کینکر سورز (Canker sores) منہ کے نرم ٹشوز یا مسوڑھوں کی جڑ پر بننے والے چھوٹے زخم ہیں۔ کولڈ سورز کے برعکس منہ کے چھالے ہونٹوں کی بیرونی سطح پر نہیں بنتے، اور متعدی بھی نہیں ہوتے۔ تاہم، یہ تکلیف دہ ہو سکتے ہیں اور کھانے یا بات کرنے میں دشواری پیدا کر سکتے ہیں۔ انہیں افتھس السرز (Aphthous ulcers) بھی کہا جاتا ہے۔
علامات
منہ کے زیادہ تر چھالے گول یا بیضوی ہوتے ہیں، جن کا مرکز سفید یا زرد اور کنارہ سرخ ہوتا ہے۔ یہ زبان کے اوپر یا نیچے، گالوں یا ہونٹوں کے اندر، مسوڑھوں کی جڑ یا نرم تالو پر بن سکتے ہیں۔ چھالے نمودار ہونے سے ایک یا دو دن پہلے متاثرہ جگہ پر سنسناہٹ یا جلن محسوس ہو سکتی ہے۔
اقسام
منہ کے چھالوں کی تین اقسام چھوٹے، بڑے اور ہرپیٹی فارم (herpetiform sores) ہیں۔
٭ منہ کے چھوٹے چھالے سب سے عام قسم ہیں۔ یہ عموماً سرخ کنارے کے ساتھ بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ عموماً ایک سے دو ہفتوں میں بغیر داغ پیدا کیے ٹھیک ہو جاتے ہیں
٭ بڑے چھالے زیادہ عام نہیں۔ یہ زیادہ گہرے بھی ہوتے ہیں۔ عموماً واضح کناروں کے ساتھ گول ہوتے ہیں، تاہم بہت بڑے ہونے پر کنارے بے قاعدہ ہو سکتے ہیں۔ یہ انتہائی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ انہیں ٹھیک ہونے میں چھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں، اور یہ نمایاں داغ چھوڑ سکتے ہیں
٭ ہرپیٹی فارم چھالے عموماً بڑی عمر میں نمودار ہوتے ہیں، اور ایک نقطے جتنے چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ اکثر 10 سے 100 چھالوں کے جھنڈ میں بنتے ہیں، لیکن مل کر ایک بڑا زخم بھی بنا سکتے ہیں۔ ان کے کنارے بے قاعدہ ہوتے ہیں، اور یہ ایک سے دو ہفتوں میں بغیر داغ کے ٹھیک ہو جاتے ہیں
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ کو ان علامات کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں:
٭ غیر معمولی طور پر بڑے چھالے بننا
٭ پرانے چھالے ٹھیک ہونے سے پہلے نئے چھالے بننا یا بار بار چھالے نکلنا
٭ دو ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہنے والے چھالے بننا
٭ ایسے چھالے بننا جو ہونٹوں کی بیرونی سرحد تک پھیل جائیں
٭ کھانے یا پینے میں شدید دشواری ہونا
٭ منہ کے چھالوں کے ساتھ تیز بخار ہونا
اگر دانتوں کے تیز کنارے یا بریسز چھالوں کا سبب بنتے محسوس ہوں تو ڈینٹسٹ سے رجوع کریں۔
وجوہات
منہ کے چھالوں کی حتمی وجہ واضح نہیں۔ تاہم، محققین کے مطابق کئی عوامل ان کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثلاً:
٭ دانتوں کے علاج، زور سے برش کرنے، کھیل کے دوران چوٹ لگنے یا غلطی سے گال کاٹنے سے منہ میں معمولی زخم بننا
٭ سوڈیم لوریل سلفیٹ والے ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش کا استعمال
٭ بعض غذاؤں، خاص طور پر چاکلیٹ، کافی، اسٹرابیری، انڈے، گری دار میوے، پنیر اور مصالحے دار یا تیزابی چیزوں سے حساسیت ہونا
٭ وٹامن بی 12، زنک، فولیٹ یا آئرن کی کمی
٭ منہ میں موجود بعض بیکٹیریا کے خلاف الرجک ری ایکشن
٭ ایچ پائلوری، جو معدے کے السر کا بھی سبب بنتا ہے
٭ ماہواری کے دوران ہارمونز میں تبدیلی
٭ ذہنی دباؤ
منہ کے چھالے بعض بیماریوں اور طبی مسائل کی وجہ سے بھی ہو سکتے ہیں، جیسے:
٭ سیلیئک بیماری
٭ آنتوں کی سوزش کی بیماریاں، جیسے کروہن بیماری اور السرٹیو کولائٹس
٭ بیہجت بیماری، ایک نایاب مرض جو منہ سمیت پورے جسم میں سوزش کا سبب بنتا ہے
٭ اۤٹوامیون ڈیزیز، جس میں مدافعتی نظام وائرس اور بیکٹیریا کی بجائے منہ کے صحت مند خلیوں پر حملہ کرتا ہے
٭ ایچ آئی وی/ایڈز، جو مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے
خطرے کے عوامل
یہ چھالے ٹین ایجرز اور نوجوانوں میں زیادہ عام ہوتے ہیں اور خواتین میں بھی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ بار بار منہ کے چھالوں کے شکار افراد میں اکثر اس بیماری کی فیملی ہسٹری ہوتی ہے۔ اس کی وجہ موروثیت یا ماحول میں مشترک عوامل مثلاً بعض غذائیں یا الرجی پیدا کرنے والے مادے ہو سکتے ہیں۔
بچاؤ کی تدابیر
منہ کے چھالے اکثر دوبارہ بن سکتے ہیں۔ ان اقدامات سے انہیں دوبارہ بننے میں کمی لائی جا سکتی ہے:
٭ ایسی غذاؤں سے پرہیز کریں جو منہ میں جلن پیدا کرتی محسوس ہوں۔ ان میں گری دار میوے، چپس، بعض مصالحے، نمکین غذائیں اور تیزابی پھل، جیسے انناس، گریپ فروٹ اور مالٹے شامل ہیں
٭ غذائی کمی سے بچنے کے لیے پھل، سبزیاں اور ثابت اناج زیادہ مقدار میں کھائیں
٭ منہ کی صفائی کی عادات اپنائیں، نرم برش استعمال کریں اور سوڈیم لوریل سلفیٹ والے ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش سے پرہیز کریں
٭ اگر آپ نے بریسز لگوا رکھے ہیں تو تیز کناروں کو ڈھانپنے کے لیے ڈینٹسٹ سے مشورہ کریں
٭ اگر منہ کے چھالے ذہنی دباؤ سے متعلق محسوس ہوں تو اسے کنٹرول کریں
تشخیص
منہ کے چھالوں کی تشخیص عموماً معائنے سے ہو جاتی ہے۔ تاہم دیگر طبی مسائل کی جانچ کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔
علاج
چھوٹے اور معمولی چھالے ایک سے دو ہفتوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم، بڑے، مسلسل یا غیر معمولی طور پر تکلیف دہ چھالوں کی صورت میں علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے کئی طریقے موجود ہیں:
٭ ماؤتھ واش
٭ بغیر نسخے اور نسخے سے ملنے والی مصنوعات (پیسٹ، کریمیں، جیل وغیرہ)
٭ ایسی ادویات جو خاص طور پر منہ کے چھالوں کے علاج کے لیے نہیں ہوتیں، جیسے آنتوں کے السر کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا
٭ منہ کے ذریعے لیے جانے والے سٹیرائڈز۔ تاہم، سنگین مضر اثرات کے باعث انہیں عموماً آخری حل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے
چھالوں کو جلا کر ختم کرنا
اس طریقے میں ایک آلے یا کیمیائی مادے کے ذریعے ٹشو کو جلایا، داغا یا ختم کیا جاتا ہے۔
٭ ڈیبیکٹیرول ایک مقامی محلول ہے جو منہ کے چھالوں اور مسوڑھوں کے مسائل کے علاج کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ دوا کیمیائی طریقے سے چھالے کو داغتی ہے۔ اس سے ٹھیک ہونے کا وقت تقریباً ایک ہفتے تک کم ہو سکتا ہے
٭ سلور نائٹریٹ منہ کے چھالوں کو کیمیائی طریقے سے داغنے کا ایک اور طریقہ ہے۔ اس سے چھالے کے ٹھیک ہونے کی رفتار بڑھنے کا ثبوت نہیں ملا، تاہم یہ درد کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے
٭ اگر آپ فولیٹ، وٹامن بی 6، وٹامن بی 12 یا زنک جیسے اہم غذائی اجزا کم مقدار میں لیتے ہیں تو ڈاکٹر غذائی سپلیمنٹ تجویز کر سکتا ہے۔
٭ اگر منہ کے چھالوں کا تعلق کسی سنگین طبی مسئلے سے ہو تو ڈاکٹر اس بنیادی بیماری کا علاج کرے گا۔
طرزِ زندگی اور گھریلو علاج
٭ منہ کی صفائی کا خیال رکھیں۔ نمک والے پانی یا بیکنگ سوڈا کے محلول سے کلی کریں۔ اس کے لیے ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا آدھے کپ نیم گرم پانی میں حل کریں
٭ میگنیشیا ملک کی تھوڑی مقدار منہ کے چھالے پر دن میں چند بار لگائیں
٭ کھردری، تیزابی یا مصالحے دار غذاؤں سے پرہیز کریں
٭ منہ کے چھالوں پر برف لگائیں۔ برف کے چھوٹے ٹکڑوں کو چھالوں پر آہستہ آہستہ پگھلنے دیں
٭ دانت نرمی سے برش کریں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا منہ کے چھالے دوبارہ بن سکتے ہیں؟
جی ہاں، منہ کے چھالے دوبارہ بن سکتے ہیں اور بعض افراد میں یہ بار بار ظاہر ہوتے ہیں۔
کیا غذائی کمی منہ کے چھالوں کا سبب بن سکتی ہے؟
جی ہاں، وٹامن بی 12، زنک، فولیٹ یا آئرن کی کمی منہ کے چھالوں سے وابستہ ہو سکتی ہے۔
کیا منہ کے چھالوں کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ ضروری ہیں؟
عموماً نہیں۔ تاہم، شدید اور مسلسل چھالوں میں مزید ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dentistry