Vinkmag ad

بلیروبن بلڈ ٹیسٹ

Lab technician holding a blood sample vial for a bilirubin blood test in a clinical laboratory setting.

بلیروبن بلڈ ٹیسٹ (Bilirubin blood test) جگر کی کارکردگی جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں خون میں بلیروبن کی مقدار ماپی جاتی ہے۔ بلیروبن اس وقت بنتا ہے جب خون کے سرخ خلیے ٹوٹتے ہیں اور ان کا مواد جسم میں دوبارہ استعمال (ری سائیکل) ہوتا ہے۔

جگر اس بلیروبن کو بائل میں تبدیل کرتا ہے جو عام طور پر بائل ڈکٹس کے ذریعے آنتوں تک پہنچتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو بلیروبن جسم میں جمع ہونے لگتا ہے۔ یہ رکاوٹ پتھری یا جگر اور لبلبے کے کینسر کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔

کبھی کبھار بلیروبن اس وقت بھی بڑھ جاتا ہے جب خون کے سرخ خلیے معمول سے زیادہ تیزی سے ٹوٹیں، چاہے کوئی رکاوٹ موجود نہ ہو۔

بلیروبن جسم سے پاخانے اور پیشاب کے ذریعے خارج ہوتا ہے۔ جب اس کی مقدار بڑھ جائے تو جلد اور آنکھیں پیلی ہو سکتی ہیں، جسے یرقان کہا جاتا ہے۔ بعض جلدی رنگوں میں یہ پیلاہٹ کم واضح ہوتی ہے۔ زیادہ بلیروبن کی صورت میں پاخانہ ہلکا یا مٹیالا اور پیشاب بھورا یا نارنجی رنگ کا ہو سکتا ہے۔

کیوں کیا جاتا ہے

بلیروبن بلڈ ٹیسٹ عام طور پر لیور فنکشن ٹیسٹ کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ ٹیسٹ جگر کی کارکردگی جانچنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ بلیروبن ٹیسٹ درج ذیل وجوہات جانے کے لیے کیا جاتا ہے:

٭ یرقان

٭ بخار، کپکپی، وزن میں کمی اور تھکن، خاص طور پر دائیں اوپری پیٹ کے درد کے ساتھ

٭ جگر یا بائل ڈکٹس میں رکاوٹ کی تشخیص

٭ جگر کی بیماری جیسے ہیپاٹائٹس یا کینسر کی مانیٹرنگ

٭ خون کے سرخ خلیوں کے تیزی سے ٹوٹنے سے ہونے والی انیمیا (ہیمولائسز) کی تشخیص

٭ علاج کے اثرات جانچنا

٭ کسی دوا کے ممکنہ نقصان کا اندازہ لگانا

بلیروبن بڑھنے کی ایک عام اور بے ضرر وجہ گلبرٹ سنڈروم ہے۔ اس حالت میں جگر بلیروبن کو معمول سے سست رفتاری سے پروسیس کرتا ہے۔ ایک بار تشخیص ہو جائے تو عام طور پر فکر کی ضرورت نہیں رہتی۔

کبھی کبھار بلیروبن کی سطح پانی کی کمی، فاسٹنگ یا ورزش کی وجہ سے بھی عارضی طور پر بڑھ سکتی ہے۔

نومولود بچوں میں یرقان ایک عام اور عارضی حالت ہے۔ یہ 37 ہفتوں سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ بعض شیرخوار بچوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر ابتدائی دنوں میں بچے کا بلیروبن لیول چیک کر سکتے ہیں۔

35 ہفتوں کے بعد پیدا ہونے والے زیادہ تر بچوں کو علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم شدید یرقان خطرناک ہو سکتا ہے، اگر علاج نہ کیا جائے۔

ڈاکٹر بعض اوقات مزید ٹیسٹ بھی تجویز کرتے ہیں جو بلیروبن ٹیسٹ کے ساتھ کیے جا سکتے ہیں:

٭ لیور فنکشن ٹیسٹ، جو جگر کے انزائم اور پروٹین کی سطح جانچتے ہیں

٭ البیومن اور ٹوٹل پروٹین ٹیسٹ، جو جگر کی پروٹین بنانے کی صلاحیت ظاہر کرتے ہیں

٭ کمپلیٹ بلڈ کاؤنٹ، جو خون کے خلیوں کی مجموعی جانچ کرتا ہے

٭ پروتھرمبن ٹائم (Prothrombin Time) ، جو خون جمنے کا وقت ماپتا ہے

خطرات

بلیروبن ٹیسٹ کے لیے خون عام طور پر بازو کی رگ سے لیا جاتا ہے۔ نوزائیدہ بچوں میں یہ خون ایڑی سے لیا جاتا ہے۔ زیادہ تر افراد کے لیے یہ ٹیسٹ جلدی سے ہو جاتا ہے، اور آسان ہوتا ہے۔

اس کے ممکنہ خطرات درج ذیل ہیں:

٭ سوئی لگنے کی جگہ پر ہلکی تکلیف

٭ درد یا حساسیت

٭ نیلا نشان یا معمولی خراش

٭ ہلکا خون بہنا

٭ چکر آنا یا بے ہوشی محسوس ہونا

٭ انفیکشن، جو بہت کم ہوتا ہے

اگر چکر محسوس ہوں تو فوراً طبی عملے کو آگاہ کریں اور آرام کریں۔

تیاری

زیادہ تر افراد کو کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کچھ ادویات، خوراک یا مشروبات نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔  اس لیے اپنی تمام ادویات کے بارے میں ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں۔

کبھی ڈاکٹر ٹیسٹ سے پہلے کھانے پینے یا مخصوص ادویات سے روک سکتے ہیں۔

طریقہ کار

پہلے

آپ کو بتایا جاتا ہے کہ ٹیسٹ کہاں ہوگا۔ یہ ہسپتال، کلینک، لیبارٹری یا گھر میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

دوران

ایک ہیلتھ پروفیشنل خون کا چھوٹا نمونہ لیتا ہے۔ آپ عام طور پر کرسی پر بیٹھتے ہیں۔ سوئی بازو کی رگ میں لگائی جاتی ہے اور ہلکی چبھن محسوس ہو سکتی ہے۔ خون ایک چھوٹی ٹیوب میں جمع کیا جاتا ہے اور آخر میں پٹی لگا دی جاتی ہے۔ نوزائیدہ بچوں میں ایڑی میں چھوٹا سا پنکچر کیا جاتا ہے، جسے ہیل سٹک کہتے ہیں۔ بعد میں پٹی لگا دی جاتی ہے۔

نمونہ لیبارٹری میں تجزیے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

بعد میں

ہلکا درد یا نیلا نشان ہو سکتا ہے جو ایک یا دو دن میں ختم ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر افراد فوراً معمول کی سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔

نتائج

بلیروبن کے نتائج تین اقسام میں بیان کیے جاتے ہیں: ٹوٹل، ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ بلیروبن

ٹوٹل بلیروبن: ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ کا مجموعہ

ڈائریکٹ بلیروبن: جگر سے بننے والی پانی میں حل ہونے والی شکل

ان ڈائریکٹ بلیروبن: خون کے سرخ خلیوں کے ٹوٹنے سے بننے والی شکل، جو البیومن کے ساتھ خون میں گردش کرتی ہے

بلیروبن کی پیمائش ملی گرام فی ڈیسی لیٹر (mg/dL) میں کی جاتی ہے۔ عام طور پر بالغوں میں ٹوٹل بلیروبن 1.2 اور بچوں میں 1 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر تک ہوتا ہے۔ ڈائریکٹ بلیروبن عام طور پر 0.3 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ہوتا ہے۔ یرقان عام طور پر اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب ٹوٹل بلیروبن 3 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہو۔

بالغ افراد

بالغوں میں علاج بنیادی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر مسئلہ جگر کی بیماری، انفیکشن، کینسر یا رکاوٹ ہو تو اسی کا علاج کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات دوا یا الکحل بند کرنے سے بھی بہتری آتی ہے۔

بچے

نومولود بچوں میں جگر مکمل طور پر فعال نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بلیروبن بڑھ جاتا ہے۔ ہلکا یرقان اکثر خود ہی ختم ہو جاتا ہے، لیکن شدید صورت میں علاج ضروری ہوتا ہے۔

فوٹوتھراپی ایک عام علاج ہے جس میں بچے کو نیلی- سبز روشنی کے نیچے رکھا جاتا ہے۔ یہ روشنی بلیروبن کی ساخت بدل دیتی ہے تاکہ وہ پیشاب اور پاخانے کے ذریعے آسانی سے خارج ہو سکے۔ علاج کے دوران بچہ عام طور پر صرف ڈائپر اور آنکھوں پر حفاظتی پٹی پہنتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist

Vinkmag ad

Read Previous

بریکی تھراپی: شعاعوں کے ذریعے اندرونی علاج

Read Next

بائیو فیڈ بیک

Leave a Reply

Most Popular