گرمیوں میں منہ کی صحت

3

گرمیوں میں منہ کی صحت

ہمارے ہاں عموماً صحت پراس وقت تک توجہ نہیں دی جاتی جب تک کہ یہ معمولات زندگی کوبری طرح سے متاثرنہ کرنے لگے۔ کچھ لوگ  اس کا خیال تو رکھتے ہیں مگرٹھیک طریقوں سے واقف نہ ہونے کے باعث من پسند نتائج حاصل نہیں کرپاتے۔ یاد رہے کہ صحت بخش خوراک صرف تبھی فائدہ مند ہے جب وہ صاف ستھرے راستے سے گزرکرجسم تک پہنچے۔ مثال کے طورپراگر دودھ، دہی، پھل، سبزیاں اور دالوں جیسی صحت بخش غذائیں استعمال کی جا رہی ہوں مگر دانت میلے کچیلے اورجراثیم سے بھرپور ہوں تو یہ خوراک جراثیم کے ساتھ معدے تک پہنچے گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ منہ کی صحت کو اولین ترجیح دیں۔

پانی زیادہ پئیں

گرمیوں میں منہ کی صحت بحال رکھنے کے لئے پانی زیادہ پینا چاہئے کیونکہ خشک منہ بیکٹیریا کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ منہ میں تھوک کی مقدار بھی کم ہوجاتی ہے ۔ تھوک کا ایک اہم کام دانتوں کی بیرونی سطح کی مرمت کرنا اوران کے اندرمعدنی نمکیا ت کومحفوظ رکھنا ہے۔ مزیدبرآں سانسوں کو تازہ اوردانتوں کو صحت مند رکھنے کے لئے بھی گرمی میں منہ کو خشک نہ ہونے دیں۔

برف کھانے سے گریزکریں

گرمی میں ٹھنڈا پانی اورمشروبات پینا توعام ہے لیکن اس موسم میں کئی لوگ گرمی بھگانے کے لئے برف بھی چبا جاتے ہیں۔ایسے میں وقتی طورپر تومنہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے لیکن دانتوں کی بیرونی سطح حساس ہوجاتی ہے اورٹھنڈا گرم زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔اس کے علاوہ دانتوں کا کوئی ٹکڑا ٹوٹ بھی جاتا ہے جو اس وقت تو پتا نہیں چلتا لیکن بعد میں جب متاثرہ دانت پرزبان لگتی ہے تو اس کی سطح نوکیلی محسوس ہوتی ہے۔ایک ہی وقت میں زیادہ ٹھنڈا( آئس کریم یا مشروبات )اورگرم( چائے یا کافی ) کا استعمال بھی دانتوں کو حساس بناتا اور ان پردراڑوں کا باعث بنتا ہے۔

ڈبہ بند مشروبات سے پرہیز

گرمی کی شدت اوربدن کی حرارت کو کم کرنے کے لئے ڈبہ بند جوسز،کولامشروبات اوردیسی مشروبات کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔ ان سے وقتی طورپرگرمی سے تونجات مل جاتی ہے لیکن ان میں موجود شکرزیادہ دیرتک دانتوں پرموجود رہتی ہے۔ یہ بیکٹیریا کی افزائش میں بنیادی کردارادا کرتی اوردانتوں میں کیڑا لگنے کے امکانات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔

اس کے علاوہ ان کوتا دیرمحفوظ رکھنے کے لئے کچھ خاص کیمیائی مادے ڈالے جاتے ہیں۔ان میں کھانے کے مصنوعی رنگ بھی ڈالے جاتے ہیں جودانتوں پرداغ کی شکل میں رہ جاتے اوران کا قدرتی رنگ خراب کرنے میں کردارادا کرتے ہیں۔ان مسائل سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ پھلوں کا رس پینے کے بجائے پھل کھائیں۔ اگر جوس پینے کو دل چاہے توتازہ جوس کوترجیح دیں اوراس کے بعد کلی ضرورکریں۔

دانتوں کی صفائی

گرمیوں میں کئی لوگ مسوڑھو ں میں درد،سوجن اوران سے خون آنے کی شکایت کرتے ہیں ۔انہیں منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔مناسب برشنگ دانتوں اورمسوڑھوں پر لگے کھانے کے ذرات کو ہٹا کرانہیں پلاک  بننے سے بچاتی ہے۔ برش اپنے سائز اورلچک کے حساب سے موزوں ہونا چاہیے تاکہ وہ باآسانی منہ کے تمام حصوں تک پہنچ سکے۔

اکثر لوگ صبح اٹھ کردانت صاف کرتے ہیں جبکہ دانت برش کرنے کا بہترین وقت رات کا ہے۔ اس وقت منہ میں تھوک کم ہوتی ہے اوررات کا کھانا بھی دانتوں کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔ جب ہم برش کیے بغیرسوجاتے ہیں توجراثیم کواپنا کام دکھانے کا موقع مل جاتا ہے۔صبح کے وقت محض کلی کرکے ناشتا کرنا کافی ہے۔ اس کے بعد دانت صاف کریں۔ ایک اوراہم بات یہ ہے کہ ہمارے مسوڑھوں اورزبان پرکئی طرح کے جراثیم ہوتے ہیں جن کی صفائی کے بغیرمنہ کی صفائی مکمل نہیں ہوتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان کی بھی اچھی طرح سے صفائی کی جائے۔

برش کوہرتین سے چار ماہ بعد ضرور تبدیل کریں۔ برش کے بعد اپنے مسوڑھوں کا انگلی سے ایک منٹ تک مساج کریں۔ اس سے مسوڑھوں میں خون کی روانگی بہترہوگی اورانفکشن کا امکان کم ہوگا۔

دانت اوروٹامن سی

دانتوں کی صحت اور قوت مدافعت کو بڑھانے کے لئے وٹامن سی سے بھرپورغذا کھائیں۔ آم، سڑابیری، خربوزہ اورلیموں وغیرہ میں اس کی وافرمقدارموجود ہوتی ہے۔ انہین کھانے سے مسوڑھوں سے خون آنا بند ہوجاتا ہے اوروہ زیادہ سرخ اورصحت مند نظر آتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ منہ کی صفائی محض دمکتے دانتوں اوردلکش مسکراہٹ کے لئے ہی ضروری نہیں بلکہ یہ ہمیں بہت سے مسائل سے بھی بچاتی ہے۔

summers and oral health, teeth brushing, vitamin c, avoid ice and juices

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x