بچوں میں دماغی رسولیاں (Pediatric brain tumors) خلیوں کی غیر معمولی بڑھوتری ہیں، جو دماغ کے اندر یا اس کے قریب بننا شروع ہوتی ہیں۔ یہ رسولیاں بڑھ کر دماغ کے قریبی حصوں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں، جس سے سر درد اور متلی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
علامات
رسولی کی علامات دماغ میں اس کی جگہ کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ ان کا انحصار رسولی کے حجم اور بڑھنے کی رفتار پر بھی ہوتا ہے۔ عام علامات میں شامل ہیں:
٭ سر درد، جو وقت کے ساتھ زیادہ بار اور شدید ہو سکتا ہے۔ جو بچے بول نہیں سکتے، ان میں معمول سے زیادہ چڑچڑاپن ظاہر ہو سکتا ہے
٭ متلی اور قے
٭ نظر میں تبدیلی، جیسے دوہرا نظر آنا۔ جو بچے بول نہیں سکتے، وہ کسی چیز کو دیکھتے وقت آنکھیں سکیڑ سکتے ہیں یا ایک آنکھ ڈھانپ سکتے ہیں
دیگر ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
٭ شیر خوار بچوں کی کھوپڑی پر نرم جگہ کا معمول سے زیادہ ابھرا ہونا
٭ آنکھوں کی حرکت میں تبدیلی
٭ الجھن اور چڑچڑاپن
٭ توازن برقرار رکھنے میں دشواری
٭ سماعت کے مسائل
٭ یادداشت کے مسائل
٭ شخصیت یا رویے میں تبدیلی
٭ دورے پڑنا، خاص طور پر ایسے بچے میں جسے پہلے کبھی دورہ نہ پڑا ہو
٭ الفاظ کی ادائیگی میں دقت
٭ چلنے میں دشواری
٭ نگلنے میں دشواری
٭ چہرے کے ایک طرف کمزوری یا جھکاؤ
٭ بازو یا ٹانگ میں کمزوری یا حس ختم ہونا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر بچے میں ایسی علامات ظاہر ہوں جو آپ کو پریشان کریں، تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
وجوہات
زیادہ تر صورتوں میں بچوں میں دماغی رسولی بننے کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ یہ اس وقت بننا شروع ہوتی ہیں، جب دماغ کے خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کچھ تبدیلیاں رسولی کے خلیوں کو سرطانی بنا دیتی ہیں۔ سرطانی خلیے صحت مند ٹشو میں داخل ہو کر اسے تباہ کر سکتے ہیں۔
خطرے کے عوامل
٭ دماغی رسولیاں کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہیں، لیکن بچوں میں یہ پانچ سال سے کم عمر میں زیادہ دیکھی جاتی ہیں
٭ سر پر ریڈی ایشن تھراپی کروانے والے بچوں میں دماغی رسولیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک قسم کی دماغی رسولی کے لیے شعاعی علاج دوسری قسم کی رسولی کا خطرہ بڑھا سکتا ہے
٭ کمزور مدافعتی نظام
٭ موروثی طور پر منتقل ہونے والے جینیاتی سنڈروم
بچاؤ کی تدابیر
بچوں میں دماغی رسولیوں سے بچاؤ کا کوئی معلوم طریقہ موجود نہیں۔
تشخیص
بچوں میں دماغی رسولیوں کی تشخیص کے لیے مختلف ٹیسٹ اور طریقۂ کار استعمال کیے جاتے ہیں۔
٭ اعصابی معائنہ، جس میں بینائی، سماعت، توازن، جسمانی ہم آہنگی، جسمانی طاقت اور ردعمل کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے
٭ امیجنگ ٹیسٹ، جن میں ایم آر آئی، سی ٹی سکین اور پی ای ٹی سکین شامل ہیں
٭ بایوپسی، جس میں ٹشو کا نمونہ لے کر لیبارٹری میں جانچ کیا جاتا ہے۔ یہ نمونہ عموماً رسولی نکالنے کی سرجری کے دوران لیا جاتا ہے
٭ لمبر پنکچر، جس میں ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود سیال کا نمونہ لیا جاتا ہے
علاج
بچوں میں دماغی رسولیوں کا علاج کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رسولی کی قسم، حجم اور جگہ کے ساتھ بچے کی عمر اور مجموعی صحت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ علاج میں سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، ریڈیو سرجری، کیموتھراپی اور ہدفی علاج شامل ہو سکتے ہیں۔
سرجری
بچوں میں دماغی رسولیوں کی سرجری کا مقصد ممکنہ حد تک رسولی کے تمام خلیے نکالنا ہوتا ہے۔ تاہم، ایسا کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اس سرجری میں انفیکشن اور خون بہنے جیسے خطرات بھی ہو سکتے ہیں۔
ریڈی ایشن تھراپی
دماغی رسولیوں کے لیے شعاعی علاج میں طاقتور توانائی کی شعاعوں سے رسولی کے خلیے ختم کیے جاتے ہیں۔ اس توانائی کے لیے ایکس ریز، پروٹون اور دیگر ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ریڈیو سرجری
ریڈیو سرجری کے دوران مختلف اقسام کی توانائی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ لکیئر ایکسیلیریٹر ریڈیو سرجری
٭ گاما نائف ریڈیو سرجری
٭ پروٹون ریڈیو سرجری
کیموتھراپی
دماغی رسولیوں کے لیے کیموتھراپی میں طاقتور ادویات استعمال کی جاتی ہیں، جو رسولی کے خلیوں کو ختم کرتی ہیں۔ یہ ادویات گولی کی شکل میں یا رگ کے ذریعے دی جا سکتی ہیں۔ بعض اوقات سرجری کے دوران دوا دماغ کے ٹشو میں بھی رکھی جاتی ہے۔
ہدفی علاج
دماغی رسولیوں کے لیے ہدفی علاج میں ایسی ادویات استعمال ہوتی ہیں، جو رسولی کے خلیوں میں موجود مخصوص کیمیائی مادوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
پیلی ایٹو کیئر
پیلی ایٹو کیئر خصوصی طبی دیکھ بھال ہے، جو سنگین بیماریوں میں مبتلا بچوں کو بہتر محسوس کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دماغی رسولیوں میں یہ نگہداشت درد اور دیگر علامات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
علاج کے بعد بحالی صحت
دماغی رسولیاں دماغ کے ان حصوں میں بن سکتی ہیں، جو حرکت، بولنے، بینائی اور سوچنے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان صلاحیتوں کی بحالی میں مدد دینے والی خدمات میں شامل ہیں:
٭ فزیوتھراپی، جو بچے کی کھوئی ہوئی حرکتی صلاحیت یا پٹھوں کی طاقت بحال کرنے میں مدد دیتی ہے
٭ آکوپیشنل تھراپی، جو بچے کو روزمرہ کی سرگرمیوں میں دوبارہ حصہ لینے میں مدد دیتی ہے
٭ سپیچ تھراپی، جو بولنے کے مسائل میں مدد دیتی ہے
٭ تعلیمی معاونت، اگر بچے کو علاج کے بعد یادداشت اور سوچ میں تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مدد درکار ہو
Frequently Asked Questions (FAQs)
بچوں میں دماغی رسولیوں کا علاج کن عوامل کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے؟
رسولی کی قسم، حجم اور جگہ کے ساتھ بچے کی عمر اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
کیا دماغی رسولی کے علاج میں ایک سے زیادہ طریقے استعمال ہو سکتے ہیں؟
جی ہاں، علاج میں سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، ریڈیو سرجری، کیموتھراپی اور ہدفی علاج شامل ہو سکتے ہیں۔
بچوں میں دماغی رسولی کی تشخیص کے لیے بایوپسی کب کی جاتی ہے؟
بایوپسی میں ٹشو کا نمونہ لے کر جانچ کیا جاتا ہے، جو عموماً سرجری کے دوران لیا جاتا ہے۔
دماغی رسولی کے علاج کے بعد بحالی کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
رسولی دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتی ہے، جو حرکت، بولنے، بینائی اور سوچنے کو کنٹرول کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=peads-neurologist