ رکھی میزیں

٭ واش روم اور واش بیسن

٭ سٹیتھوسکوپ، تھرمامیٹر یا دیگر طبی آلات

٭ ٹیلی فون

٭ ریموٹ کنٹرول

شدید بیماری یا سرجری

٭ انفلیمیٹری باؤل ڈیزیز

٭ کمزور قوت مدافعت

٭ گردے کی طویل مدتی بیماری

٭ ہاضمے یا معدے کی سرجری

عمر اور سابقہ انفیکشن

٭ 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں خطرہ 10 گنا زیادہ ہوتا ہے

٭ پہلے انفیکشن کے بعد دوبارہ انفیکشن کا امکان بڑھ جاتا ہے

پیچیدگیاں

سی۔ ڈیفیسیل انفیکشن سے درج ذیل پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں:

٭ جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی (ڈی ہائیڈریشن)

٭ گردے فیل ہونا

٭ ٹاکسک میگا کولون (کولون کی سوجن اور پھٹنے کا خطرہ)

٭ کولون میں سوراخ

٭ موت، اگر شدید انفیکشن میں فوری علاج نہ ہو

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟

اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کے بعد بعض افراد کو ڈھیلا پاخانہ ہو سکتا ہے۔ تاہم درج ذیل علامات ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں:

٭ دن میں تین یا زیادہ پانی جیسے دست

٭ علامات دو دن سے زیادہ برقرار رہیں

٭ نیا بخار ظاہر ہو

٭ شدید پیٹ درد یا مروڑ

٭ دست میں خون آنا

تشخیص

تشخیص دست، دیگر علامات اور پاخانے میں بیکٹیریا کی موجودگی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ جن افراد کا پاخانہ معمول کے مطابق ٹھوس ہو، ان کا سی۔ ڈیفیسیل انفیکشن کے لیے ٹیسٹ ضروری نہیں ہوتا۔ بعض افراد کو اینٹی بائیوٹکس کے بغیر بھی انفیکشن ہو سکتا ہے۔

پاخانے کے ٹیسٹ

٭ شبہ ہونے پر پاخانے کے سیمپل کے ایک یا زیادہ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں

٭ یہ ٹیسٹ بیکٹیریا کے زہریلے مادے یا اُن اقسام کی نشاندہی کرتے ہیں جو زہریلے مادے بناتی ہیں

کولون کا معائنہ

بعض اوقات ڈاکٹر بڑی آنت کے اندرونی حصے کا معائنہ کرتے ہیں۔ اس کے لیے کولونوسکوپی استعمال ہوتی ہے۔ یہ ٹیسٹ علامات کی دیگر ممکنہ وجوہات معلوم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

امیجنگ ٹیسٹ

پیٹ کا ایکس رے یا سی ٹی اسکین ممکنہ پیچیدگیوں کا پتہ لگا سکتا ہے:

٭ کولون کی دیوار موٹی ہونا

٭ آنت کا غیر معمولی پھیل جانا

٭ کولون کی اندرونی جھلی میں سوراخ

 علاج

علاج صرف ان افراد کے لیے ہے جن میں انفیکشن کی علامات موجود ہوں۔ بیکٹیریا کے حامل لیکن بیمار نہ ہونے والے افراد کا علاج نہیں کیا جاتا۔

اینٹی بائیوٹکس

اگر انفیکشن کسی اینٹی بائیوٹک کے استعمال سے متعلق ہو تو ڈاکٹر وہ دوا بند کر دیتے ہیں، مگر بعض اوقات کسی اور انفیکشن کے لیے دوا جاری رکھنا ضروری ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں دوسرا اینٹی بائیوٹک دیا جا سکتا ہے جس سے دست کا خطرہ کم ہو۔

سرجری

شدید درد، اعضا فیل ہونا، ٹاکسک میگا کولون یا کولون کی جھلی میں شدید سوجن کے لیے متاثرہ حصے کو نکالنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

دوبارہ ہونے والے انفیکشن کا علاج

تقریباً 25فیصد مریضوں میں علاج کے بعد انفیکشن دوبارہ ہو جاتا ہے۔ ہر نئے انفیکشن کے ساتھ دوبارہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تین یا اس سے زیادہ بار انفیکشن کے بعد خطرہ 50فیصد سے زیادہ ہو جاتا ہے۔

دوبارہ انفیکشن کا زیادہ خطرہ ان افراد میں ہوتا ہے جو 65 سال سے زیادہ عمر کے ہوں، سی۔ ڈیفیسیل کے علاج کے دوران کسی اور بیماری کے لیے اینٹی بائیوٹک استعمال کر رہے ہوں یا کسی شدید بیماری میں مبتلا ہوں، جیسے گردے کی خرابی، آئی بی ایس یا جگر کی بیماری۔

علاج کے طریقے

٭ اینٹی بائیوٹکس

٭ اینٹی باڈی پر مبنی علاج

٭ پروبائیوٹکس

سیلف کیئر اور طرز زندگی

٭ پانی اور یخنی وغیرہ کا استعمال

٭ نشاستہ دار غذائیں جیسے آلو، چاول، نوڈلز، دلیہ

٭ اگر بھوک نہ ہو تو ابتدا میں لیکوئڈ ڈائیٹ

٭ دست ٹھیک ہونے کے بعد دودھ یا دودھ سے بنی اشیاء ہضم کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے

بچاؤ کی تدابیر

٭ اینٹی بائیوٹک صرف ضرورت کے وقت لیں

٭ زیادہ عرصے تک نہ لیں یا محدود سپیکٹرم اینٹی بائیوٹک استعمال کریں

٭ ہسپتال یا نرسنگ ہوم میں صفائی اور ہینڈ واشنگ کا خاص خیال رکھیں

٭ سی۔ ڈیفیسیل کے مریض کے کمرے میں ڈسپوزیبل گلوز اور الگ گاؤن پہنیں

٭ کلورین بلیچ سے صفائی کریں

نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے ہے۔ صحت سے متعلق مسائل میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

غذا میں پروٹین کی کمی کی علامات کیا ہیں؟ ماہرین کی وضاحت

Read Next

C. difficile Infection: Antibiotic-Linked Colon Disease

Leave a Reply

Most Popular