ماہرین کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے دانتوں میں کیڑا زیادہ لگتا ہے۔ یہ بات مائیکرو بایوم میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مضمون میں سامنے آئی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لعاب میں گلوکوز اور فرکٹوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ اضافی شوگر منہ کے جراثیمی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ نتیجتاً کیویٹی پیدا کرنے والے جراثیم تیزی سے بڑھتے جبکہ فائدہ مند جراثیم کم ہو جاتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر اکیٹو کے مطابق بہتر شوگر کنٹرول سے دانتوں میں کیڑا لگنے اور مسوڑھوں کی بیماری دونوں کم ہوتے ہیں۔ اس سے مریض کی مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے علاج میں منہ اور دانتوں کی صحت بھی شامل ہونی چاہیے۔
Tags: دانتوں میں کیڑا ذیابیطس