بریکی تھراپی (Brachytherapy) کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی ریڈی ایشن تھراپی کی ایک خاص قسم ہے، جس میں تابکار مادہ جسم کے اندر یا کینسر کے قریب رکھا جاتا ہے۔ اسے اندرونی ریڈی ایشن بھی کہا جاتا ہے۔
ریڈی ایشن تھراپی کی ایک دوسری اور زیادہ عام قسم ایکسٹرنل بیم ریڈی ایشن تھراپی (ای بی آر ٹی) ہے۔ اس میں ایک مشین جسم کے گرد حرکت کرکے مخصوص حصوں پر شعاعیں ڈالتی ہے۔
ریڈی ایشن تھراپی کینسر زدہ خلیوں کو نقصان پہنچانے یا ختم کرنے کے لیے توانائی کے طاقتور ذرائع استعمال کرتی ہے۔ یہ علاج ٹیومر کو سکیڑتا اور کینسر دوبارہ ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔ بریکی تھراپی میں نسبتاً چھوٹے اور مخصوص حصے میں ریڈی ایشن کی زیادہ خوراک دی جاتی ہے۔ اس سے قریبی صحت مند ٹشوز کو کم نقصان پہنچتا ہے۔
اقسام
بریکی تھراپی کی دو اقسام ہیں:
ہائی ڈوز ریٹ (ایچ ڈی آر) بریکی تھراپی
اس میں کم وقت میں زیادہ مقدار میں ریڈی ایشن دی جاتی ہے۔ تابکار مادہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے، اسے چند منٹ کے لیے رکھا جاتا ہے اور پھر نکال دیا جاتا ہے۔ علاج چند سیشنز پر مشتمل ہو سکتا ہے۔
لو ڈوز ریٹ (ایل ڈی آر) بریکی تھراپی
اس میں چاول کے دانے کے برابر چھوٹے ریڈی ایشن سیڈز استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ ٹیومر میں مستقل طور پر لگا دیے جاتے ہیں اور مہینوں تک کم مقدار میں ریڈی ایشن خارج کرتے رہتے ہیں۔ بعد میں ریڈی ایشن ختم ہو جاتی ہے۔ یہ سیڈز جسم میں رہتے ہیں لیکن نقصان نہیں پہنچاتے۔ یہ عام طور پر پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔
کیوں کی جاتی ہے
بریکی تھراپی زیادہ تر کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے، تاہم بعض اوقات یہ دل کی بیماریوں سمیت دیگر طبی حالات میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
کینسر کے علاج میں بعض صورتوں میں یہ ایکسٹرنل بیم ریڈی ایشن تھراپی (ای بی آر ٹی) کا متبادل ہوتی ہے۔ اسے اکیلے یا دیگر علاج کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سرجری کے بعد باقی رہ جانے والے کینسر خلیوں کو ختم کرنے کے لیے، یا اضافی ریڈی ایشن بوسٹ کے طور پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
بریکی تھراپی مختلف اقسام کے کینسر میں استعمال ہوتی ہے، جن میں شامل ہیں:
٭ دماغ کا کینسر
٭ چھاتی کا کینسر
٭ سرویکل کینسر
٭ اینڈومیٹریل کینسر
٭ غذائی نالی کا کینسر
٭ آنکھ کا کینسر
٭ پتے کا کینسر
٭ سر اور گردن کا کینسر
٭ پھیپھڑوں کا کینسر
٭ پروسٹیٹ کینسر
٭ ریکٹل کینسر
٭ جلد کا کینسر
٭ نرم ٹشوز کے سارکوما
٭ وجائنا کا کینسر
٭ خواتین کے بیرونی جنسی اعضا میں پیدا ہونے والا کینسر
خطرات
بریکی تھراپی کے سائیڈ ایفیکٹس علاج کیے جانے والے مخصوص حصے پر منحصر ہوتے ہیں۔ ریڈی ایشن چونکہ صرف مخصوص ایریا میں دی جاتی ہے، اس لیے اس کا اثر بھی محدود رہتا ہے۔
عام ضمنی مضر اثرات
اس کے درج ذیل سائیڈ ایفیکٹس ہو سکتے ہیں:
٭ علاج شدہ حصے میں سوجن اور چھونے پر درد/حساسیت
٭ ہلکا درد یا تکلیف
٭ پیشاب اور پاخانے کے معمولات میں تبدیلیاں
٭ ہلکا خون آنا یا سپاٹنگ
٭ تولیدی اعضاء کے علاج میں جنسی کارکردگی میں تبدیلیاں
٭ انفیکشن کا خطرہ
یہ سائیڈ ایفیکٹس عام طور پر ہلکے اور عارضی ہوتے ہیں، تاہم بہتر رہنمائی کے لیے اپنی میڈیکل ٹیم سے مشورہ ضروری ہے۔
سنگین پیچیدگیاں
کبھی کبھار سنگین پیچیدگیاں بھی ہو سکتی ہیں، لیکن یہ کم ہوتی ہیں:
٭ فِسٹولا، یعنی قریبی اعضاء کے درمیان غیر معمولی سوراخ بن جانا
٭ ٹشوز میں تبدیلیاں، سختی یا سکڑاؤ
٭ زخم بھرنے میں تاخیر یا ٹشو کا متاثر ہونا
تیاری کیسے کریں
بریکی تھراپی سے پہلے مریض عام طور پر:
٭ ریڈی ایشن آنکولوجسٹ سے ملاقات کرتا ہے
٭ امیجنگ ٹیسٹ کرواتا ہے، جیسے ایکس رے، ایم آر آئی یا سی ٹی سکین
٭ اینستھیزیا کے بارے میں بات کرتا ہے
٭ میڈیکل ٹیم کی ہدایات پر عمل کرتا ہے، جیسے خوراک، ادویات یا لیبارٹری ٹیسٹس میں تبدیلی
طریقہ کار
زیادہ تر مریضوں میں بریکی تھراپی آؤٹ پیشنٹ طریقے سے کی جاتی ہے، یعنی مریض اسی دن گھر واپس جا سکتا ہے۔ تاہم بعض صورتوں میں ہسپتال میں قیام بھی ضروری ہو سکتا ہے۔
ایچ ڈی آر بریکی تھراپی
اس طریقہ علاج میں تابکار مادہ مختصر وقت کے لیے جسم میں رکھا جاتا ہے اور پھر نکال دیا جاتا ہے:
پوزیشننگ: مریض کو آرام دہ حالت میں رکھا جاتا ہے اور بعض اوقات اینستھیزیا دی جاتی ہے
ڈیوائس کی تنصیب: ریڈی ایشن دینے والا آلہ کینسر کے قریب رکھا جاتا ہے
امیجنگ: سی ٹی اسکین یا الٹراساؤنڈ سے درست جگہ کی تصدیق کی جاتی ہے
منصوبہ بندی: کمپیوٹر سافٹ ویئر سے ذاتی علاج کا منصوبہ بنایا جاتا ہے
ریڈی ایشن کا اجرا: تابکار مادہ چند منٹ کے لیے دیا جاتا ہے اور مریض کو اس کا احساس نہیں ہوتا
اختتام: مادہ نکال دیا جاتا ہے اور مریض ریڈیو ایکٹو نہیں رہتا
ایل ڈی آر بریکی تھراپی
یہ طریقہ عام طور پر مستقل ہوتا ہے، جس میں تابکار سیڈز جسم میں رکھ دیے جاتے ہیں:
سیڈز کی تنصیب: اینستھیزیا کے تحت سوئیوں کے ذریعے سیڈز ٹیومر میں لگائے جاتے ہیں۔ امیجنگ سے درست جگہ یقینی بنائی جاتی ہے
بعد از علاج: سیڈز آہستہ آہستہ ریڈی ایشن خارج کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ احتیاطاً کچھ دنوں تک بچوں اور حاملہ افراد سے قریبی رابطہ محدود رکھنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے
نتائج
علاج کے بعد فالو اپ معائنے اور امیجنگ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ علاج کی کامیابی کا اندازہ لگایا جا سکے اور اگلے مراحل طے کیے جا سکیں۔
فالو اپ کے دوران میڈیکل ٹیم سائیڈ ایفیکٹس کے بارے میں بھی پوچھتی ہے۔ مریض کو علامات بتانے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔
اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری رابطہ کریں:
٭ بخار یا سردی لگنا، جو انفیکشن کی علامت ہو سکتا ہے۔ اگر بخار 100.4 فارن ہائیٹ (38 ڈگری سینٹی گریڈ) سے زیادہ ہو تو تشویشناک ہے
٭ شدید خون بہنا
٭ درد میں اضافہ، حتیٰ کہ دوا کے باوجود
٭ غیر متوقع یا شدید سائیڈ ایفیکٹس
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=oncologist