Vinkmag ad

ہاتھ کی پیوند کاری

A patient after successful hand transplant surgery at Leeds, UK

ہاتھ کی پیوند کاری (Hand Transplant) ان افراد کے لیے ایک آپشن ہے جن کے ایک یا دونوں ہاتھ کسی وجہ سے کٹ گئے ہوں۔ اس پروسیجر میں عطیہ کنندہ سے ایک یا دو ہاتھ اور بازو کے کچھ حصے ٹرانسپلانٹ کیے جاتے ہیں، جو عموماً کسی فوت شدہ شخص کے ہوتے ہیں۔ یہ پیچیدہ سرجری دنیا کے چند مخصوص ٹرانسپلانٹ مراکز میں ہی کی جاتی ہے۔

اگرچہ نتائج کی مکمل ضمانت نہیں ہوتی، تاہم یہ عمل بعض مریضوں میں ہاتھ کی جزوی کارکردگی واپس لا سکتا ہے۔ اس سرجری کے ذریعے معیارِ زندگی بہتر ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ عمر بھر کی طبی پابندیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مریض کو مستقل طور پر امیونوسپریسنٹ ادویات استعمال کرنا ہوتی ہیں۔

کیوں کی جاتی ہے

ہاتھ کی پیوند کاری کا مقصد مریض کی زندگی کا معیار بہتر کرنا ہے۔ عطیہ کنندہ کے ہاتھ کے انتخاب میں سرجن درج ذیل عوامل کو مدنظر رکھتے ہیں:

٭ خون کا گروپ

٭ ٹشو کی قسم

٭ جلد کا رنگ

٭ عطیہ کنندہ اور وصول کنندہ کی عمر

٭ جنس

٭ ہاتھ کا سائز

٭ پٹھوں کی جسامت

خطرات

سرجری سے متعلق خطرات

ہاتھ کی پیوند کاری ایک بڑی اور پیچیدہ سرجری ہے جس میں دیگر ٹرانسپلانٹ آپریشنز جیسے عمومی خطرات شامل ہوتے ہیں۔ ان میں انفیکشن، خون بہنا اور خون کے لوتھڑے بننا شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر خون کا کلاٹ بن جائے تو ہاتھ میں خون کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ ہنگامی اور خطرناک صورتحال ہے، اور فوری سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ری ایکشن کے خطرات

ردِ عمل اس وقت ہوتا ہے جب جسم کا مدافعتی نظام عطیہ شدہ ہاتھ کو غیر جسمانی شے سمجھ کر اس پر حملہ کرتا ہے۔ یہ نظام ہاتھ کے ٹشوز کو اسی طرح نقصان پہنچا سکتا ہے جیسے وہ وائرس یا بیکٹیریا کے خلاف ردعمل دیتا ہے۔

ردِ عمل کی دو اقسام ہوتی ہیں:

ایکیوٹ ری ایکشن

یہ اس وقت ہوتا ہے جب مدافعتی نظام تیزی سے عطیہ شدہ ٹشوز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ بعض اوقات یہ خون کی نالیوں اور ٹشوز پر اینٹی باڈیز کے ذریعے حملہ کرتا ہے۔ اس میں ہاتھ یا بازو پر خارش، سوجن اور جلد کے رنگ میں تبدیلی ظاہر ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں درد بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت عموماً ادویات سے کنٹرول میں آ جاتی ہے، تاہم نایاب صورتوں میں ہاتھ کو ہٹانا بھی پڑ سکتا ہے۔

کرانک ری ایکشن

یہ ردعمل آہستہ آہستہ، طویل مدت میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہاتھ میں درد، کمزوری اور فعالیت میں کمی آ سکتی ہے۔ بالوں کا جھڑنا اور ناخنوں میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔

ابتدائی علامات پر نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر ٹرانسپلانٹ ٹیم کو اطلاع دینی چاہیے۔ ڈاکٹرز ضرورت پڑنے پر اضافی ٹیسٹ اور بائیوپسی بھی کر سکتے ہیں۔

امیونوسپریسنٹس کے خطرات

امیونوسپریسنٹس وہ طاقتور ادویات ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو عطیہ شدہ ہاتھ کو رد کرنے سے روکتی ہیں۔ انہیں عمر بھر استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔

مریض کو ان سائیڈ ایفیکٹس کا سامنا ہو سکتا ہے:

٭ سنگین انفیکشن کا بڑھا ہوا خطرہ

٭ کینسر کا خطرہ بڑھ جانا

٭ گردوں کو نقصان

٭ ذیابیطس کا امکان

٭ ہڈیوں کی کمزوری (اوسٹیوپوروسس)

٭ کولیسٹرول میں اضافہ جس سے دل کی بیماری کا خطرہ بڑھتا ہے

دیگر ممکنہ اثرات:

٭ ایکنی

٭ وزن میں اضافہ

٭ نیند کی کمی

٭ بالوں کا جھڑنا

٭ آسانی سے نیل پڑ جانا

٭ اسہال

٭ سر درد

٭ متلی

تیاری کیسے کریں

ہاتھ کی پیوند کاری کا فیصلہ

سرجری سے پہلے مریض کو اس کے تمام خطرات اور عمر بھر کی دیکھ بھال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس عمل سے کیا ممکنہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

سرجری کے بعد کی دیکھ بھال میں شامل ہوتا ہے:

٭ باقاعدہ طبی معائنے اور ٹرانسپلانٹ ٹیم سے ملاقاتیں

٭ مستقل فزیوتھراپی

٭ روزانہ امیونوسپریسنٹ ادویات کا استعمال اور ان کے اثرات کا انتظام

٭ بنیادی صحت کی نگرانی کے لیے ڈاکٹر سے فالو اپ

ٹرانسپلانٹ ٹیم مریض کا مکمل جائزہ لیتی ہے۔ عام طور پر وہ افراد جن کا ہاتھ درمیانی یا اوپری بازو تک کٹا ہو، اس کے لیے زیر غور آ سکتے ہیں۔

اہلیت کے لیے شرائط درج ذیل ہیں:

٭ مکمل جسمانی معائنہ بشمول ایکسرے اور خون کے ٹیسٹ

٭ ذہنی اور جذباتی صحت کا جائزہ

٭ اعصابی بیماریوں کی عدم موجودگی

٭ سنگین بیماریوں جیسے دل، گردہ، کینسر کی عدم موجودگی

٭ حالیہ سنگین انفیکشن نہ ہونا

٭ سگریٹ نوشی نہ کرنا

٭ شراب یا منشیات کا استعمال نہ ہونا

تیاری کا عمل

اہلیت کے بعد مریض کو ڈونر کے انتظار کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ انتظار کا وقت غیر یقینی ہوتا ہے کیونکہ موزوں ڈونر کی دستیابی کا وقت معلوم نہیں ہوتا۔

تیاری کے اقدامات میں شامل ہیں:

٭ کلینک کے باقاعدہ دورے تاکہ ٹیسٹ اور تیاری کا جائزہ لیا جا سکے

٭ ورزشیں تاکہ بازوؤں کی طاقت اور لچک بہتر ہو

٭ سفر اور رہائش کی منصوبہ بندی کیونکہ مریض کے لیے ہسپتال کے قریب رہنا ضروری ہوتا ہے

٭ ٹرانسپلانٹ ٹیم سے مسلسل رابطہ اور طبی تبدیلیوں کی فوری اطلاع

آپریشن کے دوران

ہاتھ کی پیوند کاری ایک انتہائی پیچیدہ سرجری ہے جو 18 سے 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتی ہے۔ سرجنوں کی ٹیم مسلسل عمل کی نگرانی کرتی ہے اور مریض کے اہل خانہ کو وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جاتا ہے۔

پہلے مرحلے میں ہڈیوں کو دھاتی پلیٹس کے ذریعے جوڑا جاتا ہے۔ اس کے بعد خون کی نالیوں، اعصاب اور پٹھوں کو باریک ٹانکوں کے ذریعے ملایا جاتا ہے۔ آخر میں جلد کو بند کر دیا جاتا ہے۔

آپریشن کے بعد

سرجری کے بعد مریض کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا جاتا ہے۔ ہاتھ کی فعالیت اور خون کی روانی کی نگرانی کی جاتی ہے۔ مریض کو انگلیوں کو حرکت دینے کی کوشش کروائی جاتی ہے۔ بعض اوقات کمرے کا درجہ حرارت زیادہ رکھا جاتا ہے تاکہ خون کی گردش بہتر ہو سکے۔

حالت مستحکم ہونے پر مریض کو وارڈ میں منتقل کیا جاتا ہے۔ عموماً 7 سے 10 دن ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔ اس دوران درد کا مؤثر انتظام کیا جاتا ہے، اور فزیوتھراپی شروع کر دی جاتی ہے۔ مریض کو ورزشیں سکھائی جاتی ہیں۔

ابتدائی دنوں میں جذباتی دباؤ، نیند کی کمی اور نئی صورتحال سے ہم آہنگی کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ان کے لیے طبی ٹیم سے رابطہ ضروری ہوتا ہے۔

امیونوسپریسنٹس

یہ ادویات جسم کے مدافعتی نظام کو ہاتھ پر حملہ کرنے سے روکتی ہیں اور انہیں زندگی بھر جاری رکھنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ اہم ہدایات یہ ہیں:

٭ ادویات روزانہ ایک ہی وقت پر لیں

٭ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں

٭ سائیڈ ایفیکٹس کی مسلسل نگرانی کریں

٭ باقاعدہ خون کے ٹیسٹ کروائیں

یہ ادویات انفیکشن کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اس لیے بخار، سوجن یا کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طبی رابطہ ضروری ہے۔

نتائج

چونکہ یہ نسبتاً نئی سرجری ہے، اس لیے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کی مکمل پیشگوئی ممکن نہیں، تاہم درست فالو اپ اور دیکھ بھال سے بہتر نتائج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ممکنہ طور پر حاصل ہونے والی صلاحیتیں یہ ہیں:

٭ چھوٹی اشیاء اٹھانا جیسے نٹ اور بولٹ وغیرہ

٭ بھاری اشیاء اٹھانا جیسے پانی کا جگ

٭ اوزاروں کا استعمال

٭ سکے کو ہاتھ میں پکڑنا

٭ چاقو اور کانٹے کا استعمال

٭ جوتے باندھنا

٭ گیند کو پکڑنا

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=general-surgeon

Vinkmag ad

Read Previous

کورونری آرٹری بائی پاس سرجری (کیبج)

Read Next

بلیوپینکریاٹک ڈائیورژن ود ڈوڈینل سوئچ (بی پی ڈی/ڈی ایس)

Leave a Reply

Most Popular