بچے زہرنگل لیں تو کیا کریں

3

بچے زہرنگل لیں تو کیا کریں

ہمارے ہاں عموماً بچوں اوربعض اوقات بڑوں میں بھی غلطی سے زہرنگل لینے کے واقعات اکثردیکھنےمیں آتے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک شاید یہ ہے کہ گھروں میں عموماً وہ چیزیں بھی لا کررکھ دی جاتی ہیں جن کی ضرورت کبھی کبھارہی پڑتی ہے۔اکثر صورتوں میں انہیں رکھنے کے لئے کوئی محفوظ جگہ بھی نہیں ہوتی۔ یہ چیزیں ٹھوس شکل میں بھی ہوسکتی ہیں جیسےگندم کوکیڑوں مکوڑوں سےمحفوظ رکھنے والی گولیاں اورکیڑے/ چوہے ماردوائیں وغیرہ۔ اس کے علاوہ یہ مائع شکل میں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً ٹوائلٹ کلینراورتیزاب وغیرہ۔ ان میں سے بعض ایسے زہرہیں جن کا کم مقدارمیں استعمال زیادہ نقصان دہ ثابت نہیں ہوتا۔ تاہم اس صورت میں بھی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اورایسے ہی سمجھناچاہئے جیسے یہ زیادہ مقدارمیں لیا گیا ہے۔

کرنے کے کام

٭کسی پوائزن کنٹرول سینٹرپرفون سے رابطہ کریں۔ فون کرنے پرآپ سے چند سوال پوچھے جائیں گے جیسے مریض سے رشتہ، عمر، کیا اورکتنا کھایا ہے اوررابطے کے لئے نمبروغیرہ۔ ایسی صورت حال میں بعض لوگ ناراض ہونے لگتےہیں۔ اس کے بجائے تحمل سے جواب دیں کیونکہ یہ تمام معلومات مشورہ دینے کے لئے ضروری ہیں۔ اگرایسی سروس دستیاب نہ ہوتو بلا تاخیرقریبی ہسپتال جائیں۔

٭حلق میں انگلی ڈال کریا نمک والا پانی پلا کر قے مت کروائیں۔ اس کا نقصان فائدے سے زیادہ ہے۔ بعض زہرایسے ہیں جنہیں ہسپتال میں نلکی کے ذریعے پانی ڈال کرخارج کروایا جاتا ہے جبکہ بعض مثلاً گندم کی گولیوں کے ساتھ پانی ری ایکٹ کر جاتا ہے لہٰذا ان کے لئے تیل استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے گھرپرازخود فیصلہ کرنے کی بجائے ڈاکٹر پراعتماد کریں۔

٭بچے کوپیٹ کے بل یا سیدھا لیٹنے نہ دیں تا کہ اگر وہ قے کرے تو اس کے حلق میں نہ جائے۔ اگرلیٹنا ضروری ہو توکروٹ کے بل لٹایا جاسکتا ہے۔

٭بچے کو سونے نہ دیں۔

٭یہ بھی ممکن ہے کہ کافی وقت گزرجائےاور والدین اس بات سے ہی بے خبرہوں کہ بچہ زہرنگل چکا ہے۔ ایسی صورت میں ان کا بدلتا رویہ جیسے چلنے میں دقت ہونا، بہت زیادہ سونا یا نیند بالکل نہ آنا، سانس لینے میں دشواری اورجسم کا درجہ حرارت بہت کم یا بڑھ جانا جیسے عوامل اشارہ کرتے ہیں کہ بچے کو طبی امداد کی ضرورت ہے۔ انہیں سنجیدہ لینا چاہئے۔

بچاؤ کی تدابیر

٭اس معاملے میں پرہیزکا پہلو سب سے زیادہ اہم ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ اپنے گھر کا جائزہ لے کر ان تمام چیزوں کوہٹا دیں یا محفوظ جگہ پررکھیں جو نقصان کا باعث بن سکتی ہیں اورجن کی ضرورت ہمیں عام طورپرنہیں پڑتی۔

٭چیزوں کے بند کرنے کے لئے ان ڈھکنوں کا انتخاب کریں جو بچوں کے لئے کھولنا مشکل ہیں۔

٭جو چیزجس پیکنگ میں آئے، اسے اسی میں رہنے دیں۔ انہیں کولامشروبات یا کھانے کی چیزوں کے لئے استعمال ہونےوالی بوتلوں یا ڈبوں میں نہ رکھیں۔

٭چیزوں کواونچی جگہ پر بچوں کی پہنچ سے دوررکھیں۔

٭اگرآپ یقین کے ساتھ بتا سکتے ہوں کہ کیا چیزکتنی مقدارمیں کھائی ہے تو ہی فون کریں ورنہ وقت ضائع کیے بغیرہسپتال یا قریبی کلینک جائیں۔ صرف شک ہوکہ کچھ کھایا ہےتو بھی علامات ظاہرہونے کا انتظارنہ کریں۔

accidental poisoning , poisoning first aid, prevent poisoning

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x