بچوں کو …کیا کھلائیں‘ کیسے کھلائیں

بچپن عمر کا وہ حصہ ہے جس میں جو عادات بن جائیں‘ وہ عمر بھر ساتھ رہتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اسی عمر میں بچوں کو جنک فوڈ سے پرہیز اورمتوازن غذا کی عادت ڈالی ہے ۔ یہ کام کیسے کیا جائے‘ جانئے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کی سینیئر کلینیکل ڈائی ٹیشن بشریٰ مشتاق کے تحریر کردہ اس مضمون میں
بچوں کے حوالے سے جو امور ماﺅں کو زیادہ پریشان رکھتے ہیں‘ ان میں سے ایک بچوں کی خوراک بھی ہے۔آج ہر دوسری ماں یہ گلہ کرتی دکھائی دیتی ہے کہ اس کا بچہ کچھ کھاتا ہی نہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اچھا کھلانا چاہتے ہیں لیکن اس کے بارے میں ان میں متضاد تصورات اور رویئے پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اس سے اس کی زیادہ مقدار مرادلیتے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو احتیاط کے نام پرایسی سختی کرتے ہیں کہ ان کے بچے غذائیت سے بھرپوربہت سی چیزوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔انہیں بچے کے لئے درکارغذائی اجزاءاور ان کی درست مقدار کے ساتھ ساتھ بچوں کی ترجیحات کا بھی علم ہونا چاہئے تاکہ ان کی روشنی میں ان کے کھانے کا معمول طے کیا جا سکے ۔اس سلسلے میں مندرجہ ذیل امور قابل غور ہیں۔

 

برتن‘ بچے کی پسند کے
زندگی کے دوسرے سال میں داخل ہونے کے بعدبچہ نئی نئی چیزوں کا تجربہ کرنا چاہتا ہے اور اپنے لئے کچھ آزادی کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ خود تجربہ کرنے کے شوق میں وہ برتنوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر خود کھانے کی ضد کرتا ہے۔ ایسے میںوہ کبھی کھانا گرا دیتا ہے تو کبھی کھانے میں بہت دیر لگاتا ہے۔اس لئے مائیں اسے اس سے منع کرتی ہیں ۔ جب اسے اس کی اجازت نہیں دی جاتی تو اس کا موڈ بگڑنے لگتا ہے اور وہ کھانا چھوڑ دیتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ اسے اس قسم کے برتن لا کر دےں جنہیں وہ باآسانی پکڑ سکے اور اسے کھانے میں بھی سہولت ہو۔ اس کے علاوہ اگر بچے کو الگ بٹھانے کی بجائے اپنے ساتھ کھانے میں شامل کیا جائے تو وہ زیادہ خوشی محسوس کرے گا۔

 

روک ٹوک‘ مگرکم کم
اس عمر میں کھانے کی جو عادات بچوں کو ڈالی جائیں‘ وہ وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی چلی جاتی ہیں اورپھرعمربھر ساتھ رہتی ہیں۔ اس لئے انہیں کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے‘ کھانا آہستگی سے اورچبا چبا کر کھانے کا عادی بنانا چاہئے ۔ اگرچہ ےہ بات بہت اہم ہے کہ بچے کے کھانے کا طریقہ کیا ہے اور وہ اس کے آداب کو کس حد تک ملحوظ خاطر رکھتا ہے تاہم کھانے کے دوران زیادہ روک ٹوک بھی مناسب نہیں ورنہ وہ کھانا چھوڑ دے گا۔ اس پر کنٹرول غیرمحسوس انداز میںہونا چاہیے تاکہ وہ کھانے کو انجوائے کرسکے۔

اردگرد کا ماحول
آج کل بہت سی مائیں بچے کو کھانا دیتے ہوئے ٹی وی لگا دیتی ہیں تاکہ اس کی دلچسپی برقرار رہے۔ اس سے بچے کا دھیان کھانے سے ہٹ کر ٹی وی کی طرف ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بچے کو گاڑی میں یا چلتے پھرتے کھانا نہیں دینا چاہئے۔ اس سے نہ صرف کھانا گلے میں اٹکنے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ وہ آس پاس کے ماحول کی طرف زیادہ متوجہ ہوجاتا ہے۔ بچوں کوآرام سے بٹھا کر کھلانا چاہئے۔

ٹھونس ٹھونس کر مت کھلائیں
اکثر ماو¿ں کی کوشش ہوتی کہ ان کابچہ زیادہ سے زیادہ کھائے لہٰذا وہ زبردستی اس کا منہ کھول کر کھانا ٹھونسنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہیں چاہئے کہ اس کے برعکس تھوڑی سرونگز دن میں کئی مرتبہ کھانادیں اور کھانے کے اوقات میں مناسب وقفہ ضروردیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ دودھ سے بھرا فیڈر پلا نے کے بعد اسے کھانا کھلانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہو۔ بعض اوقات بچے کو کھانے سے پہلے جوس دے دیا جاتا ہے جس سے وہ پیٹ بھر لیتا ہے اور پھر کھانا نہیں کھاتا۔
بعض والدین بچے کو شروع سے ہی انعام کا عادی بنا دیتے ہیں۔ مثلاً پہلے کھانا کھاﺅ‘ پھر تمہیں چاکلیٹ یا فلاں چیز انعام میں دی جائے گی۔ نتیجتاً وہ کھانے پینے کے معاملے میں انعام پر ہی انحصار کرنے لگتا ہے ۔ اس کے برعکس غیر مشروط طور پر صحت بخش کھانا کھانے پر بچے کی تعریف کی جانی چاہئے ۔

کھانے ‘ بدل بدل کر
اگرچہ کھانے کے حوالے سے بچے کی پسند یا نا پسند کو مدنظر رکھنا اہم ہے، تاہم ایسا بھی نہ ہو کہ وہ جو چیزیں خوشی سے کھا رہاہو، اسے صرف وہی دی جاتی رہیں۔ اسے بریڈ میں رکھاپنیر،سبزیاں، پھل یا نرم گوشت فنگر سلائس کی صورت میں دیں تاکہ اسے ہر چیز کھانے کی عادت ہو۔ بچہ اگر کسی خاص وقت میں کوئی چیز نہیںکھانا چاہ رہا تو اسے وہ چیز کچھ دنوں کے بعدکسی اورشکل میں دے دیں۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس عمر کے بچوں کو مائیں ہر روز ایک نئی چیز بنا کر دیتی ہیں جس کے باعث وہ مختلف کھانوں کے اصل ذائقوں سے پوری طرح روشناس نہیں ہو پاتے۔ کوشش کریں کہ بچے کے کھانے کی روٹین اس طرح ترتیب دی جائے کہ وہ ذائقوں کو اچھی طرح پہچان سکے۔
بچہ چونکہ کھانے کی کم مقدار ہی لے پاتا ہے‘ اس لئے کوشش کریں کہ تھوڑی مقدار سے ہی اسے روزمرہ کی سرگرمیوں کے لئے مناسب توانائی مل جائے۔ مثال کے طور پر اسے دودھ کے ساتھ کوئی پھل شیک کی صورت میں دیا جائے تو اس کی کیلوریز کی ضرورت بخوبی پوری ہو جائے گی۔

بچے کی غذائی ضروریات
اس کی غذائیت سے متعلق چند اہم باتیں توجہ طلب ہیں:

بڑے غذائی اجزائ
ہمارے ہاں بہت سے بچے شروع سے ہی فارمولا مِلک پر ہوتے ہیں اور لمبا عرصہ اسی پر رہتے ہیں۔ ایسے میںوہ کئی طرح کے اہم غذائی اجزاءکی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ بڑے غذائی اجزاء(پروٹین، چکنائیاں اور کاربوہائیڈریٹس) مناسب مقدار میں لے رہے ہوں۔
نشوونما کے اس مرحلے میں ان کے لئے پروٹین انتہائی اہم غذائی جزو ہے۔اس لئے انہیں چکن، چھوٹا گوشت اور مچھلی وغیرہ ضرور دینی چاہئے‘ تاہم اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ ےہ چیزیں زیادہ تر تل کر نہ دی جائیں۔ ایسا کرنے سے بچوں کا رحجان تلی ہوئی چیزوں کی طرف بڑھ جاتا ہے اور پھر وہ نگٹس اور شامی وغیرہ ہی کھانے کی ضد کرتے ہیں۔ان کے عمومی کھانوں میں انڈے، پھلیاں اورپنیر (cheeze)وغیرہ بھی شامل رکھیں تاکہ ان کی پروٹین کی ضرورت پوری ہو سکے۔
ذہنی نشوونما کے لئے چکنائیاںخاص اہمیت رکھتی ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ گھر میں اگر بڑھے بوڑھوں میں سے کسی کو کولیسٹرول کی زیادتی کا مسئلہ ہو تو بچوں کو بھی ایسا کھانا دیا جاتا ہے جن میں چکنائی نہ ہونے کے برابر ہو۔ ےہ رویہ درست نہیں‘ اس لئے کہ چکنائی توانائی کا فوری ذریعہ ہے جس کی بچوں کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ دوسری طرف اس کا ےہ مطلب بھی نہیں کہ انہیں مرغن چیزیں کھلا کھلا کر موٹا کر دیا جائے۔ اسے روزانہ درکار کیلوریز میں چکنائی کا حصہ 30 فی صد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔اس کے لئے غیر سیر شدہ چکنائیوں والے کھانے مثلاً بادام، اخروٹ اور پی نٹ بٹر وغیرہ بہترین ہیں۔
توانائی کا تیسرا بڑا ذریعہ نشاستے(starch) سے بھرپور کھانے مثلاً چاول، بریڈ، پاستا، سیریل اور آلو وغیرہ ہیں۔ کوشش کریں کہ اسے فائبر سے بھرپور نشاستہ دار غذائیں ( مثلاً سیریل یا بغیر چھنے آٹے کی روٹی وغیرہ)دیں۔ اس عمر میں قبض ہونے کی زیادہ تر وجہ فائبر جیسے اہم جزو کو نظر انداز کر دینا ہے۔

چھوٹے غذائی اجزائ
چھوٹے غذائی اجزاءمیں مختلف طرح کے وٹامنز اور منرلز شامل ہیں جو بچے کی جسمانی نشوونما میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک سے تین سال کے بچوں میں وائرل انفیکشن کی شرح زیادہ ہونے کا ایک سبب ان کی کمزور قوت مدافعت بھی ہے ۔ وٹامنز اور منرلز بچے کی قوت مدافعت بڑھاتے ہےں جس سے وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ اور چاق چوبند رہتے ہےں۔
ان کی فراہمی کا بنیادہ ذریعہ سبزیاں اور پھل ہیں۔ اکثر بچے شروع شروع میں انہیں کھانے سے انکار کر دیتے ہیں لیکن انہیں خوبصورت ڈیزائنوں میں کاٹ کر دیتے رہنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف ان کی کھانے کی عادات صحت مندانہ ہوں گی بلکہ وہ قبض اور موٹاپے سے بھی بچیں گے۔ گھر کے دیگر افراد اگر پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کریں گے تو ان کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی ۔
بچوں میں کھانے پینے کی صحت مندانہ عادات منتقل کرنے کے لئے والدین کی اپنی غذائی عادات کا صحت مندانہ ہونابھی ضروری ہے۔ اس کے بغیر ساری باتیں اور کوششیں بیکار جائیں گی ۔

Vinkmag ad

Read Previous

لڑکپن میں انٹرنیٹ کا استعمال متوازن ڈیجیٹل ڈائٹ

Read Next

ڈیجیٹل ایپس

Most Popular