کورونری آرٹری بائی پاس سرجری (Coronary artery bypass surgery) یا کیبج میں دل کی بند یا تنگ شریان کے گرد خون کے بہاؤ کے لیے نیا راستہ بنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سینے یا ٹانگ سے خون کی نالی لی جاتی ہے، اور اسے بند شریان کے نیچے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ نیا راستہ دل کے پٹھوں تک خون کی روانی بہتر کرتا ہے۔ اس سرجری کے دیگر نام یہ ہیں:
٭ کورونری آرٹری بائی پاس گرافٹنگ
٭ کورونری آرٹری بائی پاس گرافٹ سرجری
٭ ہارٹ بائی پاس سرجری
یہ سرجری دل کی بنیادی بیماری جیسے ایتھروسکلروسس کو ختم نہیں کرتی، بلکہ صرف خون کی رکاوٹ کے اثرات کم کرتی ہے۔ تاہم یہ سینے کے درد، سانس پھولنے اور ہارٹ اٹیک کے خطرات میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
کورونری بائی پاس سرجری کا بنیادی مقصد بند یا تنگ شریانوں کے گرد خون کا متبادل راستہ فراہم کرنا ہے۔ کچھ صورتوں میں یہ ہارٹ اٹیک کی ایمرجنسی میں اس وقت کی جاتی ہے جب فوری علاج مؤثر ثابت نہ ہو رہا ہو۔
ڈاکٹر یہ سرجری مندرجہ ذیل حالات میں تجویز کر سکتے ہیں:
٭ بائیں مرکزی دل کی شریان میں شدید رکاوٹ
٭ مرکزی شریان کی خطرناک حد تک تنگی
٭ متعدد شریانوں کی وجہ سے شدید سینے کا درد
٭ ایک سے زیادہ شریانوں کی بیماری اور دل کے بائیں حصے کی کمزوری
٭ ایسی بند شریان جس کا علاج انجیوپلاسٹی سے ممکن نہ ہو
٭ انجیوپلاسٹی یا سٹنٹ کے بعد دوبارہ تنگی پیدا ہونا
خطرات اور ممکنہ پیچیدگیاں
یہ اوپن ہارٹ سرجری ہے جس میں کچھ خطرات شامل ہوتے ہیں۔ ان میں خون بہنا، انفیکشن اور دل یا دماغ سے متعلق پیچیدگیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ ممکنہ پیچیدگیاں درج ذیل ہیں:
٭ خون زیادہ بہنا
٭ ہارٹ اٹیک یا خون کا کلاٹ بننا
٭ سینے کے زخم میں انفیکشن
٭ طویل وقت تک وینٹی لیٹر پر انحصار
٭ دل کی بے ترتیب دھڑکنیں
٭ گردوں کی کارکردگی متاثر ہونا
٭ ذہنی الجھن
٭ سٹروک
ایمرجنسی سرجری میں پیچیدگیوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ذیابیطس، سی او پی ڈی، گردوں کی بیماری اور ٹانگوں کی شریانوں کی بندش یہ خطرہ مزید بڑھا سکتی ہیں۔
سرجری سے پہلے خون بہنے اور انفیکشن کا خطرہ کم کرنے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں میں دورانِ آپریشن شوگر کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔
تیاری کا مرحلہ
سرجری سے پہلے مریض کو خوراک، ادویات اور روزمرہ سرگرمیوں میں تبدیلی کی ہدایت دی جاتی ہے۔ ہسپتال سے واپسی کے بعد گھر میں کسی فرد کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔
پہلے
طے شدہ سرجری کی صورت میں مریض کو عموماً آپریشن والے دن ہسپتال داخل کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے خون اور دل کے ٹیسٹ مکمل کیے جاتے ہیں، تاکہ مکمل طبی جائزہ لیا جا سکے۔
دوران
یہ ایک بڑی اور پیچیدہ سرجری ہے جو دل کے ماہر سرجن ہسپتال میں انجام دیتے ہیں۔ اس میں کارڈیالوجسٹ اور عملہ مریض کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔
آپریشن کے اہم مراحل یہ ہوتے ہیں:
٭ آرام کے لیے آئی وی کے ذریعے سکون آور دوا دی جاتی ہے
٭ جنرل اینستھیزیا کے ذریعے مریض کو بے ہوش کیا جاتا ہے
٭ سانس برقرار رکھنے کے لیے وینٹی لیٹر استعمال کیا جاتا ہے
٭ دل اور پھیپھڑوں کا کام عارضی طور پر مشین کے سپرد کیا جاتا ہے
سرجن سینے کی ہڈی کو درمیان سے کاٹ کر دل تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ دل کو وقتی طور پر روک کر بائی پاس گرافٹ لگایا جاتا ہے۔ یہ گرافٹ عام طور پر سینے یا ٹانگ سے لی گئی صحت مند نالی ہوتی ہے۔ کبھی ایک سے زیادہ گرافٹ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
کچھ متبادل طریقے بھی استعمال ہوتے ہیں:
٭ دھڑکتے دل پر بغیر مشین کے سرجری
٭ چھوٹے کٹس کے ذریعے سرجری
سرجری مکمل ہونے کے بعد دل کی دھڑکن بحال کی جاتی ہے اور سینے کی ہڈی کو تاروں سے بند کر دیا جاتا ہے۔
بعد میں
سرجری کے بعد مریض کو آئی سی یو میں نگرانی میں رکھا جاتا ہے اور مکمل آرام دیا جاتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں کمزوری، درد اور وقتی طور پر ذہنی الجھن ہو سکتی ہے۔
مریض کی کیئر میں یہ امور شامل ہوتے ہیں:
٭ جب تک سانس بحال نہ ہو، سانس کی ٹیوب ہٹائی نہیں جاتی
٭ آئی سی یو میں ایک سے دو دن نگرانی کی جاتی ہے
٭ مکمل ہسپتال قیام ایک ہفتے تک ہو سکتا ہے
٭ دل کی دھڑکن اور سانس کی مسلسل مانیٹرنگ کی جاتی ہے
٭ درد اور خون کے کلاٹ بننے سے بچاؤ کی ادویات دی جاتی ہیں
٭ کارڈیک ریہیب کا آغاز کیا جاتا ہے
گھر جانے کے بعد مریض کو درج ذیل علامات پر فوری توجہ دینی چاہیے:
٭ بخار
٭ دل کی تیز دھڑکن
٭ سینے کے زخم میں بڑھتا ہوا درد
٭ زخم کے گرد رنگت میں تبدیلی
٭ زخم سے خون یا رطوبت کا اخراج
بحالی کا مکمل دورانیہ عموماً 6 سے 12 ہفتے ہوتا ہے۔ 4 سے 6 ہفتوں بعد ڈاکٹر کی اجازت سے معمول کی سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔
نتائج اور طرز زندگی
زیادہ تر مریضوں میں سرجری کے بعد نمایاں بہتری آتی ہے۔ کئی سال تک علامات کم رہتی ہیں، تاہم مستقبل میں دوبارہ شریان بند ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔
طویل مدتی نتائج کا انحصار بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس کے کنٹرول پر ہوتا ہے۔ اس لیے ادویات کا باقاعدہ استعمال انتہائی ضروری ہے۔
دل کی صحت بہتر رکھنے کے لیے درج ذیل اقدامات مفید ہیں:
٭ تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز
٭ متوازن غذا جس میں سبزیاں اور پھل شامل ہوں
٭ وزن کو نارمل حد میں رکھنا
٭ باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور ورزش
٭ ذہنی دباؤ کا مؤثر انتظام
٭ روزانہ مناسب نیند کا حصول
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiac-surgery