مدافعتی نظام سے لبلبے کی سوزش (Autoimmune pancreatitis) ایسا مرض ہے جس میں مدافعتی نظام غلطی سے لبلبے پر حملہ کر دیتا ہے۔ اسے مختصراً ”اے آئی پی” کہا جاتا ہے۔
اقسام
اے آئی بی کی دو اقسام ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ہیں۔ دونوں میں نمایاں فرق یہ ہیں:
٭ ٹائپ 1 اے آئی پی لبلبے کے ساتھ جسم کے دیگر اعضا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس ٹائپ 2 صرف لبلبے تک محدود رہتی ہے۔ ٹائپ 2 کا تعلق آنتوں کی سوزش کی بیماری (آئی بی ڈی) سے بھی ہو سکتا ہے
٭ ٹائپ 1 اے آئی پی زیادہ تر 60 سے 70 سال کی عمر کے مردوں میں پائی جاتی ہے
٭ ٹائپ 2 اے آئی پی مردوں اور خواتین دونوں میں یکساں پائی جاتی ہے، ٹائپ 1 کے مقابلے میں کم عمر افراد کو متاثر کرتی ہے
٭ ٹائپ 1 اے آئی پی میں علاج بند ہونے کے بعد بیماری دوبارہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے
علامات
ٹائپ 1 اے آئی پی کی علامات لبلبے کے سرطان سے کافی حد تک ملتی جلتی ہیں۔ لبلبے کے سرطان کی ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
٭ پیشاب کا گہرا رنگ
٭ پاخانے کا ہلکا رنگ یا ایسا پاخانہ جو پانی پر تیرتا ہو
٭ جلد اور آنکھوں کا پیلا ہونا
٭ پیٹ کے اوپری حصے یا کمر کے درمیانی حصے میں درد
٭ متلی اور قے
٭ کمزوری یا غیر معمولی تھکن
٭ بھوک میں کمی یا جلد پیٹ بھر جانے کا احساس
٭ بغیر کسی واضح وجہ کے وزن میں کمی
ٹائپ 1 اے آئی پی کی سب سے عام علامت بغیر درد کے یرقان (جانڈس) ہے۔ تقریباً 80 فیصد مریضوں میں یہ علامت ظاہر ہوتی ہے۔ ٹائپ 2 اے آئی پی میں لبلبے کی شدید سوزش کے بار بار حملے ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، پیٹ کے اوپری حصے کا درد، جو لبلبے کے سرطان میں عام علامت ہے، اس بیماری میں اکثر موجود نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
مدافعتی نظام سے لبلبے کی سوزش اکثر کوئی واضح علامات پیدا نہیں کرتی۔ تاہم، اگر بغیر کسی وجہ کے وزن کم ہونے لگے، پیٹ میں درد ہو، یرقان ہو یا کوئی اور پریشان کن علامت محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
وجوہات
ماہرین ابھی تک اس بیماری کی اصل وجہ معلوم نہیں کر سکے۔ تاہم، خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے اپنے ہی صحت مند ٹشوز پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
خطرے کے عوامل
ٹائپ 1 اے آئی پی والے افراد میں یہ خصوصیات زیادہ دیکھی جاتی ہیں:
٭ عمر عموماً 60 سال سے زیادہ ہوتی ہے
٭ زیادہ تر مریض مرد ہوتے ہیں
ٹائپ 2 اے آئی پی والے افراد میں:
٭ عمر عموماً ٹائپ 1 کے مریضوں سے 10 سے 20 سال کم ہوتی ہے
٭ خواتین اور مرد تقریباً یکساں متاثر ہوتے ہیں
٭ آنتوں کی سوزش کی بیماری (آئی بی ڈی) ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے
پیچیدگیاں
٭ ہاضمے کے انزائمز کی کمی، نتیجتاً اسہال، وزن میں کمی، ہڈیوں کی کمزوری اور وٹامن یا معدنیات کی کمی ہو سکتی ہے
٭ ذیابیطس ہو جانا
٭ لبلبے کی بائل ڈکٹس کا تنگ ہو جانا
٭ لبلبے میں کیلشیم جمع ہونا یا پتھری بن جانا
مدافعتی نظام سے لبلبے کی سوزش کے علاج، خصوصاً طویل عرصے تک سٹیرائڈز کے استعمال سے بھی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ تاہم، مناسب علاج کروانے والے افراد کی متوقع عمر عموماً عام افراد کے برابر ہوتی ہے۔
٭ مدافعتی نظام سے لبلبے کی سوزش اور لبلبے کے سرطان کے درمیان کسی ثابت شدہ تعلق کے شواہد نہیں ملے
تشخیص
مدافعتی نظام سے لبلبے کی سوزش کی تشخیص آسان نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی علامات لبلبے کے سرطان سے ملتی جلتی ہیں۔ اے آئی پی کے مریضوں میں اکثر پورا لبلبہ سوج جاتا ہے، لیکن بعض اوقات اس میں گلٹی بھی بن سکتی ہے۔ بیماری کی درست تشخیص اور اس کی قسم کی شناخت کے لیے خون کے ٹیسٹ اور مختلف سکین کیے جاتے ہیں۔
مخصوص ٹیسٹوں میں شامل ہیں:
٭ سی ٹی سکین، ایم آر آئی، اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ اور اینڈوسکوپک ریٹروگریڈ کولینجیو پینکریاٹوگرافی
٭ خون کے ٹیسٹ، جن سے آئی جی جی 4 کی سطح معلوم کی جاتی ہے
٭ اینڈوسکوپک کور بائیوپسی
٭ سٹیرائیڈ آزمائشی علاج۔ چونکہ یہ بیماری عموماً سٹیرائیڈز سے بہتر ہو جاتی ہے، اس لیے بعض اوقات تشخیص کی تصدیق کے لیے محدود مدت کے لیے سٹیرائیڈز دیے جاتے ہیں
علاج
٭ بائل ڈکٹ میں سٹینٹ ڈالنا
٭ سٹیرائیڈز کا استعمال
٭ مدافعتی نظام کو دبانے یا اس کی سرگرمی کو منظم کرنے والی ادویات
٭ لمف نوڈز، لعابی غدود، بائل ڈکٹس پر سکار بننے، جگر کی سوزش اور گردوں کی بیماری کی مانیٹرنگ
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا مدافعتی نظام سے لبلبے کی سوزش موروثی بیماری ہے؟
اب تک اس بیماری کے موروثی ہونے کے واضح شواہد موجود نہیں۔ اس کی اصل وجہ بھی مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔
کیا اس بیماری کی تشخیص صرف خون کے ٹیسٹ سے ہو جاتی ہے؟
نہیں۔ درست تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ، مختلف سکین اور بعض اوقات بایوپسی کے نتائج کو ملا کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اگر علاج کے بعد بیماری دوبارہ ہو جائے تو کیا کیا جاتا ہے؟
بیماری دوبارہ ظاہر ہونے پر ڈاکٹر اضافی علاج تجویز کر سکتے ہیں، جس میں سٹیرائیڈز یا مدافعتی نظام پر اثر انداز ہونے والی ادویات شامل ہو سکتی ہیں۔
کیا علاج کے بعد معمول کی زندگی گزاری جا سکتی ہے؟
زیادہ تر مریض مناسب علاج کے بعد معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں، اور ان کی متوقع عمر عموماً عام افراد کے برابر ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist