Vinkmag ad

عقل داڑھ نکالنا

Female patient undergoing wisdom tooth removal surgery in a dental clinic

عقل داڑھ نکالنا (Wisdom tooth removal) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس میں ایک یا ایک سے زیادہ عقل داڑھیں نکالی جاتی ہیں۔ یہ بالغ افراد کے چار مستقل دانت ہوتے ہیں جو منہ کے پچھلے اوپری اور نچلے کونوں میں واقع ہوتے ہیں۔

اگر عقل داڑھ کے نکلنے کے لیے جگہ موجود نہ ہو تو یہ پھنس سکتی ہے۔ ایسی صورت میں دانت جزوی طور پر یا مکمل طور پر جبڑے کی ہڈی میں رہ جاتا ہے۔ اگر یہ دانت درد، انفیکشن یا دیگر مسائل پیدا کرے تو اسے نکلوانا ضروری ہو جاتا ہے۔ اگر مستقبل میں پیچیدگیوں کا خطرہ ہو تو بعض اوقات اسے کسی مسئلے کے بغیر بھی نکلوایا جاتا ہے۔

کیوں نکالا جاتا ہے

عقل داڑھیں وہ آخری مستقل دانت ہیں جو عام طور پر 17 سے 25 سال کی عمر میں نکلتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر بھی نکل سکتے ہیں، جزوی طور پر بھی، یا بعض افراد میں بالکل نہیں نکلتے۔ بہت سے افراد میں یہ دانت پھنس جاتے ہیں کیونکہ انہیں منہ میں مناسب جگہ نہیں ملتی۔ پھنسی ہوئی عقل داڑھ مختلف انداز میں بڑھ سکتی ہے۔ مثلاً:

٭ دوسری داڑھ کی طرف ترچھے زاویے سے بڑھنا

٭ منہ کے پچھلے حصے کی سمت جھک کر بڑھنا

٭ دوسرے دانتوں کے برابر سیدھا بڑھنا مگر جبڑے کی ہڈی میں پھنسا رہنا

٭ اوپر یا نیچے سیدھا بڑھنا مگر مکمل طور پر منہ میں ظاہر نہ ہونا

پھنسی ہوئی عقل داڑھ کے مسائل

اگر پھنسی ہوئی عقل داڑھ مسائل پیدا کرے تو اسے نکالنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مسائل کی نوعیت یہ ہے:

٭ درد ہونا

٭ دانت کے پیچھے خوراک اور میل کچیل کا جمع ہونا

٭ مسوڑھوں کا انفیکشن

٭ جزوی طور پر نکلے ہوئے دانت میں کیڑا لگنا

٭ قریبی دانت یا ہڈی کو نقصان پہنچنا

٭ دانت کے گرد سسٹ بننا

٭ بریسز یا دانت سیدھے کرنے کے علاج میں رکاوٹ پیدا ہونا

مستقبل میں مسائل سے بچاؤ

دانتوں کے ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ بغیر علامات والی عقل داڑھیں نکالنی چاہئیں یا نہیں۔ تاہم بہت سے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ انہیں نوعمری کے آخری دور یا 20 سال کی عمر کے بعد نکال دیا جائے۔ اس عمر میں پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوتا ہے اور جسم بہتر طریقے سے صحت یاب ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کون سی عقل داڑھ بعد میں مسئلہ بنے گی، پھر بھی بعض صورتوں میں انہیں نکالنا بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ:

٭ بغیر علامات والی داڑھیں بھی بعد میں مسائل کا سبب بن سکتی ہیں

٭ جگہ کی کمی کی وجہ سے ان کی صفائی مشکل ہو جاتی ہے

٭ کم عمر افراد میں سرجری نسبتاً محفوظ ہوتی ہے

٭ بڑی عمر میں سرجری اور پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

خطرات

زیادہ تر صورتوں میں عقل داڑھ نکالنے سے کوئی طویل مدتی مسئلہ نہیں ہوتا۔ تاہم بعض کیسز میں سرجری کی ضرورت پڑتی ہے۔

بہت کم صورتوں میں یہ پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں:

٭ ڈرائی ساکٹ، جس میں خون کا کلاٹ ختم ہو جاتا ہے اور ہڈی ظاہر ہو جاتی ہے۔

٭ انفیکشن، جو عموماً دو ہفتوں کے اندر ظاہر ہو سکتا ہے

٭ قریبی دانتوں، اعصاب، جبڑے یا سائی نس کو نقصان

٭ خون کی نالیوں یا اعصاب کا متاثر ہونا

تیاری کیسے کریں

زیادہ تر صورتوں میں مریض مکمل بے ہوش نہیں ہوتا بلکہ نیم غنودگی میں ہوتا ہے۔ سرجری کی تیاری میں عام طور پر درج ذیل ہدایات دی جاتی ہیں:

٭ کھانا اور پانی کب بند کرنا ہے

٭ کون سی دوائیں پہلے لینی یا بند کرنی ہیں

٭ کلینک یا ہسپتال کب پہنچنا ہے

٭ گھر واپسی کے لیے کسی کے ساتھ آنے کی ضرورت ہے یا نہیں

پروسیجر کے دوران

تین اقسام کی بے ہوشی استعمال ہو سکتی ہے:

لوکل اینستھیزیا: صرف دانت کے اردگرد حصہ سن کیا جاتا ہے، مریض ہوش میں رہتا ہے مگر درد محسوس نہیں کرتا

سیڈیشن اینستھیزیا: رگ کے ذریعے دوا دی جاتی ہے، مریض غنودگی اور سکون میں رہتا ہے

جنرل اینستھیزیا: مریض مکمل طور پر بے ہوش ہوتا ہے اور سانس مشین کے ذریعے دی جاتی ہے

سرجری کے دوران دانتوں کا ڈاکٹر یا سرجن:

٭ مسوڑھے کاٹ کر دانت اور ہڈی کو ظاہر کرتا ہے

٭ رکاوٹ بننے والی ہڈی کو ہٹاتا ہے

٭ ضرورت پڑنے پر دانت کو حصوں میں تقسیم کرتا ہے

٭ دانت کو نکالتا ہے

٭ زخم کو صاف کرتا ہے

٭ بعض اوقات ٹانکے لگاتا ہے

٭ خون روکنے کے لیے گاز رکھتا ہے تاکہ کلاٹ بن سکے

پروسیجر کے بعد

اگر سیڈیشن یا جنرل اینستھیزیا دیا گیا ہو تو مریض کو ریکوری روم میں منتقل کیا جاتا ہے۔ لوکل اینستھیزیا میں وہیں، کلینک میں آرام کر لیتا ہے۔ شفایابی کے دوران ہدایات درج ذیل ہوتی ہیں:

خون بہنا: پہلے دن ہلکا خون آ سکتا ہے۔ زیادہ تھوکنے سے گریز کریں

درد کا علاج: عام پین کلر یا ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا استعمال کی جاتی ہے

سوجن: برف کی ٹکور سے کم ہو جاتی ہے، دو سے تین دن میں بہتری آتی ہے

آرام: پہلے دن آرام کریں۔ اگلے دن معمول کی سرگرمی ممکن ہے مگر سخت جسمانی کام سے پرہیز کریں

مشروبات: پہلے 24 گھنٹے گرم، کیفین والے یا گیس والے مشروبات نہ لیں، سٹرا استعمال نہ کریں

خوراک: نرم غذائیں استعمال کریں، سخت اور مصالحے دار غذا سے پرہیز کریں

منہ کی صفائی: پہلے 24 گھنٹے برش اور کلی نہ کریں، بعد میں نرمی سے صفائی کریں

تمباکو: کم از کم 72 گھنٹے تک استعمال نہ کریں

ٹانکے: بعض اوقات خود گھل جاتے ہیں یا بعد میں نکالے جاتے ہیں

ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں

اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں:

٭ سانس لینے یا نگلنے میں دشواری

٭ شدید یا مسلسل خون بہنا

٭ تیز بخار

٭ ناقابل برداشت درد

٭ بڑھتی ہوئی سوجن

٭ منہ میں مسلسل بدبو یا ذائقہ

٭ پیپ یا غیر معمولی رطوبت

٭ مسلسل سن پن یا احساس ختم ہونا

٭ ناک سے خون یا پیپ آنا

نتائج

اگر کوئی پیچیدگی نہ ہو تو عام طور پر فالو اپ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن اگر درد، سوجن یا دیگر مسائل برقرار رہیں تو ڈینٹسٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dentistry

Vinkmag ad

Read Previous

لیور فنکشن ٹیسٹ

Read Next

سلیو گیسٹریکٹومی: وزن کم کرنے کی سرجری

Leave a Reply

Most Popular