ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ورٹیبرا کہلاتے ہیں۔ ورٹیبرو پلاسٹی (Vertebroplasty) ایک پروسیجر ہے جس میں ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹے ہوئے یا دراڑ والے حصے میں خصوصی بون سیمنٹ داخل کیا جاتا ہے۔
یہ طریقہ زیادہ تر کمپریشن فریکچر کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے جو عام طور پر ہڈیوں کی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں دیکھی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں کینسر کے ریڑھ کی ہڈی تک پھیلنے سے بھی یہ فریکچر ہو سکتے ہیں۔
تمام کمپریشن فریکچر علامات پیدا نہیں کرتے، اور ہر صورت میں علاج ضروری نہیں ہوتا۔ تاہم مسلسل یا شدید درد کی صورت میں ورٹیبرو پلاسٹی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
یہ پروسیجر ریڑھ کی ہڈی کے کمپریشن فریکچر سے پیدا ہونے والے درد کو کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض روزمرہ کی سرگرمیاں بھی فریکچر کا سبب بن سکتی ہیں۔ مثلاً:
٭ جسم کو موڑنا
٭ آگے یا پیچھے جھکنا
٭ کھانسنا یا چھینکنا
٭ وزن اٹھانا
٭ بستر پر کروٹ بدلنا
خطرات
ورٹیبرو پلاسٹی میں ٹوٹی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے اندر بون سیمنٹ داخل کیا جاتا ہے۔ اسی سے ملتا جلتا طریقہ کیفوپلاسٹی کہلاتا ہے۔ اس میں پہلے ایک غبارہ داخل کر کے ہڈی کے اندر جگہ بنائی جاتی ہے، پھر غبارہ نکال کر سیمنٹ بھرا جاتا ہے۔
ان دونوں طریقوں سے وابستہ خطرات درج ذیل ہیں:
٭ سیمنٹ کا رسنا، جو اعصاب یا ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ ڈال کر نئی علامات پیدا کر سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ ذرات خون کے ذریعے اہم اعضا تک پہنچ سکتے ہیں
٭ قریبی ہڈیوں میں اضافی فریکچر کا خطرہ بڑھنا
٭ سوئی کے ذریعے کیے جانے والے پروسیجر میں معمولی خون بہنے کا امکان
٭ انفیکشن کا خطرہ کم ہے، لیکن موجود ہوتا ہے
تیاری
پروسیجر سے چند گھنٹے پہلے کھانا پینا بند کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بعض دوائیں، خاص طور پر خون پتلا کرنے والی ادویات، ڈاکٹر کے مشورے سے پہلے روکنا پڑ سکتی ہیں۔ پروسیجر والے دن روزانہ لی جانے والی ادویات تھوڑے سے پانی کے ساتھ لی جا سکتی ہیں۔
آرام دہ لباس پہننا اور زیورات گھر پر چھوڑنا بہتر ہوتا ہے۔ زیادہ تر مریض اسی دن گھر واپس چلے جاتے ہیں، اس لیے پہلے سے کسی کو ساتھ لانے کا انتظام ضروری ہے۔
پروسیجر کے دوران
مریض کو ہسپتال کا گاؤن پہنایا جاتا ہے اور ہاتھ کی رگ میں آئی وی لائن لگائی جا سکتی ہے۔
اینستھیزیا کی قسم مریض کی حالت اور متاثرہ ہڈیوں کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے۔ بعض اوقات مکمل بے ہوشی دی جاتی ہے جبکہ اکثر صورتوں میں سیڈیشن دی جاتی ہے تاکہ مریض نیم غنودگی اور آرام کی حالت میں رہے۔
مریض منہ کے بل لیٹا ہوتا ہے اور جلد کو سن کرنے کے لیے انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ یہ عمل عموماً ایک گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے، تاہم متعدد فریکچرز کی صورت میں وقت زیادہ لگ سکتا ہے۔
ایکس رے یا سی ٹی سکین کی مدد سے سوئی کو درست جگہ داخل کیا جاتا ہے، اور سیمنٹ کی ترسیل کی نگرانی کی جاتی ہے۔ سیمنٹ تقریباً 20 منٹ میں سخت ہو جاتا ہے۔
اگر فریکچر کینسر کی وجہ سے ہو تو ہڈی کا نمونہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں ریڈی ایشن تھراپی پہلے یا بعد میں دی جاتی ہے۔
پروسیجر کے بعد
زیادہ تر مریض اسی دن گھر روانہ ہو جاتے ہیں۔ انجیکشن والی جگہ پر کچھ دن تک درد رہ سکتا ہے جسے برف کی ٹکور سے کم کیا جا سکتا ہے۔ برف کو کپڑے میں لپیٹ کر استعمال کیا جاتا ہے اور ہر گھنٹے میں تقریباً 15 منٹ لگایا جاتا ہے۔
مریض کو کم از کم چھ ہفتے تک بھاری وزن اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے اور تمام طبی ہدایات پر عمل ضروری ہے۔
نتائج
سٹڈیز میں اس طریقۂ علاج کے مؤثر ہونے کے بارے میں مختلف نتائج سامنے آئے ہیں۔ بعض ابتدائی تحقیقات میں اسے عام انجیکشن کے برابر قرار دیا گیا، تاہم دونوں صورتوں میں درد میں کمی دیکھی گئی۔ نئی تحقیقات کے مطابق ورٹیبرو پلاسٹی اور کیفوپلاسٹی زیادہ تر مریضوں میں ایک سال تک درد میں واضح کمی لاتے ہیں۔
کمپریشن فریکچر اکثر ہڈیوں کی کمزوری کی علامت ہوتے ہیں، اور ایک فریکچر کے بعد مزید فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے بنیادی وجہ کی تشخیص اور علاج انتہائی ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic