سلیو گیسٹریکٹومی (Sleeve gastrectomy) وزن کم کرنے کی ایک سرجیکل تکنیک ہے۔ اس میں معدے کا تقریباً 80 فیصد حصہ نکال دیا جاتا ہے۔ باقی معدہ ایک لمبی ٹیوب یا نالی کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو سائز اور شکل میں کیلے جیسا ہوتا ہے۔
معدے کا سائز کم ہونے سے خوراک کی مقدار خود بخود محدود ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہارمونل تبدیلیاں بھی پیدا ہوتی ہیں جو وزن میں کمی کو تیز کرتی ہیں۔ یہی تبدیلیاں موٹاپے سے متعلق بیماریوں مثلاً ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب میں بھی بہتری کا باعث بنتی ہیں۔
کیوں کی جاتی ہے
سلیو گیسٹریکٹومی کا مقصد اضافی وزن کم کرنا اور موٹاپے سے جڑی سنگین بیماریوں کے خطرات کو کم کرنا ہے۔ ان امراض میں شامل ہیں:
٭ دل کی بیماری
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ زیادہ کولیسٹرول
٭ نیند میں سانس رکنے کی بیماری (اوبسٹرکٹیو سلیپ اپنیا)
٭ ٹائپ 2 ذیابیطس
٭ سٹروک
٭ کینسر
٭ بانجھ پن
یہ سرجری عام طور پر تب کی جاتی ہے جب خوراک اور ورزش سے وزن کم کرنے کی کوشش ناکام ہو جائے۔ یہ آپشن ان افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے:
٭ بی ایم آئی 40 یا اس سے زیادہ ہو (شدید موٹاپا)
٭ بی ایم آئی 35 سے 39.9 ہو اور ساتھ سنگین بیماریاں موجود ہوں جیسے ذیابیطس یا شدید سلیپ اپنیا
٭ اگر خطرناک بیماریاں ہوں تو بعض صورتوں میں بی ایم آئی 30 سے 34 کے باوجود بھی سرجری ممکن ہے
اس کے ساتھ مریض کو مستقل طور پر طرزِ زندگی بہتر بنانے کے لیے تیار ہونا ہوتا ہے۔ طویل مدتی فالو اپ میں غذا، عادات اور صحت کی نگرانی شامل ہوتی ہے۔
ممکنہ خطرات
ہر بڑی سرجری کی طرح اس عمل میں بھی فوری اور طویل مدتی خطرات شامل ہو سکتے ہیں:
فوری خطرات
٭ زیادہ خون بہنا
٭ انفیکشن
٭ بے ہوشی کی دوائی پر ری ایکشن
٭ خون کے کلاٹ بننا
٭ سانس یا پھیپھڑوں کے مسائل
٭ معدے کے کٹے ہوئے حصے سے مواد لیک ہونا
طویل مدتی پیچیدگیاں:
٭ نظام ہاضمہ میں رکاوٹ
٭ ہرنیا
٭ معدے کا تیزاب غذائی نالی میں آنا
٭ خون میں شوگر کی کمی (ہائپوگلائسیمیا)
٭ غذائی کمی
٭ متلی اور قے
بہت کم صورتوں میں یہ پیچیدگیاں جان لیوا بھی ہو سکتی ہیں۔
سرجری کی تیاری
سرجری سے پہلے مریض کو جسمانی سرگرمی شروع کرنے اور تمباکو نوشی ترک کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ آپریشن سے قبل کھانے پینے اور بعض ادویات پر پابندیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ اس مرحلے میں مریض کو صحتیابی کے لیے گھر اور مدد کا انتظام پہلے سے کر لینا چاہیے۔
سرجری کے دوران
٭ یہ عمل ہسپتال میں کیا جاتا ہے اور عام طور پر قیام 1 سے 2 دن کا ہوتا ہے
٭ زیادہ تر کیسز میں لیپروسکوپک طریقہ استعمال ہوتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں اوپن سرجری بھی کی جاتی ہے
٭ مریض کو جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے تاکہ وہ مکمل طور پر بے ہوش رہے
٭ سرجن معدے کو سٹیپل کر کے ایک تنگ ٹیوب نما شکل دیتا ہے اور بڑا حصہ نکال دیتا ہے
٭ سرجری عام طور پر 1 سے 2 گھنٹے میں مکمل ہو جاتی ہے، جس کے بعد مریض کو ریکوری روم میں منتقل کیا جاتا ہے
سرجری کے بعد
٭ ابتدائی ہفتے میں خوراک مائع شکل میں دی جاتی ہے، پھر نرم غذا اور بعد میں نارمل خوراک شروع کی جاتی ہے
٭ مریض کو زندگی بھر وٹامنز اور سپلیمنٹس لینے پڑ سکتے ہیں، جن میں ملٹی وٹامن، کیلشیم اور وٹامن بی-12 شامل ہیں
ابتدائی مہینوں میں جسم میں کئی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ مثلاً:
٭ جسم میں درد
٭ تھکن، جیسے فلو میں ہوتی ہے
٭ سردی محسوس ہونا
٭ جلد کا خشک ہونا
٭ بالوں کا جھڑنا
٭ مزاج میں تبدیلی
نتائج
یہ سرجری طویل مدت تک وزن کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ دو سال میں اضافی وزن کا تقریباً 60 فیصد یا اس سے زیادہ کم ہو سکتا ہے۔
وزن کم ہونے کے ساتھ کئی بیماریوں میں بہتری یا خاتمہ ممکن ہے:
٭ دل کی بیماری
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ کولیسٹرول
٭ نیند کی بیماری
٭ ٹائپ 2 ذیابیطس
٭ فالج
٭ بانجھ پن
یہ عمل روزمرہ زندگی اور مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر بناتا ہے۔
غیر مؤثر سرجری
کچھ افراد میں مطلوبہ وزن کم نہیں ہوتا یا دوبارہ وزن بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر اگر صحت مند عادات اپنائی نہ جائیں۔ زیادہ کیلوریز والی خوراک یا غیر صحت مند طرزِ زندگی وزن میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
مستقل کامیابی کے لیے صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش اور فالو اپ چیک اپ بہت ضروری ہیں۔ اگر وزن کم نہ ہو یا کوئی پیچیدگی ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=general-surgeon